❄️❄️ عنوان: رمضان، غمگساری اور دینی مدارس

⭐️⭐️ تحریر: پروفیسر مسعود اختر ہزاروی

 

🌙🌙 اشاعت: بروز ہفتہ 16 اپریل 2022

روزنامہ اوصاف کے تمام ایڈیشنز کے ادارتی صفحہ نمبر ایک پر

♻️♻️♻️🏝🏝🏝♻️♻️♻️🏝🏝🏝

 

الحمد للہ۔۔۔ زندگی میں ایک دفعہ پھر رمضان المبارک کا با برکت مہینہ نصیب ہوا اور اب اس کا مغفرت والا عشرہ گزر رہا ہے۔ پچھلے دو سالوں سے کورونا وائریس کے سبب مساجد پر پابندیاں رہیں جس کی بنا پر کچھ رونقیں ماند پڑی رہیں لیکن اس سال حالات معمول پر آچکے ہیں۔ غم گساری کے اس مہینے میں مسلمان باقی عبادات کے ساتھ ساتھ غرباء کی مدد کیلئے عطیات بھی بڑھ چڑھ کر دیتے ہیں۔ احادیث مبارکہ کے مطابق رمضان شریف کا مہینہ جہاں نیکیوں کا موسم بہار ہے وہاں غریب پرور بھی ہے۔ ہمارے پیارے نبی کریمﷺ نے اس ماہ مبارک کو غمگساری اور ایک دوسرے کے دکھ درد بانٹنے کا مہینہ قرار دیا ہے۔اگر ہر مسلمان اپنی پوری زکوۃ نکال کر مستحقین میں تقسیم کرے تو مسلمان معاشروں میں عملا غربت ختم ہو جائے۔ دنیا کی زندگی دار الامتحان ہے۔ اﷲ کریم نے کسی کو امیر کرکے امتحان لیا تو کسی کو غربت رکھ کے۔ پھر امیروں کے مالوں میں غریبوں کا حق رکھ دیا اور فرمایا ’’وفی اموالہم حق للسائل والمحروم (الذاریات19)‘‘کہ ہم نے ان صاحب ثروت لوگوں کے مال میں دست سوال دراز کرنے والوں اور محروم طبقات کا حق رکھ دیا ہے۔ جن کو عطیات دیے جائیں ان کو احسان جتلانے اور عزت نفس مجروح کرنے سے بھی روکا گیا۔ اس سے صدقات و خیرات کا اجر ضائع ہوجاتا ہے۔ صدقۃ الفطر کو ہر صاحب حیثیت پر اسی لئے فرض کیا گیا تاکہ غرباء بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہوسکیں۔ اس کی بظاہر حکمت بھی یہی دکھائی دیتی ہے کہ ﷲ کریم اپنے بندوں کو ایک پیغام دیتے ہیں کہ اے بندے تو نے اپنے لیے راہ نجات کی تلاش اور میری خوشنودی کیلئے مہینہ بھر بہت عبادات کیں۔ لیکن میرے حکم کے باوجود میری زمین پر بسنے والے ایک غریب آدمی کو پیٹ بھر کے کھانا تک نہیں کھلا سکا۔ جب تم اسے کھانا کھلاؤ گے تو میں تیری عبادات کو بھی شرف قبولیت عطا کردوں گا۔ وہ لوگ جو اپنے عطیات غرباء تک خود نہیں پہنچا سکتے ان کی وکالت کرتے ہوئے فلاحی ادارے خدمات سرانجام دیتے ہیں۔ ان خیراتی اداروں پر بھی بہت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ جن غریبوں اور بے کسوں کی غربت و لا چارگی کے نام پر عطیات اکٹھے کرتے ہیں ، پوری ذمہ داری کے ساتھ ان تک پہنچائیں۔ لوگ ان خیراتی اداروں پر اعتماد کرتے ہیں لہذاکسی بھی صورت اس اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچنی چاہیے۔ بحیثیت مسلمان ہمارا یقین کامل ہے کہ یوم حساب بہت قریب ہے اور احکم الحاکمین کی عدالت میں پائی پائی کا حساب دیناہوگا۔ قرآن پاک کی رو سے یتیموں کا مال کھانے والا پیٹ میں جہنم کے انگارے ڈال رہا ہوتا ہے، حد درجہ احتیاط لازم ہے۔ انفرادی طور پر بھی ملک سے باہر بسنے والے لوگ اپنے اپنے آبائی علاقوں میں رقوم بھیج کر یتیموں، بیواؤں اور بے کسوں کی مدد کرتے ہیں۔ غریب ممالک خصوصا پاکستان میں غرباء اور دہاڑی دار مزدوروں کی حالت ناگفتہ بہ ہے، اس لئے بڑھ چڑھ کر ان لاچار، بھوک و افلاس کے شکار لوگوں کی خدمت کی ضرورت ہے۔ پچھلے دو سال کورونا کی وجہ سے زندگی کے دیگر شعبہ جات کی طرح دینی ادارے بھی بہت حد تک متاثر ہوئے۔ ان حالات میں دینی مدارس اور مساجد انتہائی مشکلات کا شکار ہیں۔ جو لوگ کہیں بھی مساجد و مدارس کے ساتھ تعاون کرتے تھے ان حالات میں بھی اپنا معمول کا تعاون جاری رکھیں تاکہ ﷲ کے یہ گھر اور دین کے مراکز آباد رہیں۔ اس وجہ سے ان اداروں میں خدمات سرانجام دینے والے ہزاروں اساتذہ اور لاکھوں زیر تعلیم بچے متاثر ہوں گے۔ بیرون و اندرون ملک مقیم اصحاب ثروت کا فرض منصبی ہے جہاں غرباء و مساکین کی مدد کر رہے ہیں، وہاں خصوصی طور پر دینی اداروں کو بھی ہر گز نہ بھولیں۔ ان کے ساتھ مالی تعاون کر کے ان کے نظام کو بحال رکھیں اور انہیں بند ہونے سے بچائیں۔ ان مدارس کے فیض یافتہ علماء اور سکالرز بھی اس حوالے سے اپنے فرض منصبی کو بطریق احسن نبھائیں۔ لبرلز اور اسلام دشمنوں کی طرف سے دینی مدارس کے خلاف منفی پراپیگنڈہ اور ہرزہ سرائی بھی دیکھنے سننے کو ملتی رہتی ہے اس لئے ان اداروں کی اہمیت کو واضح کرنا بھی ضروری ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلمانوں پر اک طرف الحاد کی صورت میں اعتقادی و فکری اور دوسری جانب بے راہ روی اور فحاشی کی یلغار کی جارہی ہے۔ ان یلغاروں کی سامنے اگر کوئی سیسہ پلائی ہوئی دیوار اور اسلام کے قلعے ہیں تو وہ بلا شبہ ’’دینی مدارس‘‘ ہیں۔ پاکستان میں دینی مدارس طلبہ کو مفت تعلیم دے کر شرح خواندگی کے گراف کو بلند کرنے کا بڑا ذریعہ ہیں۔ایک اندازے کے مطابق دینی مدارس کا نظام روزانہ کم از کم 35 لاکھ لوگوں کو مفت روٹی، کپڑا اور رہائش فراہم کرتا ہے۔ہے کوئی این ۔جی۔ او یا فلاحی نظام جو پاکستان میں روزانہ دس لاکھ لوگوں کی بھی مفت خوراک اور تعلیم و تربیت کا اہتمام کر رہا ہو؟ دعوت و تبلیغ اور دینی اخبارات و جرائد کا نظام دینی مدارس کا ہی مرہون منت ہے۔سب سے بڑھ کر یہ کہ اسلام کے تشخص کو ہر زمانے میں قائم رکھنے کا ذریعہ بھی مدارس دینیہ ہی ہیں۔ایک موقع پرشاعر مشرق علامہ اقبال رح نے دینی مدارس کے متعلق کہا تھا کہ ’’ان مکتبوں کو اسی حالت میں رہنے دو، غریب مسلمانوں کے بچوں کو انہیں مدارس میں پڑھنے دو۔ اگر یہ ملا اور درویش نہ رہے تو جانتے ہو کیا ہوگا؟ جو کچھ ہوگا میں انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھ آیا ہوں۔اگر ہندوستانی مسلمان ان مدرسوں کے اثر سے محروم ہوگئے تو بالکل اسی طرح ہوگا جس طرح اندلس میں ہوا۔ مسلمانوں کی آٹھ سو برس کی حکومت کے باوجود آج غرناطہ اور قرطبہ کے کھنڈرات اور الحمراء کے نشانات کے سوا سلامی تہذیب کے آثار کا کوئی نقش نہیں ملتا، ہندوستان میں بھی آگرہ کے تاج محل اور دلی کے لال قلعے کے سوا مسلمانوں کے آٹھ سو سالہ حکومت اور ان کی تہذیب کا کوئی نشان نہیں ملے گا‘‘۔ ﷲ کریم اس رمضان شریف میں ہمیں اپنا شکرگزار بندہ بننے کی توفیق دے۔ وباؤں اور ناگہانی آفتوں سے نجات عطا کرے۔ آمین

خوشا مسجد و مدرسہ خانقاہے

کہ در وے بود قیل و قال محمدﷺ

Pakistan Wants To Reform Madrassas. Experts Advise Fixing Public Education  First : NPR