انگریز کے وفادار اور ایجنٹ کون ؟؟؟ | محدث فورم [Mohaddis Forum]

9 اپریل 2022 قومی اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہوکر مولانا فضل الرحمٰن کے بیٹے نے اُس وقت برسرِ اقتدار پارٹی کے ممبران کو للکا کر کہا ” میرے شجرہ نسب میں سے تیسری پُشت اِس پارلیمان کا حصہ ہے، میرا بھی شجرہ نسب نکالا جائے اور اُس فلور کے ممبران کا بھی شجرہ نسب نکالا جائے کون فرنگیوں سے لڑ رہا تھا اور کون فرنگیوں کی مخالفت کررہا تھا “

۔

مولانا صاحب نے شاید اپنے بزرگوں کی سیرت نہیں پڑھی اِس لئے بہت بڑا دعویٰ کرگئے ۔اگر اپنے بزرگوں کی سیرت کا اُنہیں علم ہوتا تو کبھی ایسی بات نہیں کرتے ۔نانوتوا اور گنگوہ کا فیض جہاں جہاں پنہچا وہاں عقائد حقہ تو مسخ ہوئے ہی ہوئے پر تاریخ کو بھی مسخ کرنے کی روایت چل نکلی ۔۔۔۔۔

۔

ہم عرض کرتے ہیں مولانا صاحب ہم آپ کے بزرگوں کی تاریخ آپ کے ہم عقیدہ علماء کی زبانی بیان کریں گے، ٹھنڈے دل ودماغ سے پڑھ کر فیصلہ کیجئے گا کہ آپ کے بزرگ فرنگیوں کے مددگار تھے یا اُن کے خلاف ۔۔۔۔

۔

حقیقت واضح ہوجانے پر سیاست بےشک مت چھوڑئیے گا مگر منافقت ضرور چھوڑئیے گا

کیونکہ لبرلز آپ اور آپ ابا جیسے مولویوں کا کردار دیکھ دین سے بدظن ہوتے ہیں ،دینداروں پر تبرا کرتے ہیں ۔

۔

ویسے آپ ہوں یا ہی ڈی ایم میں شامل اور جماعتیں، اِسی طرح آپ کا مخالف سیاسی جماعت پی ٹی آئ ۔۔۔۔۔اِن تمام حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف اکثر جماعتوں کے اکثر اراکین فرنگیوں کے بہی خواہ اور ہمددر تھے ۔فرنگیوں کے وفادار اور مجاہدینِ جنگِ آزادی کی جاسوسیاں کرکے اُنہیں انگریزوں کے ہاتھوں پکڑوانے میں پیش پیش تھے ۔

 

آپ کا ہم عقیدہ وہم مشرب مولوی عاشق الٰہی میرٹھی دیوبندی آپ کے دادا محمود دالحسن دیو بند کے مرشد مولانا رشید احمد گنگوہی کے متعلق تذکر الرشید (جس کو متعدد بار دیوبندی مکتبے چھاپ بھی چکے ہیں) میں لکھتا ہے “آپ حضرات یعنی گنگوہی ونانوتوی صاحبان اپنی مہربان سرکار کے دِلی خیرخواہ تھے تازیست خیر خواہ ہی ثابت رہے ۔

تذکر الرشید جلد اول صفحہ 79

۔

علمائے دیوبند ایک مرتبہ حریت پسندوں سے مقابلہ بھی ہوا چنانچہ مولوی عاشق الٰہی میرٹھی دیوبندی تذکر الرشید صفحہ نمبر 74 پر لکھتے ہیں “ایک مرتبہ ایسا بھی اتفاق ہوا کہ اِمام ربّانی (مولانا رشید احمد گنگوہی) اپنے رفیق جانی مولانا قاسم العلوم (مولانا محمد قاسم نانوتوی اور طبیب روحانی اعلیٰحضرت حاجی صاحب و نیز ضامن صاحب کے ہمراہ تھے کہ بندوقچیوں کا مقابلہ ہوگیا ۔یہ نبردآزما جتھا اپنی سرکار کے مخالف باغیوں کے سامنے بھاگنے یا ہٹ جانے والا نہ تھا، اسی لئے اٹل پہاڑ کی طرح پراجمان کر ڈٹ گیا اور سرکار پر جانثاری کےلئے تیار ہوگیا ۔

 

۔

1857 کی جنگِ آزادی کے وقت بعض علمائے دیوبند وعمائدِ دیوبند کا ایک ہنگامی اجلاس ہوتا ہے، جنگِ آزادی کے بارے میں غور کیا گیا، گفتگو کیا ہوئ ملاحظه فرمائیے ۔چنانچہ تذکرہ علمائے ہند کے مصنف جناب محمد ایوب صاحب لکھتے ہیں! تھانہ بھون میں حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی، حافظ محمد ضامن، مولانا شیخ محمد تھانوی، مولانا محمد مظھر نانوتوی، مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا محمد قاسم نانوتوی اور قاضی عنایت علی وغیرہ نے مجلسِ مشاورت منعقد کی، اس مجلس میں مولانا محمد احسن بھی شریک ہوئے ( یہ مولانا محمد احسن وہی ہیں جنھوں نے بریلی شریف میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ برٹش حکومت کی مخالفت خلاف شرع ہے، اہلیانِ بریلوی کو بات انتہائی ناگوار گزری ، موصوف بڑی مشکل سے جان بچاکر بھاگے تھے) مولانا شیخ محمد تھانوی نے جہاد کے خلاف رائے دی اور فرمایا جب قاضی عنایت علی جنگ کے دوران خاموش رہے اور حاضرینِ مجلس میں سے بھی اُس وقت کسی نے اُس کو جہاد سمجھ کر اُس میں حصہ نہ لیا تو اِس وقت انتقام کا جذبہ کارفرما ہے اِس لڑائی کو جہاد کیسے کہا جاسکتا ہے ۔

۔

مزید تفصیل کےلئے پڑھئے کتاب ” برطانوی مظالم کی کہانی “مصنفہ حکیم اختر شاہجہانپوری رحمۃ اللہ علیہ ۔

✍️ ابو حاتم

16/04/2022/