أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حُوۡرٌ مَّقۡصُوۡرٰتٌ فِى الۡخِيَامِ‌ۚ ۞

ترجمہ:

بڑی آنکھوں والی حوریں ہیں جو خیموں میں باپردہ ہیں

” مقصورات “ اور خیموں کے معانی

الرحمن :72-73 میں فرمایا : بڑی آنکھوں والی حوریں ہیں جو خیموں میں باپردہ ہیں۔ سو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گے۔

یعنی جنت کی حوروں کو ان کی عزت اور کرامت کی وجہ سے خیموں میں باپردہ رکھا گیا ہے۔

علامہ علی بن محمد الماوردی المتوفی 450 ھ لکھتے ہیں۔ اس آیت میں ” مقصورات “ کا لفظ ہے اور اس کے حسب ذیل معانی ہیں۔

1 مجاہد نے کہا : وہ اپنی نظریں صرف اپنے شوہروں پر مرکوز اور ان ہی پر منحصر رکھیں گی اور اپنے شوہروں کے علاوہ کسی اور مرد کی طرف نگاہ اٹھا کر نہیں دیکھیں گی۔

2 حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : وہ اپنے گھروں میں محصور رہیں گی، راستوں میں نہیں گھومیں گی۔

3 زید بن الحارث اور ابو عبیدہ نے کہا : وہ پردہ دار اور محفوظ ہوں گی، شوقین مزاج نہیں ہوں گی۔

4 حسن بصری نے کہا : وہ قصور یعنی محلات میں رہنے والی ہوں گی۔

اور خیموں کے متعلق تین قول ہیں :

1 ابن بحر نے کہا : خیموں سے مراد گھر ہیں

2 سعید بن جبیر نے کہا : جنت سے باہر ان کے خیمے لگائے جائیں گے جیسے خانہ بدوشوں کے خیمے ہوتے ہیں

3 حضرت ابن مسعود (رض) نے کہا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان کے خیمے کھوکھلے موتی ہیں : (تفسیر امام ابن ابی رقم الحدیث 18762)

(النکت و العیون ج 5 ص 442-443، دارالکتب العلمیہ، بیروت)

حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا : ہر مسلمان کو ایک نیک سیرت حور ملے گی اور ہر نیک سیرت حور کے لئے ایک خیمہ ہوگا، اور ہر خیمہ کے چار دروازے ہوں گے جن سے ہر روز اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدیے اور تحفے آئیں گے اور جو اس سے پہلے آئے تھے اور وہ نیک سیرت والی بیویاں نہ اترانے والی ہوں گی نہ شوہر کی نافرمانی کرنے والی ہوں گی اور نہ ان کے منہ اور ان کے جسم سے بدبو آئے گی وہ بڑی آنکھوں والی حوریں ہیں گویا کہ وہ پوشیدہ انڈے ہیں۔

(تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث 18763 ج 10 ص 3328 مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ 1417 ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 55 الرحمن آیت نمبر 72

سورة  الرحمن الآية رقم 72