أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فِيۡهِنَّ خَيۡرٰتٌ حِسَانٌ‌ۚ ۞

ترجمہ:

ان جنتوں میں خوب صورت خوب سیرت بیویاں ہیں

آیا جنت میں مومنوں کی بیویاں زیادہ حسین ہوں گی یا جنت کی حوریں

الرحمن :70-71 میں فرمایا : ان جنتوں میں خوب صورت، خوب سیرت بیویاں ہیں۔ سو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گے۔

اس آیت میں ” خیرات “ کا لفظ ہے یہ دراصل ” خَیّرات “ تھا، تخفیف کے لئے ایک ” یا “ کو حذف کردیا۔

سعید بن عامرنے کہا : اگر ” خیرات حسان “ میں سے کوئی ایک آسمان پر آجائے تو تمام آسمان روشن ہوجائے گا اور سورج اور چاند کی روشنی ماند پڑجائے گی۔

” حسان “ کا معنی ہے جس کی صورت حسین ہو اور اس کے حسن کا کون اندازہ کرسکتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے حسین فرمایا ہو۔

زہری اور قتادہ نے کہا : ان کے اخلاق بہت نیک اور عمدہ ہیں اور ان کی صورت بہت حسین ہے۔

ابو صالح نے کہا : وہ سب دوشیزہ اور کنواری ہیں۔

ترمذی نے کہا : ’ خیرات ‘ کا معنی ہے : جس کو اللہ تعالیٰ نے اختیار کرلیا اور چن لیا اور اپنے اختیار سے ان کی تخلیق کو بہت حسین اور بہت عمدہ بنایا اور وہ اللہ تعالیٰ کے اختیار کے مقابلہ میں انسانوں کے اختیار کی کیا حیثیت ہے وہ صرف اپنے شوہروں کو دیکھنے والی ہوں گی اور گویا کہ وہ یاقوت اور مرجان ہیں، حدیث میں ہے :

حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جنت میں بڑی آنکھوں والی حوروں کے جمع ہونے کی ایک جگہ ہے، وہ وہاں پر اپنی آواز بلند کریں گی، ایسی آواز کسی مخلوق نے نہیں سنی ہوگی، وہ کہیں گے، ہم ہمیشہ رہنے والی ہیں ہم کبھی ہلاک نہیں ہوں گی، ہم نعمتوں والی ہیں، ہم کبھی محتاج نہیں ہوں گی اور ہم اپنے (شوہروں) سے راضی ہونے والی ہیں، سو ہم ان سے کبھی ناراض نہیں ہوں گی، اس کے لئے مبارک ہو جو ہمارے لئے ہے اور ہم جس کے لئے ہیں۔

جس عورت کے متعدد شوہر ہوں وہ جنت میں کس شوہر کے پاس رہے گی ؟

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ حضرت ام سلمہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ : مجھے اللہ عزو جل کے اس ارشاد کے متعلق بتائے ” الواقعہ 22) بڑی آنکھوں والی حوریں آپ نے فرمایا : ” حور “ کا معنی ہے : سفید اور ” عین “ کا معنی ہے، موٹی آنکھ والی، ان کی پلک کر گس کے پر کی طرح ہوگی۔

میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! مجھے اللہ عزوجل کے اس ارشاد کے متعلق بتائیے :” الرحمن 58) گویا کہ وہ یاقوت اور مونگے کی مثل ہیں آپ نے فرمایا وہ اس طرح صاف اور شفاف ہوں گی جس طرح سیپی میں موتی ہوتا ہے، جس کو کسی نے نہ چھوا ہو۔

میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ مجھے اللہ عزوجل کے اس ارشاد کے متعلق بتائیے : (الرحمن 70) ان میں نیک سیرت اور حسین حوریں ہیں، آپ نے فرمایا : ان کے اخلاق اچھے ہوں گے اور ان کے چہرے حسین ہوں گے۔

میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے متعلق بتائیے :” الصفت :49)

آپ نے فرمایا : ان حوروں کی جلد (کھال) اس طرح رقیق اور باریک ہوگی جیسے انڈے کی وہ جلد ہوتی ہے جو اس کے چھلکے کے قریب ہوتی ہے۔

میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے متعلق بتائے : (الواقعہ 37) محبت کرنے والی ہم عمر آپ نے فرمایا : یہ وہ عورتیں ہیں، جو اس دنیا میں بڑھاپے میں فوت ہوئیں اللہ تعالیٰ انہیں بوڑھی ہونے کے بعد دوشیزہ اور کنواری بنا دے گا آپ نے فرمایا :” عرباً “ کا معنی ہے : عشق اور محبت کرنے والیاں اور ” اتراباً “ کا معنی ہے : ہم عمر۔

میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ : آیا دنیا کی عورتیں افضل ہیں یا بڑی آنکھوں والی حوریں ؟ آپ نے فرمایا : دنیا کی عورتیں، بڑی آنکھوں والی حوروں سے اس طرح افضل ہیں جس طرح ابری، استر سے افضل ہوتی ہے۔ میں نے کہا : یا رسول اللہ وہ کس وجہ سے ؟ آپ نے فرمایا : وہ ان کی نمازوں اور اللہ کے لئے ان کے روزوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کے چہروں پر نور پہنائے گا اور ان کے جسموں پر ریشم کا لباس پہنائے گا، ان کا رنگ سفید ہوگا اور ان لباس سبز رنگ کا ہوگا، وہ سونے کے زیورات پہنے ہوں گی، ان کی انگیٹھیاں موتی کی ہوں گی اور ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی، وہ کہیں گے : سنو ! ہم ہمیشہ رہنے والیاں ہیں، ہمیں کبھی موت نہیں آئے گی، ہم ہمیشہ نعمتوں میں رہیں گی اور ہم کبھی خوف زدہ نہیں ہوں گی، سنو ! ہم ہمیشہ قیام پذیر رہیں گی اور کبھی سفر نہیں کریں گی، ہم ہمیشہ (اپنے شوہروں) سے راضی رہیں گی اور کبھی ناراض نہیں ہوگی : اس کو مبارک ہو جس کے لئے ہم ہیں اور وہ ہمارے لئے ہے۔

میں نے عرض کیا کہ ہم میں سے کوئی عورت دنیا میں کبھی دو شوہروں سے عقد کرتی ہے، کبھی تین سے اور کبھی چار سے، پھر وہ فوت ہوجاتی ہے اور جنت میں داخل ہوجاتی ہے اور اس کے شوہر بھی جنت میں داخل ہوجاتے ہیں تو وہ جنت میں کون سے شوہر کے پاس رہے گی ؟ آپ نے فرمایا : اے ام سلمہ : اس کو اختیار دیا جائے گا اور وہ اس شوہر کو اختیار کرے گی جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں گے، وہ عورت کہے گی : اے میرے رب ! یہ شخص دنیا میں میرے ساتھ سب سے اچھے اخلاق کے ساتھ رہا تھا، سو تو میرا اس سے نکاح کردے، اے ام سلمہ : دنیا اور آخرت کی خیر اچھے اخلاق کے سبب سے ہے۔

(المعجم الاوسط رقم الحدیث 3165) مکتبۃ المعارف ریاض المعجم الاوسط رقم الحدیث 3141 دارالکتب العلمیہ، بیروت)

حافظ الہیمیشی نے کہا : اس حدیث کی سند میں سلیمان بن ابی کریمہ ضعیف راوی ہے۔ (مجمع الزوائد ج 10 ص 420)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جس عورت کے دنیا میں کئی شوہر رہے ہوں وہ جنت میں اس شوہر کے پاس رہے گی جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں گے اور اس کے معارض یہ حدیث ہے :

حضرت ابوالدرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس عورت کا خاوند فوت ہوگیا، اس کے بعد اس عورت نے کسی اور شخص سے شادی کی تو وہ عورت اپنے بعد والے خاوند کو ملے گی۔

(المعجم الاوسط رقم الحدیث 3154، تاریخ بعداد ج 9 ص 228، کنزالعمال الحدیث 4557 المطالب العالیہ رقم الحدیث 1673)

حافظ الہیمشی نے کہا : اس حدیث کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابی مریم ہے، وہ مختلط ہے (مجمع الزوائد ج 4 ص 270)

اس تعارض کا جواب یہ ہے کہ جو عورت جس خاوند کے نکاح میں فوت ہوگی وہ اسی خاوند کو ملے گی یا اس نے اپنے خاوند کے فوت ہونے کے بعد کسی اور شخص سے نکاح نہ کیا ہو اور اسی حال میں وہ فوت ہوگئی ہو تو وہ اپنے اسی خاوند کو ملے گی۔

اور جس عورت نے کئی مردوں سے نکاح کیا اور سب نے اس کو طلاق دے دی اور جب وہ فوت ہوئی تو وہ کسی کے نکاح میں نہ تھی تو اس کو جنت میں اختیار دیا جائے گا کہ جس مرد کے اس کے ساتھ سب سے اچھے اخلاق رہے ہوں وہ اس سے نکاح کرلے۔

حوروں کے متعلق سید مودودی کے انوکھے نظریہ پر بحث و نظر

سید ابو الاعلیٰ مودودی نے اس بحث میں ایک بہت عجیب و غریب بات لکھی ہے، وہ حوروں کے متعلق لکھتے ہیں :

رہی حوریں تو وہ اپنے کسی حسن عمل کے نتیجہ میں خود اپنے استحقاق کی بناء پر جنتی نہیں بنیں گی بلکہ اللہ تعالیٰ جنت کی دوسری نعمتوں کی طرح انہیں بھی اہل جنت کے لئے ایک نعمت کے طور پر جوان اور حسین و جمیل عورتوں کی شکل دے کر جنتیوں کو عطا کر دے گا تاکہ وہ ان کی صحبت سے لطف اندوز ہوں۔ لیکن بہر حال یہ جن و پری کسی قسم کی مخلوق نہ ہوں گی، کیونکہ انسان کبھی صحبت ناجنس سے مانوس نہیں ہوسکتا۔ اس لئے اغلب یہ ہے کہ یہ وہ معصوم لڑکیاں ہوں گی جو نابالغی کی حالت میں فوت ہوگئیں اور ان کے والدین جنت کے مستحق نہ ہوئے کہ وہ ان کی ذریت کی حیثیت سے جنت میں ان کے ساتھ رکھی جائیں۔

(تفہیم القرآن ج 5 ص 273، ادارہ ترجمان القرآن لاہور اپریل 1982)

سید ابوالاعلیٰ مودودی نے ” اغلب یہ ہے “ کے ساتھ جو حوروں کی طبع زاد تعریف کی ہے وہ صحیح نہیں ہے، پہلی بات تو یہ ہے کہ نابالغ لڑکیوں پر معصوم کا اطلاق صحیح نہیں ہے انبیاء علہیم السلام اور فرشتوں کے سوا اور کوئی معصوم نہیں ہے، نابالغ بچے غیر مکلف ہوتے ہیں معصوم نہیں ہوتے۔

دوسری بات یہ ہے کہ نابالغ لڑکیاں تو قیامت، حشر و نشر اور حساب کتاب کے بعد جنت میں جائیں گی، جب کہ حوریں تو اب بھی جنت میں موجود ہیں پھر نابالغ لڑکیوں کو حوریں قرار دینا کس طرح درست ہوگا ؟ حوریں اب بھی جنت میں ہیں، اس پر دلیل یہ حدیث ہے :

حضرت معاذ بن جبل (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو عورت دنیا میں اپنے خاوند کو ایذاء پہنچاتی ہے تو بڑی آنکھوں والی حور جو جنت میں اس کی بیوی ہوتی ہے وہ اس عورت سے کہتی ہے اللہ تجھے ہلاک کر دے، یہ شخص دنیا میں تیرے پاس عارضی طور پر ہے اور عن قریب تجھ سے جدا ہو کر ہماری طرف آئے گا۔

(سنن ترمذی رقم الحدیث 1174، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث 2014، مسند احمد ج 5 ص 242)

حوروں کے متعلق تحقیق یہ ہے کہ وہ آدم زاد نہیں ہوں گی، لیکن انسانوں کے لئے اللہ تعالیٰ انسانوں کی جنس سے حوریں بنائے اور جنات کے لئے جنات کی جنس سے حورتیں تخلیق فرمائے گا جیسا کہ اکثر مفسرین نے لکھا ہے۔

ایک بحث یہ ہے کہ جنت کی حورتیں زیادہ حسین و جمیل ہیں یا دنیا کی (مومنہ) عورتیں ایک قول یہ ہے کہ حوریں زیادہ حسین و جمیل ہیں کیونکہ قرآن و سنت میں ان کا بہت زیادہ حسن و جمال بیان کیا گیا ہے حدیث میں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کے جنازہ میں یہ دعا پڑھی۔ (عوف بن مالک (رض) روایت کرتے ہیں کہ آپ نے دعا میں فرمایا :)

اے اللہ ! اس کی مغفرت فرما اور اس پر رحم فرما اور اس کو معاف کر دے اور اس کو عافیت میں رکھ اور اس کی اچھی مہمانی کر اور اس کی قبر کو وسیع فرما اور اس کو برف اور اولوں کے پانی سے دھو دے اور اس کو گناہوں سے اس طرح پاک اور صاف کر دے جس طرح سفید کپڑے کو میل کچیل سے پاک اور صاف کردیا جاتا ہے اور دنیا کے گھر سے اس کو اچھا گھر عطا فرمایا اور دنیا کے اہل سے اس کو اچھے اہل عطا فرما اور دنیا کی بیوی سے اس کو اچھی بیوی عطا فرما اور اس کو قبر کے عذاب سے اور دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھ۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث 963، مسند احمد ج 6 ص 23)

حبان بن ابی جبلہ نے کہا کہ دنیا کی عورتوں میں سے جو جنت میں داخل ہوجائیں گی ان کو دنیا میں اپنے نیک اعمال کی وجہ سے بڑی آنکھوں والی حوروں پر فضلیت دی جائے گی۔

حسن بصری نے کہا کہ قرآن مجید میں جن بڑی آنکھوں والی حوروں کا ذکر کیا گیا ہے یہ وہ مومنات ہیں جو انبیاء (علیہم السلام) کی ازواج ہیں اور عام مومنین کی ازواج ہیں ان کو آخرت میں زیادہ حسین صورت میں پیدا کیا جائے گا۔

اور مشہور یہ ہے کہ بڑی آنکھوں والی حوریں دنیا کی عورتوں کی جنس سے نہیں ہیں، ان کو صرف جنت میں پیدا کیا گیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (الرحمن 74) اور حوروں کو ان کے شوہروں سے پہلے نہ کسی انسان نے چھوا ہے نہ جن نے۔

اور دنیا کی اکثر عورتیں وہ ہیں جن سے پہلے جماع کیا جا چکا ہے اور اس لئے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عورتیں جنت میں سب سے کم سکونت رکھنے والی ہیں پس ہر جنتی شخص کو اس کی دنیاوی بیوی نہیں ملی گے اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ بڑی آنکھوں والی حوروں کا وعدہ فرمایا ہے : اس سے واضح ہوگیا کہ جنت کی حوریں دنیا کی مومنات سے مختلف ہیں۔ ( الجامع الاحکام القرآن جز 17 ص 169-170 الکشف و البیان ج 9 ص 194)

جنت کی حوریں دنیا کی عورتوں سے مختلف ہوں گی، اس پر دلیل یہ حدیث ہے :

حضرت ابن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ جنت کی عورتیں میں سے ایک عورت کی پنڈلی کی سفیدی ستر حلّوں کے پار سے نظر آئے گی، حتیٰ کہ اس کی ہڈی کا مغز بھی دکھائی دے گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق فرمایا ہے :

گویا کہ وہ حوریں یا قوت اور مونگے کی مثل ہوں گی۔ (الحمن 58)

(سنن الترمذی رقم الحدیث 2533)

القرآن – سورۃ نمبر 55 الرحمن آیت نمبر 70

سورة  الرحمن الآية رقم 70