نفرت کا بلڈوزر!!

غلام مصطفےٰ نعیمی

روشن مستقبل دہلی

 

یوں تو بھارت میں کھان پان سے لیکر زبان وبیان اور رسم ورواج تک میں بہت زیادہ فرق پایا جاتا ہے لیکن ایک چیز ایسی ہے جو پورے ملک میں یکساں طور پر پائی جاتی ہے اور وہ ہے مسلم دشمنی!

 

جی ہاں مسلم دشمنی!

 

یہ وہ جذبہ ہے جو کشمیر سے کنیاکماری تک ہر علاقے، ہر صوبے اور ہر ضلع میں یکساں ہے۔حکم ران ہو کہ انتظامی افسران، مسلم دشمنی میں کوئی کسی سے کم نہیں دکھنا چاہتا، اس لیے جیسے ہی مسلمانوں کو ہراساں کرنے کا کوئی نیا طریقہ ایجاد ہوتا ہے، وہ جلد ہی پورے ملک میں پھیل جاتا ہے۔پھر اسی کے ذریعے مسلمانوں کو ستایا جاتا ہے۔ایسا ہی ایک ہتھیار آج کل بلڈوزر بنا ہوا ہے۔

 

بلڈوزر کا سیاسی استعمال_______

 

________بلڈوزر کے سیاسی استعمال کی شروعات یوپی سے ہوئی، جہاں طاقت ور مسلم لیڈروں کے خلاف بلڈوزر کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔قانونی پیچیدگیوں کا سہارا لیکر ان کے گھر/مکان/اسکول/اسپتال اور دکانوں پر بلڈوزر چلائے گیے۔اس کاروائی کے پس پشت حکومت کے دو مقصد تھے:

1۔مسلم عوام میں خوف پیدا کرنا

2۔اکثریتی سماج کو خوش کرنا

 

ہم یہ نہیں کہتے کہ سارے مسلم لیڈر دودھ کے دھلے ہیں، اور ان کی ساری جائدادیں صاف ستھری اور کھری ہیں، لیکن یہاں سوال کاروائی کا نہیں بلکہ اس نیت کا ہے جس کا مقصد غیر قانونی تجاوزات مٹانا نہیں بلکہ “مسلم طاقت” کو زمیں دوز کرنا اور مسلم عوام میں اپنا خوف بٹھانا ہے۔ورنہ غیر مسلم لیڈروں کی غیر قانونی جائدادیں کیا کم ہیں مگر یہاں تو مقصد ہی دوسرا تھا اس لیے غیر مسلم لیڈروں کو پوچھ تاچھ تک کی زحمت نہیں دی گئی۔

مسلم لیڈروں کو زمیں دوز کرنے کی شروعات رامپور سے ہوئی جہاں اعظم خان کے بنائے ہوئے “اردو گیٹ” پر حکومت/انتظامیہ نے بلڈوزر چلا دیا۔بتایا گیا کہ اس کی اونچائی کم تھی، عوامی شاہراہ پر اتنی کم اونچائی والی تعمیر غیر قانونی ہے۔

آپ ماتھا پیٹیں یا سر، لیکن آپ طے نہیں کر پائیں گے، کہ جب یہ دروازہ تعمیر ہوا اس وقت کی انتظامیہ کیوں خاموش تھی؟

اگر اونچائی کم ہی تھی تو اسے بہ آسانی اونچا اٹھایا جاسکتا تھا جیسا کہ بڑی بڑی عمارتوں کو اٹھا کر اونچا کیا جاتا ہے، لیکن یہ کام تب ہوتا جب نیت صاف ہوتی، یہاں نیت قانون کی پاس داری نہیں بلکہ اعظم خان روپی اس مسلم طاقت کو گھٹنوں پر بٹھانے کی تھی جو شرپسند عناصر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتی ہے۔

اردو گیٹ کی مسماری کے بعد یوپی کا بلڈوزر پورے صوبے میں چنگھاڑا، جب جب بلڈوزر چلنے کی خبر آتی شر پسند خوشی میں جھوم اٹھتے۔یوپی سے شہ پاکر یہی طریقہ ایم پی میں استعمال کیا گیا ، اس طرح دیکھتے ہی نفرت کا بلڈوزر یوپی ایم پی سے نکل کر آسام،گجرات، اتراکھنڈ میں بھی جم کر گرجا اور اب دارالحکومت دلی میں بھی بی جے پی کا بلڈوزر مسلمانوں کی دکانوں اور مکانوں کو زمیں دوز کرنے میں لگا ہوا ہے۔

 

جہاں گیر پوری کا فساد________

 

________16 اپریل کو دلّی کے جہاں گیر پوری علاقے میں ہنومان جینتی کی شوبھا یاترا نکالی گئی۔یہ یاترا ایک ہی علاقے میں، ایک ہی دن میں تین بار نکالی گئی۔پہلے صبح گیارہ بجے، پھر دوپہر میں ایک بجے اور اخیر میں شام کو چھ بجے۔

خیر ان کی یاترا دن میں تین بار نکالیں کہ دس بار، مسلمانوں کو کیا مطلب، لیکن ان دنوں ہندو تنظیموں نے اپنی مذہبی یاتراؤں کو طاقت دکھانے اور خوف ودہشت پھیلانے کا ذریعہ بنا لیا ہے۔یہ لوگ کھلے عام تلوار، چھرے، طمنچے اور لاٹھی ڈنڈے لیکر نکلتے ہیں، بھڑکاؤ گانے بجاتے ہیں، مسلم محلوں سے گزرتے وقت اشتعال انگیز نعرے بازی کرتے ہیں اور مسجد دکھ جائے تو اس کی حرمت پامال کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔اس دن جہاں گیر پوری میں بھی ایسا ہی ہوا۔افطار کا وقت قریب تھا لوگ مسجد میں افطار کے لیے جمع تھے کہ رام بھکتوں کی ٹولی مسجد کے دروازے پر پہنچ گئی، حسب توقع اشتعال انگیز نعرے شروع ہوگیے۔کچھ شدت پسندوں نے مسجد میں داخل ہوکر بھگوا جھنڈے نصب کرنے شروع کر دئے۔مسلمان اندھے/گونگے/بہرے بن کر کھڑے رہتے تو کوئی مسئلہ نہیں تھا لیکن ایسا ہوا نہیں، مسلمانوں نے اپنے اور مسجد کے دفاع میں پیش قدمی کیا کی، مانو دریا کی کائی چھٹ گئی، ایک ہی جھٹکے میں سارے ویر بہادر چپل/جھنڈے چھوڑ کر فرار ہوگیے۔اب تک پولیس منظر نامہ سے بالکل غائب تھی لیکن مسلمانوں کی مزاحمت دیکھتے ہی پولیس نے مورچہ سنبھال لیا، اس طرح زبردستی مسلمانوں پر ایک اور فساد تھوپ دیا گیا۔

 

ایم سی ڈی کا بلڈوزر _______

 

_______فساد تھمتے ہی پولیس نے گرفتاریاں شروع کردیں۔امیدوں کے مطابق ساری گرفتاریاں مسلمانوں کی ہوئیں۔جب ہندو شرپسندوں کے مفسدانہ ویڈیو وائرل ہوئے اور سوشل میڈیا پر اس کے خلاف آوازیں بلند ہوئیں تب جاکر بیلنس دکھانے کے لیے علامتی طور پر تین چار غیر مسلموں کو معمولی دفعات میں گرفتار کیا گیا، جن میں سے کچھ کو تھانے ہی سے چھوڑ دیا گیا جب کہ مسلمانوں پر نیشنل سیکورٹی ایکٹ(NSA) جیسی سخت دفعات لگائی گئیں ہیں۔بعد میں معلوم ہوا کہ شوبھا یاترا بغیر اجازت نکالی گئی تھی، جب پولیس پر سوال اٹھنا شروع ہوئے تو اپنی خفت مٹانے کے لیے میونسپل کارپوریشن دلی(MCD) کو میدان میں اتارا گیا اور مسلمانوں کے دکان و مکان کو غیر قانونی تجاوزات قرار دے کر منہدم کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔یہاں یہ بات بھی نوٹ رہے کہ ہندو سماج لگاتار یوپی ایم کی طرح جہاں گیر پوری میں بھی بلڈوزر چلانے کا مطالبہ کر رہا تھا، تاکہ مسلمانوں کو تگڑی نصیحت مل سکے، اسی مطالبے کو لیکر دلی بی جے پی صدر آدیش گپتا نے ڈی سی پی سے ملاقات بھی کی تھی۔

انہدامی کاروائی کے اعلان کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا جس پر کورٹ نے فوری پابندی عائد کردی، لیکن ایم سی ڈی افسران صبح ہوتے ہی بلڈوزر لیکر جہاں گیر پوری پہنچ گئے اور یہ کہہ کر انہدام شروع کردیا کہ ابھی ہم تک سپریم کورٹ کا تحریری آرڈر نہیں پہنچا ہے، جب پہنچے گا تو توڑ پھوڑ بند کردیں گے۔اس طرح ایم سی ڈی کے معمولی افسران نے سپریم کورٹ کے آرڈر کو رتی بھر اہمیت نہیں دی، بلڈوزر نے دکانیں توڑیں، مسجد کا باہری چبوترا توڑا، جب بلڈوزر مندر کے باہری چبوترے کی طرف بڑھا عین اسی وقت سپریم کورٹ کا تحریری آرڈر پہنچ گیا اس طرح مندر کسی طرح کی کاروائی سے محفوظ رہا لیکن تب تک مسجد اور مسلمان بری طرح زخمی ہوچکے تھے۔

 

مسلم دشمنی کی ہوڑ _______

 

_________اس وقت سیاسی نیتاؤں، دھارمک باباؤں اور افسروں میں مسلم دشمن دکھنے کی ایک ہوڑ چل رہی ہے۔اس لیے جسے جہاں موقع ملتا ہے مسلمانوں کو دھمکانے/مارنے/نقصان پہنچانے/گالی دینے اور مٹانے کی بات کرتا ہے۔ان حرکتوں کا فائدہ بھی ملتا ہے جیسے ہی کوئی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کوئی اقدام کرتا ہے اسے ہندو سماج/میڈیا/پارٹیاں سر آنکھوں پر بٹھا لیتے ہیں۔جگہ جگہ استقبال ہوتا ہے، جلوس نکلتے ہیں اور “ہندو ہردے سمراٹ” کا خطاب بھی ملتا ہے۔ایم سی ڈی افسران نے بھی بہتی گنگا میں ڈبکی لگانے کی سوچی اور کورٹ کی ممانعت کے باوجود مسلم مکانات گرا کر انہوں نے شرپسندوں کے دلوں کو جیت لیا ہے، امید ہے جلد ہی انہدام کرنے والے عملے کو انعام واکرام اور عوامی استقبالیہ کی خبر سننے کو ملے گی۔ایم سی ڈی افسران غیر قانونی تجاوزات ہٹانے یا قانونی پاس داری کرانے میں کتنے سنجیدہ ہیں یہ دلی کا بچہ بچہ جانتا ہے، قانون اور ضابطے کی بات کرتے ہوئے انہیں شرم آنا چاہیے۔انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ خدا کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے جس دن قدرت نے انصاف کیا اس دن کسی کو بچنے کا موقع نہیں ملے گا۔

 

١٨ رمضان المبارک ١٤٤٣ھ

20 اپریل 2022 بروز بدھ

Protest against anti-encroachment drive in Delhi's Jahangirpuri