اسلام نے عورت کو کیا دیا؟

(آصف جہانزیب عطاری مدنی)

نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی آمد سے پہلے عورتوں کے ساتھ کیے جانے والے سلوک کے تصور سے ہی بدن پر کپکپی طاری ہو جاتی ہے۔ کسی کے ہاں بیٹی کی ولادت ہوجاتی تو غم و غصّے کے مارے اس کا چہرہ سیاہ ہو جاتا، غصے کی آگ بجھانے اور شرمندگی مٹانے کے لیے اس ننھی کلی کو ”زندہ ہی مسل“ دیا جاتا۔ اگر اِسے زندہ رہنے کا موقع مل بھی جاتا تو وہ زندگی بھی کسی عذاب سے کم نہ ہوتی، جانوروں کی طرح مارنا پیٹنا، بدن کے اعضا کاٹ دینا، میراث سے محروم کر دینا، پانی کے حصول کے لیے دریاؤں کی بھینٹ چڑھا دینا عام سی بات تھی۔ کہیں باپ کے مرنے کے بعد بیٹا اپنی ہی ماں کو لونڈی بنا لیتا، کہیں مالِ وراثت کی طرح اسے بھی بانٹ لیا جاتا۔ ایسے ظلم و ستم کے باوجود عورت ایک ”نوکرانی“اور نفسانی خواہشات پورا کرنے کا ”آلہ“ ہی سمجھی جاتی۔ بے بسی کے اس عالَم میں لاچار عورتوں کی مدد اور ان کے غموں کا مداوا کرنے والا کوئی نہ تھا۔ بِالآخر سالوں سے جاری ظلم و ستم کی اندھیری رات ختم ہوئی۔ اسلام کا سورج طلوع ہوا، جس نے اس جہالت بھرے ماحول کو بدل کر رکھ دیا۔

اسلام نے عورت کو عزّت و شرف کا وہ بلند مقام عطا کیا، جو صرف اسلام ہی کا خاصہ ہے۔ اگر عورت ماں ہے تو اس کے قدموں تلے جنّت رکھی۔ (مسندالشّہاب،ج1،ص102، حدیث: 119) بیٹیوں کی پرورش پر یوں فرمایا: جس پر بیٹیوں کی پرورش کا بار پڑ جائے اور وہ ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرے تو یہ بیٹیاں اس کے لیے جہنّم سے آڑ (یعنی رُکاوٹ) بن جائیں گی۔ (مسلم، ص 1084، حدیث: 2629)

اگر عورت بیٹی، بہن، پھوپھی، خالہ، نانی یا دادی ہے تو اس کی کفالت پرفرمایا: جس نے دو بیٹیوں یا دو بہنوں یا دو خالاؤں یا دو پھوپھیوں یا نانی اور دادی کی کفالت کی تو وہ اور میں جنت میں یوں ہوں گے،رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی شہادت اور اس کے ساتھ والی انگلی کو ملایا۔(معجمِ کبیر،ج 22،ص385، حدیث: 959)

اگر عورت بیوی ہے تو اسے اُنس و محبت کی علامت یوں بنایا کہ ”تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے کہ ان سے آرام پاؤ اور تمہارے آپس میں محبّت اور رحمت رکھی۔“(ترجمۂ کنز الایمان-پ 21، الروم: 21) انہیں پانی پلانے پر اجر کی بشارت ارشاد فرمائی۔ (مجمع الزوائد، ج3،ص300، حدیث: 4659) ان کے حقوق یوں بتائے:”اور عورتوں کے لیے بھی مردوں پر شریعت کے مطابق ایسے ہی حق ہے جیسا (اُن کا) عورتوں پر ہے۔“(ترجمۂ کنز العرفان-پ 2، البقرۃ: 228) ”اور ان کے ساتھ اچھے برتاؤ کا حکم دیا۔“(ترجمۂ کنز الایمان-پ 4، النساء: 19، ملخصاً)

اسلام نے عورتوں کو جو مقام و مرتبہ عطا کیا اس سے صاف ظاہر ہے کہ اسلام عورتوں کا ”سب سے بڑا محسن“ ہے اس لیے عورتوں کو اسلام کا احسان مند ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے زندگی گزارنی چاہیے۔ 

Roznama Dunya: اسپیشل فیچرز :- اسلام میں عورتوں کے حقوق