أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَكَانَتۡ هَبَآءً مُّنۡۢبَـثًّا ۞

ترجمہ:

پس وہ منتشر غبار ہوجائیں گی

الواقعہ 6 میں فرمایا : پس وہ منتشر ہوجائیں گی۔

ھبائً منبثاً کے معنی

اس آیت میں ” الھباء المنبث “ کے الفاظ ہیں ” الھباء “ کے معنی ہیں غبار اور ” المنبث “ کے معنی ہیں، بکھرا ہوا اور منتشر، یعنی چوپایوں مثلاً گھوڑوں اور گدھوں کے دوڑنے سے غبار اڑتا ہے پھر بکھر جاتا ہے اللہ تعالیٰ کفار کے اعمال کو بھی اسی طرح بکھرے ہوئے غبار کی طرح کر دے گا۔

مجاہد نے اس کا معنی بیان کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح دیوار کے کسی سوراخ یا روشن دان سے سورج کی روشنی اندر آتی ہے تو سورج کی شاعیں منتشر غبار کی صورت میں کمرے کے اندر آتی ہیں سو اسی طرح پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر بکھرے ہوئے غبار کی طرح ہوجائیں گے۔

القرآن – سورۃ نمبر 56 الواقعة آیت نمبر 6

سورة  الواقعة الآية رقم 6