اَللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ(۱۱)

اللہ پہلے بناتا ہے پھر دوبارہ بنائے گا (ف۱۹) پھر اس کی طرف پھروگے (ف۲۰)

(ف19)

یعنی بعدِ موت زندہ کر کے ۔

(ف20)

تو اعمال کی جزا دے گا ۔

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُبْلِسُ الْمُجْرِمُوْنَ(۱۲)

اور جس دن قیامت قائم ہوگی مجرموں کی آس ٹوٹ جائے گی (ف۲۱)

(ف21)

اور کسی نفع اور بھلائی کی امید باقی نہ رہے گی ۔ بعض مفسِّرین نے یہ معنٰی بیان کئے ہیں کہ ان کا کلام منقطع ہو جائے گا وہ ساکت رہ جائیں گے کیونکہ ان کے پاس پیش کرنے کے قابل کوئی حُجّت نہ ہو گی ۔ بعض مفسِّرین نے یہ معنٰی بیان کئے ہیں کہ وہ رسوا ہوں گے ۔

وَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ مِّنْ شُرَكَآىٕهِمْ شُفَعٰٓؤُا وَ كَانُوْا بِشُرَكَآىٕهِمْ كٰفِرِیْنَ(۱۳)

اور اُن کے شریک (ف۲۲) اُن کے سفارشی نہ ہوں گے اور وہ اپنے شریکوں سے منکر ہوجائیں گے

(ف22)

یعنی بُت جنہیں وہ پُوجتے تھے ۔

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَىٕذٍ یَّتَفَرَّقُوْنَ(۱۴)

اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن الگ ہوجائیں گے (ف۲۳)

(ف23)

مومن اور کافِر پھر کبھی جمع نہ ہوں گے ۔

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَهُمْ فِیْ رَوْضَةٍ یُّحْبَرُوْنَ(۱۵)

تو وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے باغ کی کیاری میں اُن کی خاطرداری ہوگی (ف۲۴)

(ف24)

یعنی بُستانِ جنّت میں ان کا اکرام کیا جائے گا جس سے وہ خوش ہوں گے یہ خاطر داری جنّتی نعمتوں کے ساتھ ہو گی ۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد سماع ہے کہ انہیں نغمات طرب انگیز سنائے جائیں گے جو اللہ تبارک و تعالٰی کی تسبیح پر مشتمل ہوں گے ۔

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآئِ الْاٰخِرَةِ فَاُولٰٓىٕكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ(۱۶)

اوروہ جو کافر ہوئے اور ہماری آیتیں اور آخرت کا ملنا جھٹلایا (ف۲۵) وہ عذاب میں لادھرے(ڈالے) جائیں گے (ف۲۶)

(ف25)

بَعث و حشر کے منکِر ہوئے ۔

(ف26)

نہ اس عذاب میں تخفیف ہو نہ اس سے کبھی نکلیں ۔

فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَ حِیْنَ تُصْبِحُوْنَ(۱۷)

تو اللہ کی پاکی بولو (ف۲۷) جب شام کرو (ف۲۸) اور جب صبح ہو (ف۲۹)

(ف27)

پاکی بولنے سے یا تو اللہ تعالٰی کی تسبیح و ثناء مراد ہے اور اس کی احادیث میں بہت فضیلتیں وارد ہیں یا اس سے نماز مراد ہے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے دریافت کیا گیا کہ کیا پنجگانہ نمازوں کا بیان قرآنِ پاک میں ہے ؟ فرمایا ہاں اور یہ آیتیں تلاوت فرمائیں اور فرمایا کہ ان میں پانچوں نمازیں اور ان کے اوقات مذکور ہیں ۔

(ف28)

اس میں مغرب و عشاء کی نمازیں آ گئیں ۔

(ف29)

یہ نمازِ فجر ہوئی ۔

وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ عَشِیًّا وَّ حِیْنَ تُظْهِرُوْنَ(۱۸)

اور اُسی کی تعریف ہے آسمانوں اور زمین میں (ف۳۰) اور کچھ دن رہے(ف۳۱)اور جب تمہیں دوپہر ہو(ف۳۲)

(ف30)

یعنی آسمان اور زمین والوں پر اس کی حمد لازم ہے ۔

(ف31)

یعنی تسبیح کرو کچھ دن رہے ، یہ نمازِ عصر ہوئی ۔

(ف32)

یہ نمازِ ظہر ہوئی ۔

حکمت : نماز کے لئے یہ پنجگانہ اوقات مقرر فرمائے گئے اس لئے کہ افضل اعمال وہ ہے جو مدام ہو اور انسان یہ قدرت نہیں رکھتا کہ اپنے تمام اوقات نماز میں صرف کرے کیونکہ اس کے ساتھ کھانے پینے وغیرہ کے حوائج و ضروریات ہیں تو اللہ تعالٰی نے بندہ پر عبادت میں تخفیف فرمائی اور دن کے اوّل و اوسط و آخر میں اور رات کے اوّل و آخر میں نمازیں مقرر کیں تاکہ ان اوقات میں مشغولِ نماز رہنا دائمی عبادت کے حکم میں ہو ۔ (مدارک و خازن)

یُخْرِ جُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِ جُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَاؕ-وَ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ۠(۱۹)

وہ زندہ کو نکالتا ہے مُردے سے (ف۳۳) اور مُردے کو نکالتا ہے زندہ سے (ف۳۴) اور زمین کو جِلاتا ہے اس کے مرے پیچھے (ف۳۵) اور یوں ہی تم نکالے جاؤ گے (ف۳۶)

(ف33)

جیسے کہ پرندکو انڈے سے اور انسان کو نطفہ سے اور مومن کو کافِر سے ۔

(ف34)

جیسے کہ انڈے کو پرند سے نطفہ کو انسان سے کافِر کو مومن سے ۔

(ف35)

یعنی خشک ہو جانے کے بعد مینہ برسا کر سبزہ اُگا کر ۔

(ف36)

قبروں سے بَعث و حساب کے لئے ۔

تحميل كتاب القرآن الكريم مع كنز الإيمان والخزائن pdf - مكتبة نور