{گھڑی کِس ہاتھ میں باندھی جائے}

گھڑی ایک سامانِ زینت بھی ہے اور ضرورت بھی عہد رسالت ﷺ میں اس کی بہترین نظیر انگوٹھی ہے جس میں زینت کا پہلو بھی موجود تھا اور وہ ضرورت بھی تھی،کہ سلاطین مملکت کو خطوط روانہ کرتے وقت اسی سے مہر لگائی جاتی تھی۔حضور ﷺ سے منقول ہے کہ آپ نے دائیں ہاتھ میں بھی انگوٹھی پہنی ہے جس کے راوی حضرت انس اور عبداﷲ بن جعفر اور حضرت علی رضوان اللہ تعالیٰ علیہم ہیں ۔

(فتاویٰ عالمگیری :ج۴،ص ۱۱۴)

اور بائیں ہاتھ میں بھی،جس کی روایت حضرت انس اور عبداﷲ بن عمرعلیہم الرضوان سے منقول ہے۔

(بخاری ومسلم عن انس ، ابو داؤد ونسائی عن علی ،ابن ماجہ عن عبداللہ بن جعفر علیہم الرضوان)

اس لئے دونوں ہی ہاتھ میں باندھی جاسکتی ہے۔مگر چونکہ اکثر خیر کی چیزوں میں حضور ﷺ نے دائیں سمت کو ترجیح دی ہے اور گھڑی میں ذریعہ خیر ہے کہ اس سے نماز اور عبادات کے اوقات معلوم ہوتے ہیں اس لئے دائیں ہاتھ میں پہننا زیادہ بہتر ہوگا۔

Why Is A Watch Worn On The Left Wrist Online Store, UP TO 61% OFF |  www.viverosvaleroehijos.com