جامعہ اشرفیہ اور بلڈوزر:

پس چہ باید کرد؟

 

جامعہ اشرفیہ میں بلڈوزر چلنے کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل چکی ہے۔ جب کہ سچائی یہ ہے کہ ادارے کی ٹیچرس فیملی کالونی یا کسی اور بلڈنگ پر کوئی انہدامی کارروائی نہیں ہوئی۔ ہاں! کالونی سے متصل، جامعہ کے ایک ملازم کے مکان پر بلڈوزر چلا ہے۔

 

اس واقعے سے ایک بات ضرور نکل کر آئی کہ ٹیچرس کالونی کی زمین تنازعہ سے گھری ہے؛ اور علاقائی کورٹ میں یہ معاملہ تقریباً ایک سال سے زیر التوا بھی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ زمین مافیاؤں کے ذریعہ کاغذات میں ہیرا پھیری اور نقشے میں تبدیلی کے سبب یہ سب ہوا۔ در اصل، ان لوگوں نے سرکاری نالے کی زمین پاٹ کر اس پر قبضہ کر لیا اور اسے اشرفیہ کیمپس میں دھکیل دیا تھا۔

 

گزشتہ دو تین ہفتوں سے ملک بھر میں خاص کر مسلمانوں کو لے کر الگ الگ ریاستی حکومتوں نے جس طرح بلڈوزر کے نام سے دہشت پھیلائی ہے، وہ کسی سے مخفی نہیں۔ جہاں گیر پوری کی مہم کے بعد تو بین الاقوامی میڈیا تک نے اس معاملے میں مودی حکومت کو گھیرا تھا۔

 

بعید نہیں کہ کچھ دنوں بعد بلڈوزر پھر سے جامعہ اشرفیہ کا رخ کرے۔ اور سرکاری نالے کے نام سے جس زمین پر فیملی کالونی کے کھڑے ہونے کی بات کہی جا رہی، اسے خالی کروایا جاے۔ ایسے میں اشرفیہ کے ذمے داران کو چاہیے کہ ماہرین قانون کی مشاورت اور ان کی مدد سے جلد از جلد اس معاملے کی شنوائی کے لیے کورٹ سے درخواست کریں۔ اس سلسلے میں کل کے واقعے کی فوٹوز اور ویڈیوز بھی معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔

 

اب اس قضیے میں ذرا سی تاخیر بھی نا قابل برداشت ہے۔ جتنی جلدی ہو سکے اسے حل کروانا ناگزیر ہو گیا ہے۔ اور اگر فیصلے میں وقت لگے تو کورٹ سے یہ گزارش کی جاے کہ وہ حکومتی مشینری سے علی الاقل یہ کہے کہ اس معاملے میں جب تک کوئی حتمی فیصلہ‌ نہیں آ جاتا، کسی طرح کی کوئی بھی انہدامی کارروائی نہ کی جاے۔ مزید، بغیر پیشگی نوٹس دیے بلڈوزر چلوانے پر تحصیل افسران کے خلاف کارروائی کی جاے۔

 

جامعہ اشرفیہ مسلمانان ہند کے لیے عموماً اور اہل سنت کے لیے خصوصاً ناک کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ مذہب کا قلعہ ہے۔ سرکاری پروپیگنڈے کے تحت اس کی کسی بھی عمارت پر بلڈوزر چلنا اس کی عظمت اور وقار کو تو ٹھیس پہنچاے گا ہی۔ اس سے اسلامیان ہند کے عزم و حوصلے کی بھی شکست ہوگی۔ اور ان نازک حالات میں یہ بڑا فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے سوشل میڈیا صارفین سے بھی دست بستہ عرض ہے کہ معاملہ فہمی کے بغیر کچھ پوسٹ نہ کریں۔ بلا ضرورت کسی بات کو سنسنی خیز بنانا ان پریشان کن اوقات میں مزید پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔

 

✍️محمدحیدررضا

بانی جامعہ اشرفیہ حضور حافظ ملت علامہ شاہ عبد العزیز محدث مرادآبادی علیہ  الرحمہ