مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما

 

گاؤں اور شہر کی معاشرت اور باہمی تعلقات

 

گاؤں اور دیہات عام طور پر چار پانچ سو گھروں کی آبادی پر مشتمل ہوتا ہے۔ان میں کچھ ہندو اور کچھ مسلمان رہتے ہیں۔مسلمانوں(کلمہ گویان اسلام) میں مختلف مسالک کے ماننے والے لوگ ہوتے ہیں۔

 

عام طور پر دیہاتوں میں ایک مسجد اور ایک مکتب ہوتا ہے۔اگر سنی حضرات غالب ہوں تو گاؤں میں سنی امام ہوتا ہے۔دیابنہ غالب ہوں تو دیوبندی امام ہوتا ہے۔دیوبندیوں کی فطرت سے اہل ہند واقف وآشنا ہیں کہ وہ مساجد پر قبضہ کرنے کی پرزور کوشش کرتے ہیں,لہذا گاؤں کی مسجدوں میں زیادہ تر دیوبندی ہی قابض ہوتے ہیں۔

 

دوسری بات یہ ہے کہ گاؤں میں قصبہ اور شہر کی بہ نسبت آبادی کم ہوتی ہے,لہذا عام طور پر مسلم اور ہندو,اسی طرح سنی اور دیوبندی سب مل جل کر رہتے ہیں۔یہ مذہبی اعتبار سے سخت نقصان دہ ہے۔

 

جو سنی مسلمان ایسی آبادیوں میں رہتے ہوں,وہ اپنے دین وایمان کی حفاظت کریں۔اگر زیادہ خلط ملط کی صورت ہو تو شہروں کی طرف منتقل ہو جائیں۔شہری آبادیوں میں ایک ہی بلڈنگ میں بہت سے لوگ رہتے ہیں اور ایک دوسرے سے روابط وتعلقات بھی کم ہوتے ہیں۔شہری آبادی حصول معاش کے اعتبار سے بھی بہتر ہے اور شہروں میں شریعت اسلامیہ پر عمل کی صورتیں بھی روشن نظر آتی ہیں۔

 

طارق انور مصباحی

 

جاری کردہ:28:اپریل 2022

Urdu Channel