{آپریشن}

انسان کا جسم اسلام میں ایک قابل احترام چیز ہے اس کو ادنیٰ تکلیف پہنچانا سخت گناہ کا باعث ہے لیکن اگر علاج کیلئے اس کی ضرورت پڑ جائے تو اجازت ہے:

ولا بأس بقطع العضوان وقعت فیہ الأکلہ لئلا تسری…ولا ٔباس بشق المثانۃ اذاکانت فیھا حصاۃ۔(فتاویٰ عالمگیری:ج۴،ص۱۱۴)

ترجمہ:اگر عضو میں سڑن پیدا ہوجائے تو اس کے نشونما کو روکنے کیلئے عضو کاٹ دینے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔اور مثانہ میں کنکری ہو تو اس کو چیرنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔

محض حسن وجمال میں اضافہ کیلئے اعضاء کی سرجری درست نہ ہوگی اس لیے کہ یہ کوئی ضرورت نہیں ہے اور اسلام آرائش و زیبائش کیلئے ان تکلفات کی اجازت نہیں دیتا،ہاں اگر پیدائشی طور پر کوئی عضو زیادہ ہوگیا ہو تو اس کو الگ کردینے میں کوئی خطرہ نہ ہو تو آپریشن کے ذریعہ اس کو الگ کیا جاسکتا ہے :

اذا أرادالرجل أن یقطع اصبعاً زائدۃً أوشیئاً اٰخر ان کان الغالب علی من قطع مثل ذالک الھلاک فانہ لایفعل وان کان الغالب ھو انجاۃ فھوافی سعۃ من ذالک ۔(فتاویٰ عالمگیری:ج۴،ص۱۱۴)

ترجمہ:جب آدمی اپنی زائد انگلی یا کوئی دوسرا حصہ کاٹنا چاہے تو اگر اس کی وجہ سے ہلاکت کا غالب اندیشہ ہو تو ایسا نہ کرے اور غالب امید بچنے کی ہو تو اس کی گنجائش ہے۔

دل کی سرجری: ڈاکٹروں نے دھڑکتے دل کا آپریشن کرنا کیسے سیکھا - BBC News اردو