عید پر بیٹیوں کی خوشی کا خیال رکھیں

افتخار الحسن رضوی

برصغیر میں اسلام پر عمل لوگوں نے اپنے مزاج کے مطابق کر لیا ہے۔ مثلاً جو آوارہ مزاج ہیں وہ ایام عید میں حد سے غل غپاڑہ، ناچ بھنگڑا اور بے حیائی سے کام لیتے ہیں، سڑکوں اور بازاروں میں بدتمیزی کرتے ہیں اور اسے عید کا جز جانتے ہیں، اور جو دین پسند ہیں وہ حد سے زیادہ شدت کرتے ہیں۔ مثلاً بیٹیوں کو بننے سنورنے سے بھی روکا جاتا ہے، زیب و زینت عورت کی فطرت کا لازمی حصہ ہے، اس پر بھی پابندی لگا دی جاتی ہے ، حتٰی کہ ہم نے دیکھا کئی ائمہ و علماء حضرات اپنی بچیوں کو چوڑیاں تک منع کر دیتے ہیں۔ بچیاں گھروں میں کھلونے اور گڑیاں بناتی ہیں، گڑیوں کو بت کہہ کر روک دیا جاتا ہے۔ کئی بزرگ تو ایسے گزرے جو بچیوں کو لکھنے پڑھنے بھی نہیں دیتے تھے لیکن حدیث رسول ﷺ پڑھیے اور سمجھیے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک حدود میں رہتے ہوئے بچیوں کو اپنے جذبات، احساسات اور خوشیوں کا اظہار کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ عید کے دن ہمارے گھر کچھ بچیاں بیٹھی تھیں اور جنگ بعاث سے متعلق کچھ اشعار گا رہی تھیں۔ اسی دوران حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور کہنے لگے کہ اللہ کے رسول کے گھر میں یہ کیا گایا جارہا ہے؟ آپ ﷺ نے جو اس وقت ہماری طرف سے کروٹ لیے استراحت فرما رہے تھے (حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا) اے ابوبکر انہیں گانے دو، ہر قوم کے لیے تہوار کا ایک دن ہوتا ہے، آج ہماری عید کا دن ہے۔

(صحیح بخاری: ۳۲۴/1)

ایک اور روایت میں ہے عید کے دن کچھ حبشی بازی گر کرتب دکھلا رہے تھے، آپ نے خود بھی وہ کرتب دیکھے اور ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھی اپنی آڑ میں کھڑا کرکے دکھلائے، جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ یہ تماشہ دیکھتے دیکھتے تھک گئیں تو جان رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا اچھا اب چلو۔

(مسلم: ۲/۶۰۷، رقم الحدیث: ۸۹۲)

اپنی بیٹیوں کا دل خوب خوش کریں، بلا وجہ کی روک ٹوک نہ کریں، حسبِ استطاعت ان کے من چاہے لباس، سامانِ زینت ، کھلونے ، پکوان اور جتنا ممکن ہو سکے نقدی دیں۔ اگر آپ کی بیٹی بیاہی جا چکی ہے تو اس کے گھر جا کر تحائف دیں اور حتی المقدور اس کی خوشیوں میں اضافہ کریں۔ اور اگر کوئی بیٹی والدین سے محروم ہے تو وہ اللہ کی راضی میں راضی رہتے ہوئے یقین رکھے کہ رب کریم آخرت میں بہترین بدلہ عطا فرمانے والا ہے۔

 

افتخار الحسن رضوی