لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی الخ

بارگاہ نبوی ہے۔ بعد از انبیاء کائنت کی دو افضل ترین ہستیاں محو گفتگو ہیں ۔ دوران گفتگو آواز ذرا اونچی ہو جاتی ہے ۔ ۔ ۔ فوراََ آیت نازل ہو جاتی ہے کہ اے ایمان والو ! اپنی آوازوں کو نبی کریم ﷺ کی آواز سے بلند مت کرو ایسا نہ ہو کہ تمہارے سارے اعمال غارت ہو جائیں اور تمہیں خبر تک نہ ہو !(مفہوم)

 

ایک دوسرا منظر ہے

چند بدو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حجرہ مبارک کے باہر کھڑے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو باہر بلانے کے لیے اونچی آواز میں آوازیں دے رہے ہیں ۔ ان کا حجرہ مبارک کے باہر کھڑے ہو کر آوازیں دینا بھی رب کائنات کو اتنا ناگوار گزرا کہ آیہ مبارکہ نازل فرما دی :

“ان الذین ینادونک من وراء الحجرات الخ”

بے شک وہ لوگ جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر بے عقل ہیں ۔ اگر وہ صبر کرتے حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس آتے تو یہ ان کے لیے زیادہ بہتر ہوتا

 

بعد از انبیاء کائنات کی دو افضل ترین ہستیوں کو آپسی گفتگو میں آواز بلند ہو جانے پر اعمال ضائع ہو جانے کی وعید سنا دی جاتی ہے تو آج کل کے سیہ کار تو کسی شمار قطار میں ہی نہیں ۔ یہ بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ادب ہے جو رب العالمین نے خود سکھایا ۔

صد افسوس ہے ان سیاسی بتوں کے پجاریوں پر جنہوں نے بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تقدس کو پامال کیا صدہا افسوس ہے حد سے گزر جانے والے ان ذہنی غلاموں پر جو اس کی ابھی تک تاویلیں گڑ رہے ہیں ۔ ان لوگوں کا یہ حال ہو چکا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ اقدس سے زیادہ انہیں اپنےسیاسی بت عزیز ہیں

 

حجروں کے باہر سے پکارنے والوں کے واقعہ میں ان لوگوں کے لیے سبق ہے جو یہ تاویلیں دے رہے ہیں کہ ایسا مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احاطہ کے باہر ہوا ۔

 

جن لوگوں کے دلوں میں ایمان کی شمعع روشن تھی جنہیں بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ادب اور مقام و مرتبے کا احساس تھا وہ تو مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعمیر کے لیے پتھر بھی میلوں دور لے جا کر تراشتے تھے کہ کہیں شہر نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ان کی وجہ سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقام و مرتبے پر کوئی حرف نہ آئے !

 

افسوس ہے کہ اس ملک کی سیاسی اشرافیہ نے ایک ایسی نسل تیار کر دی ہے جنہیں کائنات کی افضل ترین ہستی کی بارگاہ اقدس کے آداب سے بھی زیادہ اپنے زانی، شرابی، ڈاکو، چور، لٹیرے، قاتل اور دنیا جہان کی برائیوں سے لتھڑے دنیادار سیاسی بت عزیز ہیں ۔

افسوس صد افسوس کہ پاکستانی سیاست کی غلاظت میں لتھڑے ان خبیثوں نے بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تقدس کا بھی خیال نہ کیا

کاش !

سلطنت عثمانیہ کے وہ باادب حکمران آج ہوتے تو ان خبیثوں کو اس گھٹیا ترین حرکت کی وہ سزا دیتے کہ تاقیامت ان کی آنے والی نسلیں بھی یاد رکھتیں !

اے کاش ۔ ۔ ۔ !!!

 

محمد إسحٰق قریشي ألسلطاني

لا ترفعوا أصواتكم فوق صوت النبي! - YouTube