شوال کے چھے روزے، حکمت و فضیلت

افتخار الحسن رضوی

مسلمان کی طبعیت جب صالح و صاف ہو جائے تو اس کا دل عبادت کی طرف کھنچا چلا جاتا ہے۔ روزہ باطنی طہارت کا اکسیری نسخہ ہے لیکن یہ اخلاص، حسن نیت اور اس کے متقاضی پروٹوکول کے ساتھ مشروط ہے۔ تو جس نے انتیس یا تیس روزے رمضان میں رکھ لیے، اب اس کا دل شوال کے چھ روزوں کی طرف راغب ہو گا۔ مکین إسطنبول، میزبان رسول سیدنا أبو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا؛

“من صام رمضان ثم أتبعه ستًّا من شوال فذاک صیام الدهر”۔

یعنی جس نے رمضان کے روزے رکھے اورپھرشوال کے چھ روزے رکھے تویہ ہمیشہ (یعنی پورے سال)کے روزے شمارہوں گے‘‘۔

پورے سال کے روزوں کا ثواب اس لیے مل گا کہ رمضان میں ہر نیکی کا ثواب دس گنا ہو جاتا ہے، رمضان ایک ماہ کا ثواب دس گناہ کیا جائے تو دس ماہ کے روزے ہو گئے، شوال کے چھ روزوں کا دس گناہ ساٹھ ہو گیا، یوں ایک سال مکمل ہو جاتا ہے۔ امام ابن خزیمہ علیہ الرحمہ نے بھی یہی لکھا ہے؛

” رمضان المبارک کےروزے دس گنا اورشوال کے چھ روزے دو ماہ کے برابر ہیں تواس طرح کہ پورے سال کے روزے ہوئے “۔

(واللہ اعلم بالصواب)۔

شوال کے چھ روزوں میں ایک حکمت یہ بھی پوشیدہ ہے کہ اگر رمضان میں کسی کے روزے میں کچھ کمی یا نقص رہ گیا ہو تو اس سے اللہ کریم پورا فرما دے گا۔ مثلا کسی نے سحور میں تاخیر کر دی، یا افطار میں جلدی کر دی، یا کسی اور وجہ سے اس کا روزہ فاسد ہو گیا لیکن اسے شعور و سمجھ نہ ہو تو اب یہ چھ روزے اس کمی کو پورا کر دیں۔ لہٰذا ان میں نیت بھی یوں کی جا سکتی ہے کہ میرا سب سے پہلا رہنے والا روزہ، میں اس کی قضا کی نیت کرتا یا کرتی ہوں، یوں قضا بھی ہو جائے گی اور اگر روزے پورے ہوئے تو نفل کا ثواب مل جائے گا۔

ایک روایت ہے کہ روزِ حشر اللہ کریم اپنے فرشتوں سے فرمائےگا حالانکہ وہ زيادہ علم رکھنے والا ہے میرے بندے کی نمازوں کو دیکھو کہ اس نے پوری کی ہیں کہ اس میں نقص ہے ، اگر تو مکمل ہوں گي تومکمل لکھی جائے گي ، اوراگر اس میں کچھ کمی ہوئي تواللہ تعالی فرمائے گا دیکھو میرے بندے کے نوافل ہیں اگر تواس کے نوافل ہوں گے تو اللہ تعالی فرمائے گا میرے بندے کے فرائض اس کے نوافل سے پورے کرو ، پھر باقی اعمال بھی اسی طرح لیے جائيں گے ۔

( سنن ابوداود حدیث نمبر 733 )

 

یہ چھ روزے مسلسل رکھیں، یا وقفے کے ساتھ، دونوں طرح جائز و درست ہیں، سنت پوری ہو جائے گی لیکن ماہِ شوال کے اندر مکمل کر لیں۔ یہ روزے فقط مستحب عمل ہے۔ جو نہ رکھے اسے اذیت نہ دی جائے لیکن جس کی صحت اچھی ہے، جسم سلامت ہے وہ اس سعادت سے محروم نہ رہے۔

اس کے ساتھ ساتھ کوشش کیا کریں ہر پیر اور جمعرات کو بھی روزہ رکھیں، یہ بھی نبی کریم ﷺ کی پیاری سنت ہے ۔

کتبہ: افتخار الحسن رضوی

۳ شوال ۱۴۴۳ بمطابق ۴ مئی ۲۰۲۲

 

صيام الست من شوال -- متى يبدأ و فضله و حكم صيام الست من شوال متفرقة أو  متتابعة .. منوعات