🥀مدرسہ اور اخلاقی انحطاط

 

گزشتہ چند برسوں سے انتہائی غیر سنجیدہ مدرسین کی ایک کھیپ مدارس میں مسندِ تدریس پر براجمان ہو رہی ہے ۔

مطالعہ کی کمی ، حالات سے بے خبری اور حکمت سے عاری ہونا رہا ایک طرف اب تو حاملینِ مسند شدید اخلاقی بحران کا بھی شکار ہیں۔

 

مدرس کو ایک نوع منصبِ تزکیہ سپرد کیا جاتا ہے، جبکہ فی الحال ہم اہلیانِ تدریس خود محتاجِ تربیت ہیں ۔

 

زیادہ سے زیادہ فاضلین فارغ کرنے کی باہمی مسابقت میں ہم وہ معیار برقرار نہیں رکھ پا رہے جس کا وارث الانبیاء جیسا منصبِ عظیم متقاضی ہے۔

 

ہمارے ایک شفیق، لائق صد احترام استاد کہا کرتے تھے

اج کل اِٹ پٹو تے مولوی نکلدا اے، مولوی پانوے تھوڑے ہوں مگر بندے دے پتر ہون۔

 

موجودہ صورت حال دیکھ کر مجھے یہ حدیث پاک اکثر یاد آ جاتی ہے: إذَا وُسِّدَ الأمْرُ إلى غيرِ أهْلِهِ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ.(بخاری)

جب معاملات نا اہلوں کے سپرد کر دیے جائیں تو قیامت کا انتظار کرو ۔

 

فارسی کا ایک شعر ہے

 

گر ہمیں مکتب و ہمین مُلا

کارِ طفلان تمام خواہد شُد

استاد ہونے کے باوجود اگر ہمیں ہی بنیادی علم اور ضروری تربیت کی محتاجی ہے تو شاگردوں کا کام تو تمام ہو گیا ۔

 

اس حوالے سے چند گذارشات درج ذیل ہیں :

 

✔️ داخلہ اخلاص اور حسن نیت کی بنا پر دیا جائے ، اور اگر طالب شعور کی اس سطح پر نہیں تو جب تک اس کے عزم کو خالص نہ کر دیں تب تک داخلہ موقوف رکھیں۔

 

✔️ وقتا فوقتاً متعلمین کی نیات کی تطہیر کا عمل جاری رکھیں ۔ یاد رہے نیت محض آغازِ عمل پر مشتمل نہیں ہوتی بلکہ پورے عمل کو محیط ہوتی ہے۔

 

✔️ اخلاقیات یا تصوف کو نصاب کا حصہ بنایا جائے لیکن امتحانی کامیابی کو اس پر موقوف نہ کیا جائے تاکہ طُلّابُ العلم سود و زیاں کے خوف سے آزاد ہو کر اسے خالصتاً عمل کے لیے پڑھیں۔

یہاں دو چیزیں ہیں ۔ ایک ہے علمِ تصوف اور دوسرا ہے عملی تصوف ۔ بعض جگہوں پر تصوف بطور علم تو پڑھایا جا رہا ہے مگر وہ طالب العلم کی شخصیت میں اترتا ہوا نظر نہیں آ رہا ، اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ایسی اکثر جگہوں پر جو کتب شامل نصاب ہیں وہ تصوف کی اصطلاحات یا تعریفات پر مشتمل ہیں گویا فوکس “علم” تصوف پر ہے جبکہ انفرادی تبدیلی کے لیے عملی تصوف ناگزیر ہے ۔ سو کتاب سے ذات میں صوفیت اتارنے کا اگر کوئی آسان ذریعہ ہے تو وہ کتبِ ملفوظات، کتب سوانح یا ایسی کتابیں ہیں جن میں مصنف خود قاری سے مخاطِب ہو رہا ہو ۔ ہم نے ایسی کتابوں کو پڑھ کر دیکھا ہے یہ کتابیں قاری پر دیرپا اثر چھوڑ جاتی ہیں۔ البتہ کتاب کتاب ہوتی ہے شیخ شیخ ہوتا ہے ۔ زہے نصیب طلب ملے اور پھر شیخ ملے ۔

 

✔️ موضوع کتنا ہی سنگین کیوں نہ ہو ، مکالمہ ہو یا خطاب یا مسندِ درس، بہرصورت لہجوں کو ترشی اور بدزبانی کی جانب جانے سے روکنے کی تلقین کی جائے ۔

 

فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لاَنفَضُّواْ مِنْ حَوْلِكَ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ۔ (آل عمران:159)

ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ۖ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ۚ(النحل:125)

وَلْيَتَلَطَّفْ۔(الکھف:19)

اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ(فصلت:34)

 

تعجب ہے! یہ آیات پڑھنے پڑھانے والا ترش رو کیسے ہو سکتا ہے ، ہم نے کب سے القاءِ مغلظات کو اتمامِ حجت گمان کرنا شروع کر دیا ۔

 

المختصر ہمیں مدرسہ کو زمانہ قدیم کی ایک Mini Khanqah بنانا پڑے گا جس کی ذمہ داری وہاں کے عملہ پر عائد ہوتی ہے۔ کیونکہ تزکیہ کے بغیر تعلیم بسا اوقات رفعِ علت کے بجائے الٹا مرض میں اضافہ کر دیتی ہے۔

 

تحریر کو کاپی کر کے مدارس کے سرپرستوں اور اساتذہ کو بھیجیں، شاید یہ بے ربط جملے ٹھکانے لگ جائیں ۔

 

فقیر المصطفی

#خیالات

03/05/2022

ذاکر حسین اسکیم برائے مدرسہ جدید کاری“ کے تحت ایک کروڑ 80 لاکھ 60 ہزار منظور