*مسلمانوں میں فحش مواد نشر کرنے کا انجام*

 

إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۚ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ( سورة النور 19)

جو لوگ پسند کرتے ہیں کہ اہل ایمان میں فحاشی پھیلے ، یقین کر لیں کہ ان کے لیئے دنیا و آخرت ( دونوں جگہ ) مستقل درد والا عذاب ہے ۔ اور اللّٰہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ۔

 

اس مقام پر یہ آیت تیسری تادیب الہی ہے جو اپنے اندر شدید عذاب کی وارننگ بھی لیئے ہوئے ہے ان لوگوں کے لیئے جو مسلمانوں میں فحاشی پھیلنے کو دل میں اچھا سمجھتے ہیں ۔ تو وہ کوتاہ بین جو فحش کو کسی بھی جذبے کے پیش نظر آگے پھیلا کر بے حیائی کے مزید پھیلنے کا موجب بنتے ہیں ، وہ تو بدرجہ اولی اس میں داخل ہوں گے ۔

ایسوں کے لیئے دنیا و آخرت دونوں جگہ پر عذاب ہے

 

کسی بندے کا تیار کردہ کوئی بھی عذاب ہلکا اور آسان نہیں ہوتا اور جو عذاب اللّٰہ تبارک و تعالٰی نے تیار کروایا ہو اور وہ عز وجل اس عذاب کے ساتھ لفظ

” أَلِيمٌ ” (مستقل المناک ) کا بھی اضافہ لگائے اس کی تکالیف کی شدت کا درست تصور بھی ممکن نہیں ۔

 

آیت کے اختتام پر بار دگر غور کر لیا جائے ۔ منجملہ دیگر فوائد کے یہ نکتہ عجیب ہے کہ صرف اپنے علم کا اثبات کر کے لوگوں کے دیکھنے سننے کی نفی کر دی ۔

جب ہم اللّٰہ کا بندہ ہونے کا عقیدہ و اقرار رکھتے ہیں تو پھر ایسے قبیح و شنیع اقوال و افعال کے بارے میں اپنے علم کی نفی کرنا ہو گی چہ جائیکہ کہ ان کا پرچار کیا جائے ۔

✒️ مخلص

فقیر خالد محمود

معارف القرآن کشمیر کالونی کراچی

فحاشی و بے حیائی کا معنی و مفہوم – sab ki dunya