امام بخاری علیہ رحمہ کی قبر سے کستوری کی خوشبو آنا مذکورہ روایت کی سند پر جناب عامر بن عبدالقيوم الأثري کی طرف سے وارد اعتراضات کا تحقیقی جائزہ

ازقلم: اسد الطحاوی الحنفی البریلوی

 

تمہید:

ہم کو معلوم نہیں کہ سلفیہ حضرات کیوں ائمہ کے بارے ایسے مشہور واقعات جنکو محدثین و مورخین اور ائمہ سلف نے قبول کیا ہے اور ایسے واقعات کو بطور فضائل اپنی کتب میں جگہ دی اور ان پر کوئی اعتراض وارد نہیں کیے اور سلف سلف کی رٹ لگانے والے کیوں اپنی نفس پرستی میں پھر سلف کے منہج کے باغی ہو جاتے ہیں اور فضائل پر مبنی روایات پر حدیث کے رجال جیسی کڑی شرائط لگا کر اسکا رد کرنے بیٹھ جاتے ہیں جبکہ ائمہ سلف کا منہج یہ ہے کہ جب تک اسناد میں کوئی کذاب یا متروک درجہ کا راوی نہ ہو تو اسکو فضائل میں ائمہ قبول کرتے ہیں اور یہ حسن ظن کی بات ہے اسکو رد کوئی کرتا ہے تووہ ذاتی طور پر کر سکتا ہے لیکن پھر اس کو منہج بنا کر سلف کی طرف منسوب کرنا یہ غلط با ت ہے ۔ اور سلفیہ کی عمومی یہ کوشش رہتی ہے کہ لوگوں کو سلف کی کرامات اور فضائل سے دور رکھا جائے تاکہ یہ اسلام کی روحانیت کی طرف نہ جائیں اور علم باطن اور مرتبہ اولیاء اللہ کی کرامات سے لوگوں کو متنفر کیا جائے کہ ایسی کوئی باتوں کا اسلام میں تصور نہیں بس اسلام فقط فروع اور عقائد کی تشریحات تک محدود ہے باقی کوئی علم ایسا نہیں وغیرہ وغیرہ !!

 

خیرایک موصوف کی تحریر پر ہم مطلع ہوئے ہیں جس میں انہوں نے زور لگا کر یہ ثابت کیا ہے کہ ایک واقعہ جسکو امام ذھبی ، امام ابن حجر عسقلانی و امام سبکی نے نقل کیا ہےلیکن یہ مشہور ہونے کے باوجود ثابت نہیں اور انکی تحریر جب پڑھی تو اتنی سطحی قسم کی تھی کہ مجھ جیسا ناچیز جس نے مدرسہ کا منہ نہیں دیکھا اور علم رجال کا بنیادی ٹوٹا پھوٹا علم رکھنے والا ہےذاتی مطالعہ کے سبب ، میں انکی انکی تحریر کے واضح نقائص پر مطلع ہو گیا ایک بار پڑھتےاور مجھے حیرانگی یہ ہےکہ موصوف نے اپنی تحریر پر نظرثانی کے حوالے سے اپنے کسی شیخ بنام ” حافظ ندیم ظہیر”کا حوالہ بھی دیااور موصوف کے شیخ نے بھی ان صاحب کی ایک سطحی تحریر کو جامع و صحیح قرار دے دیا جس سےمعلوم ہوتا ہے کہ جماعت غیر مقلدین کےنزدیک علم جرح و تعدیل اب یتیم ہونے کے در پر آپہنچا ہے ۔ اگر یہ اس طرح نفس پرستی میں روایات کو غیر ضروری اعتراضات کرکر کے رد کرتے رہینگے تو اہل علم ان سے ضرور متنفر ہونگے اور اس میں انکا اپنا ہی نقصان ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

خیر اب موصوف کی تحریر کی طرف آتے ہیں ہم من و عن موصوف کی مکمل تحریر نقل کرکے پھر اسکا تحقیقی جائزہ لیتے ہیں

 

چناچہ موصوف لکھتے ہیں :

کیا امام المحدثین والفقہاء محمد بن اسماعیل البخاري رحمه اللّٰه کی قبر کی مٹی سے کستوری کی خوشبو آتی تھی؟

تحقیق : عامر بن عبدالقيوم الأثري

تصحیح ونظرثانی: حافظ ندیم ظہیر حفظہ اللہ

بسم اللّٰه الرحمن الرحيم

امام بخاری رحمہ اللّٰه کی قبر کی مٹی سے کستوری کی خوشبو آنے کا واقعہ مشہور اور زبان زدِ عام ہے۔

آج ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ کیا واقعی یہ قصّہ ثابت اور درست ہے۔

امام ذہبی رحمہ اللّٰه اس قصے کو کچھ اس طرح نقل کرتے ہیں:

وقال محمد بن أبي حاتم، سمعت أبا منصور غالب بن جبريل، وهو الذي نزل عليه أبو عبد اللّٰه يقول: “۔۔۔۔۔۔۔ فلما دفناه فاح من تراب قبره رائحة غالية أطيب من المسك، فدام ذلك أياما، ثم علت سواري بيض في السماء مستطيلة بحذاء قبره، فجعل الناس يختلفون ويتعجبون، وأما التراب فإنهم كانوا يرفعون عن القبر حتى ظهر القبر، ولم نكن نقدر على حفظ القبر بالحراس، وغلبنا على أنفسنا، فنصبنا على القبر خشبا مشبكا، لم يكن أحد يقدر على الوصول إلى القبر، فكانوا يرفعون ما حول القبر من التراب، ولم يكونوا يخلصون إلى القبر، وأما ريح الطيب فإنه تداوم أياما كثيرة حتى تحدث أهل البلدة، وتعجبوا من ذلك، وظهر عند مخالفيه أمره بعد وفاته، وخرج بعض مخالفيه إلى قبره، وأظهروا التوبة والندامة۔۔۔۔۔۔ “

 

محمد بن أبی حاتم وراق کہتے ہیں کہ میں نے أبو منصور غالب بن جبریل کو کہتے ہوئے سنا: جب ہم نے امام بخاری رحمہ اللّٰه کو دفن کیا تو ان کی قبر کی مٹی سے ایسی تیز خوشبو جو مسک سے بھی بہتر تھی آنے لگی اور کئی دنوں تک یہ خوشبو آتی رہی۔ دور دراز کے علاقوں سے لوگ قبر پر آتے اور مٹی بطورِ تبرک لے جاتے۔ حالت یہاں تک آپہنچی کہ قبر ظاہر ہونے لگی۔ آخرکار امام بخاری رحمہ اللّٰه کی قبر کو لکڑی کے جال سے گھیرا گیا تاکہ کوئی قبر تک نہ پہنچ سکے اور قبر کی مٹی محفوظ رہے۔ (خلاصہ)

[سير أعلامالنبلاء: 12/467، ط: مؤسسة الرسالة]

یہ قصہ درج ذیل کتابوں میں بھی موجود ہے:

[تغليق التعليق:(5/141)، طبقات السبكي: (2/233)، مقدمة فتح الباري: (493)، الوافي بالوفيات: (2/208) وغيرها]

 

یہ قصہ اگرچہ مشہور ہے لیکن قابلِ اعتماد سند سے ثابت نہیں۔

 

وجہ ضعف:

1. اس قصے کا راوی محمد بن أبی حاتم الوراق کی توثیق کسی سے ثابت نہیں۔

2. اسی طرح غالب بن جبریل کی توثیق بھی کسی معتبر محدث سے ثابت نہیں۔

 

محدِّث العصر زبير علي زئي رحمہ اللّٰه کے بقول امام ذہبی رحمہ اللّٰه سے لیکر محمد بن أبی حاتم تک سند بھی نا معلوم ہے۔ [مقالات: 3/580 ]

تنبیہ: واضح رہے کہ امام بخاری رحمه اللّٰه کی عظمت و جلالت خود ساختہ قصوں کی محتاج نہیں، ان کی شان و مقام کسی صاحب علم سے مخفی نہیں، اور یہ بھی یاد رہے کہ اہل حدیث اصولوں کے پابند ہیں اگر اپنے حق میں موجود روایت بھی اصول کے مطابق غیر ثابت ہو گی تو اسے رد کر دیا جائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

الجواب (اسد الطحاوی)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

موصوف کی تنبیہ پر ہم آخر میں آئیں گے پہلے انکے بنیادی اعتراضات کا جواب پیش خدمت ہے

کیا محمد بن ابی حاتم وراق مجہول راوی ہے ؟

 

موصوف کے اس اعتراض کا اندازہ ا س بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ موصوف نے اسکو مجہول قرار دے دیا ایک سطر میں جبکہ یہ امام بخاری کے مشہور کتابین میں سے ایک تھا اور یہ امام بخاری کے ساتھ مدت تک رہے ہیں ائمہ نے انکی مروایات کو قبول کیا ہے حدیث کی علل کے باب میں ، مناقب امام بخاری کا ۸۰فیصد حصہ انہی سے روایت ہے ۔

 

محدث امام ابن حجر عسقلانی علیہ رحمہ کا محمد بن ابی حاتم وراق کے بارے موقف اور انکی مروایات سے احتجاج کا ثبوت:

چناچہ آپ فتح الباری شرح صحیح البخاری میں فرماتے ہیں :

قال الفربري سمعت أبا جعفر محمد بن أبي حاتم وراق أبي عبد الله يقول قال أبو عبد الله عن إبراهيم مرسل وعن الضحاك المشرقي مسند ثبت هذا عند أبي ذر عن شيوخه والمراد أن رواية إبراهيم النخعي عن أبي سعيد منقطعة ورواية الضحاك عنه متصلة وأبو عبد الله المذكور هو البخاري المصنف

۔ امام فربری کہتے ہیں میں نے امام ابو جعفر محمد بن ابی حاتم وراق ابو عبداللہ کو کہتے سنا ۔ کہ امام ابو عبداللہ بخاری کہتے ہیں امام ابراہیم کی روایت مرسل ہے (ابی سعید خدری)سے اور ضحاک مشرقی کی متصل اور ثبت ہے ابی زر کے نزدیک ، انکی مراد ہے کہ کہ ابراہیم نخعی جو روایت ابی سعید سے بیان کرتے ہیں وہ منقطع ہے اور جو ضحاک ان (ابی سعید) سے روایت کرتا ہے وہ متصل ہے اور ابو عبداللہ نام جو مذکورہ ہے اس سے مراد مصنف بخاری یعنی محمد بن اسماعیل ہیں

 

اسکو نقل کرنے کے بعد امام ابن حجرفرماتے ہیں :

وكأن الفربري ما سمع هذا الكلام منه فحمله عن أبي جعفر عنه وأبو جعفر كان يورق للبخاري أي ينسخ له وكان من الملازمين له والعارفين به والمكثرين عنه

امام فربری نے یہ کلام (امام بخاری) سے سماع نہیں تھا بلکہ وہ امام ابو جعفر کے طریق سے لائے ہیں اور ابو جعفر یہ وراق ہے جو یہ امام بخاری کے لیے اوراق لکھتا تھا یعنی انکے لیے نقل کرتا تھا ، یہ امام بخاری کی صحبت میں رہے انکے (منہج واسلوب)کو جاننے والوں میں سے تھے ، اور ان سے بہت زیادہ روایت کرنے والوں میں سے تھے ۔

[فتح الباری شرح صحیح بخاری ، ج۹،ص ۶۰]

 

اور یہی وجہ ہے کہ امام بخاری اپنی صحیح میں حضرت ابو سعید سے حضرت ابراہیم النخعی کے طریق کو منفرد نہیں لیا بلکہ انکے ساتھ امام ضحاک کو متابع کے طور پر لائے

جیسا کہ صحیح بخاری میں انکی سند یوں ہے :

حدثنا عمر بن حفص، حدثنا أبي، حدثنا الأعمش، حدثنا إبراهيم، والضحاك المشرقي، عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم لأصحابه۔۔۔الخ

[صحیح البخاری ، برقم:۵۰۱۵]

 

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام ابو جعفر و ابو عبداللہ محمد بن ابی حاتم امام بخاری سے علل کے اقوال نقل کیے ہیں اور امام ابن حجر نے انکے اقوال کو ناصر ف قبول کیا ہے بلکہ ان سے احتجاج بھی کیا ہے اور امام ابو جعفر سے امام بخاری کے کثیر مناقب بھی نقل کیے ہیں جن میں سے ایک مذکورہ واقعہ بھی ہے اور امام بخاری سے متعدد مقامات پر علل کے باب میں امام ابن حجر نے امام فربری کے طریق سے امام محمد بن ابی حاتم کے بیان کردہ اقوال کو قبول کیا ہے ہم نے بطور مثال ایک اوپر پیش کردی۔

 

نیز امام ابن حجر عسقلانی کی امام محمد بن ابی حاتم وراق تک سند متصل موجود تھی جسکو انہوں نے ایک بار بیان کرکے تصریح دے دی تھی اسکے بعد وہ ڈریکٹ امام محمد بن ابی حاتم سے روایت کرتے تھے

جیسا کہ امام ابن حجر تغلیق میں امام محمد بن ابی حاتم تک اپنی متصل سند کی تصریح کرتے ہیں :

قال وراق البخاري فيما أنبأنا عبد الله بن محمد المكي إذنا مشافهة عن كتاب سليمان بن حمزة عن عبد العزيز بن باقا عن طاهر بن محمد بن طاهر عن أحمد ابن علي بن خلف أنا أبو طاهر أحمد بن عبد الله بن مهرويه أنا أحمد بن عبد الله ابن محمد بن يوسف أنا جدي أبو عبد الله محمد بن يوسف الفربري أنا أبو جعفر محمد بن أبي حاتم وراق البخاري قلت وكل ما أسوقه عن وراق البخاري فبهذا الإسناد

۔امام وراق بخاری کہتے ہیں جسکی مجھے خبر نے عبداللہ بن محمد مکی نے وہ کتاب سے سلیمان بن حمزہ سے وہ عبد العزیز سے ،وہ طاھر بن محمد سے وہ احمد بن علی سے وہ کہتے ہیں مجھے خبر دی ابو طاہر نے ، وہ کہتے ہیں مجھے خبر دی احمد بن عبداللہ نے وہ کہتے ہیں مجھے خبر دی میرے دادا امام فربری نے وہ کہتے ہیں مجھے بیان کیا ابو جعفروراق نے ۔

میں (ابن حجر ) کہتا ہوں کہ سب کچھ جو میں نے امام وراق سے روایت کیا اسکی سند یہی (ایک )طریق سے مروی ہے

[تغليق التعليق ج۵،ص۳۶۵]

 

اس سے یہ ثابت ہوا کہ امام ابن حجر عسقلانی نے جو یہ واقعہ بیان کیا تغلیق میں وہ متصل الاسناد ہے اور امام ابن حجر عسقلانی کی سند کی تحقیق کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ انکے پاس امام محمد بن ابی حاتم کی کتاب تھی جو انہوں نے مناقب امام بخاری پر لکھی تھی

 

جیسا کہ امام سمعانی اپنے شیخ کے ترجمہ میں کہتے ہیں :

كتبت عنه بنيسابور، ومن جملة ما كتبت عنه كتاب البيتوتة الصغيرة لأبي العباس السراج، بروايته عن ابن المحب، عن الخفاف، عنه.

وكتاب مناقب محمد بن إسماعيل البخاري من جمع محمد بن أبي حاتم البخاري، بروايته عن ابن خلف الشيرازي، عن أبي طاهر ابن مهرويه، عن أبي محمد أحمد بن عبد الله بن محمد بن يوسف الفربري، عن جده، عنه، وغير ذلك.

۔میں نے ان سے نیسابور میں لکھا ہے ، وہ کتب جو میں نے ان سے نقل کی ہیں ایک کتاب بیتویہ صغیر جو ابو عباس سراج کی ہے جسکو یہ ابن محلب سے خفاف سے روایت کرتا ہے ۔

اور دوسری کتاب مناقب محمد بن اسماعیل ہے جسکو جمع کیا امام محمد بن ابی حاتم بخاری نے ۔ جو یہ روایت کرتے ہیں ابن خلف کے طریق سے ان تک۔۔۔

[المنتخب من معجم شيوخ السمعاني،ص۱۲۶۹]

 

اور امام ابو جعفر کے بارے امام ابن حجر عسقلانی کہتے ہیں:

ووراقة الإمام الجليل أبو عبد الله محمد بن أبي حاتم الوراق وهو الناسخ وكان ملازمه سفرا وحضرا فكتب كتبه

اور وراق یہ جلیل القدر امام ابو عبداللہ محمد بن ابی حاتم وراق ہیں وہ ناسخ تھے جنہوں نے امام بخاری کی صحبت انکے ساتھ سفر میں موجود رہے اور ان(امام بخاری) سے کتب لکھ لیں ۔

[تغلیق التعلیق ، ج۵،ص۴۳۷]

 

یہان تک یہ ثابت ہو گیا کہ امام ابو جعفر وراق کوئی مجہول شخصیت نہیں بلکہ امام فربری جو امام بخاری کےصحیح کے راوی ہیں انہوں نے بھی بعض علل کی ابحاث امام بخاری سے خود نہیں سنی تھیں بلکہ انہوں نے امام ابو جعفر وراق پر اعتماد کیا اور چونکہ امام ابو جعفر وراق امام بخاری کی صحبت میں مستقل رہے اور سفر میں انکے ساتھ رہے نیز چونکہ وہ کاتب اور لکھنےوالے تھے تو انہوں نے امام بخاری کی تمام کتب کو لکھ لیا جس سے انکے حفظ و ضبط کی دلیل ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں رہتی کیونکہ یہ تمام چیزیں لکھتے تھے امام بخاری سے نیز ایسے راوی کی فقط عدالت کا ثبوت چاہیے ہوتا ہے اور عدالت کا ثبوت ہم اوپر پیش کرچکے امام ابن حجر انکو جلیل القدر امام کہتے ہیں

 

یہاں تک امام ابو جعفر وراق کو مجہول کہنے کا جواب مکمل ہوا!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چونکہ امام ذھبی نے بھی یہ روایت سیر اعلام میں نقل کی ہے جس پر موصوف نے اپنے شیخ زبیر زئی کی ناقص تحقیق کو نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

محدِّث العصر زبير علي زئي رحمہ اللّٰه کے بقول امام ذہبی رحمہ اللّٰه سے لیکر محمد بن أبی حاتم تک سند بھی نا معلوم ہے۔ [مقالات: 3/580 ]

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

الجواب :

موصوف نے اپنے محدث العصر کی بات لکھ کر اسکی جامد تقلید کر لی اور خود تحقیق کرنے کی زحمت نہیں کی یہ بات موصوف کے شیخ کی بالکل باطل اور کم علمی کی بنیاد پر مبنی ہے

کیونکہ ہم نے اوپر ثابت کیا ہے کہ امام سمعانی نے تصریح کی ہے کہ انہوں نے اپنی متصل سند سے مذکورہ کتاب کو بیان کیا ہے جو امام ابو جعفر محمد بن ابی حاتم نے لکھی تھی مناقب امام بخاری کے باب میں

 

اسکی تصریح امام ذھبی نے بھی اپنی سند سے ذکر کی ہے چناچہ وہ لکھتےہیں :

قاله أبو جعفر محمد بن أبي حاتم البخاري، وراق أبي عبد الله في كتاب (شمائل البخاري) ، جمعه، وهو جزء ضخم.

۔ امام ابو جعفر محمد بن ابی حاتم بخاری وراق نے اپنی کتاب شمائل بخاری میں اسکو بیان کیا ہے جسکو جمع کیا ہے جو کہ ضخیم حصہ پر مشتمل ہے

 

اسکے بعد امام ذھبی اسکی متصل سند بھی بیان کرتے ہیں اس کتاب جو کہ انہوں نے سماع کی تھی

أنبأني به أحمد بن أبي الخير، عن محمد بن إسماعيل الطرسوسي، أن محمد بن طاهر الحافظ أجاز له، قال: أخبرنا أحمد بن علي بن خلف، أخبرنا أبو طاهر أحمد بن عبد الله بن مهرويه الفارسي المؤدب، قدم علينا من مرو لزيارة أبي عبد الله السلمي، أخبرنا أبو محمد أحمد بن عبد الله بن محمد بن يوسف بن مطر الفربري، حدثنا جدي، قال: سمعت محمد بن أبي حاتم

 

اسکی متصل سند کو بیان کرنے کےبعد امام ذھبی کہتے ہیں :

، فذكر الكتاب فما أنقله عنه، فبهذا السند.

اس کتاب میں ذکر کیا ہے جو کچھ میں نے ان (ابو جعفر وراق)سے نقل کیا ہے وہ سب اسی سند سے مروی ہے

[سیر اعلام النبلاء ، ج۱۲،ص۳۹۲]

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

موصوف کا دوسرا اعتراض تھا : غالب بن جبریل کی توثیق بھی کسی معتبر محدث سے ثابت نہیں

تو عرض ہے :

غالب بن جبریل امام ابو جعفر وراق کے شیوخ میں سے ہیں اور یہ امام بخاری کے ہم عصر اہل علم شخصیات میں سے تھے اور امام بخاری سے قبر سے خوشبو آنے کے واقعہ کے یہ عینی شاہد گواہ تھے اور اس واقعہ کے بعد انہوں نے یہ وصیحت کی تھی کہ انکی قبر بھی امام بخاری کی قبر کے ساتھ ہو اور انکو وہی دفن کیا جائے چناچہ انکو بھی امام بخاری کے ساتھ دفن کیا گیا جس سے پتہ چلتا ہے یہ دین دار اور معروف شخصیت تھے

جیسا کہ امام خطیب بغدادی اپنے شیخ ناقد سے نقل کرتے ہیں :

والآخر غالب بن جبريل

وأخبرني الأزهري قال قال لنا أبو سعيد الإدريسي غالب بن جبريل الخرتنكي السمرقندي شيخ آخر كنيته أبو منصور نزل عليه محمد بن إسماعيل البخاري ومات عنده وتولى أسباب دفنه حكى ذلك عنه أبو جعفر محمد بن أبي حاتم وراق محمد بن إسماعيل قال الإدريسي لا أعلم له حديثا مسندا يقال إنه كان من أهل العلم تحكى عنه حكايات وفضائل لمحمد بن إسماعيل ذكر لي أن غالب بن جبريل هذا مات بعد البخاري بقليل وأوصى أن يدفن إلى جنبه.

 

امام خطیب کہتے ہیں مجھے میرے شیخ امام ازھری نے خبر دی وہ کہتے ہیں مجھے ابو سعید الادریسی نے کہا : غالب بن جبریل خرتنکی سمرقندی شیخ ہیں جنکی کنیت ابو منصور ہیں جب امام بخاری وہاں پہنچے اور انکی وفات وہیں (خرتنک) میں ہوئی تو انہوں نے انکو دفنانے کا سدباب کیا ، اور ان سے امام ابو جعفر ابن ابی حاتم وراق یہ واقعہ بیان کرتے ہیں ۔ اور کہا کہ ادریسی کے بارے حدیث و مسند کے بارے میں نہیں جانتا اور کہا کہ یہ (غالب بن جبریل) اہل علم لوگوں میں سے ایک تھے ، اور یہ امام بخاری کے فضائل میں حکایت (قبر سے خوشبوں والی)بیان کرتے ہیں ۔ اور مجھ سے غالب بن جبریل نے یہ بات بیان کی ۔ اور یہ امام بخاری کی وفات کے تھوڑے عرصے بعد فوت ہوگئے اور اپنے بارے وصیحت کی کہ انکو امام بخاری کے جانب دفنایا جائے۔

[المتفق والمفترق، برقم:۱۱۴۶]

 

اس سے معلوم ہوا کہ امام بخاری کی قبر سے کستوری کی خوشبو والی روایت کے جنکے سامنے یہ کرامت واقع ہوئی ا نکی عدالت بھی ثابت ہے یہ اپنے زمانے کے معروف اہل علم لوگوں میں سے ایک تھے اور یہ آگے کسی سے روایت نہیں بیان کر رہے جو انکے ضبط کی دلیل ہونی چاہیے بلکہ یہ خود عینی شاہد ہیں اسکے لیے انکی عدالت ثابت ہونا لازم ہے جو کہ ہم نے اوپر ثابت کر دی ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

خلاصہ تحقیق:

امام بخاری سے یہ واقعہ بااعتبار رجال سے مروی ہے

اور امام ابو جعفر محمد بن ابی حاتم امام بخاری کے خاص تلامذہ میں سے تھے اور انکی مرویات کو سب سے زیادہ جاننے والے اور لکھنے والے تھے یہاں تک کہ امام فربری نے بھی بہت سی مرویات انکے طریق سے امام بخاری نے بیان کی ہیں

اور امام ابن حجر کے پاس امام محمد بن ابی حاتم کی کتاب تھی اور ایسے ہی امام ذھبی کے پاس یہ کتاب تھی جسکا نام شمائل بخاری تھا جسکو بقول امام سمعانی کے امام ابو جعفر نے جمع کیا انکی حکایات کو ۔

اور وہ چونکہ ناسخ و کاتب تھے تو انکی عدالت کی ضرورت ہے ضبط کی نہیں لیکن اسکے باوجود امام ابن حجر و دیگر حفاظ نے انکی مروایات کو قبول کیا ہے اور احتجاج کیا ہے

نیز اس روایت کے مرکزی راوی خود اہل علم لوگوں میں سے تھے اور عینی شاہد ہیں اس کرامت کے اور اس واقعہ کے بعد انہوں نے خود کو بھی وہیں دفن کرنے کی وصیحت کی تھی ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

حد ہے جنکا شیخ امام بخاری کی جز رفع الیدین کو امام بخاری کے ایک مجہول شاگرد محمود بن اسحاق سے قبول کرتا ہے جسکی تفصیل اتنی بھی نہیں ہے جتنی اس راوی وراق کی ہے اور راوی محمود بن اسحاق اسکی کوئی صریح اور نہ ہی ضمنی توثیق مروی ہے جسکا دعویٰ ہو کہ انکے شیخ زبیر زئی نے معتبر اصول پر محمود بن اسحاق کی توثیق ضمنی ثابت کی ہے تو جب کوئی یہ دلیل دیگا تو اسکا پوسٹ مارٹم بھی پیش کر دونگا کہ انکے شیخ نے کس طرح اپنے اندھے بھکتوں کو بیوقوف بنایا

ایک مجہولیے سے پوری کتاب تسلیم کر لیتے ہیں اور دوسری طرف اس سے بہتر راوی سے ایک کرامت مروی ہو جائے تو رد

 

تحقیق:اسد الطحاوی الحنفی البریلوی