قرآنیات

دلوں کی مشابہت اور فکروں کی مماثلت

✍️ پٹیل عبد الرحمٰن مصباحی، گجرات (انڈیا)

__________________________________________________

 

وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ لَوْ لَا یُكَلِّمُنَا اللّٰهُ اَوْ تَاْتِیْنَاۤ اٰیَةٌؕ- كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّثْلَ قَوْلِهِمْؕ- تَشَابَهَتْ قُلُوْبُهُمْؕ- قَدْ بَیَّنَّا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ (بقرۃ، 118)

ترجمہ: اور جاہل بولے اللہ ہم سے کیوں نہیں کلام کرتا یا ہمیں کوئی نشانی ملے ان سے اگلوں نے بھی ایسی ہی کہی ان کی سی بات اِن کے اُن کے دل ایک سے ہیں بیشک ہم نے نشانیاں کھول دیں یقین والوں کے لئے.

 

آیت کا پس منظر یہ ہے کہ مشرکین میں سے کچھ ڈھیٹ قسم کے جاہل (الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ) لوگوں نے اسلام کی دعوت سے اعراض کے لیے اپنے زعم میں کچھ شاندار عقلی بہانے تراشے اور اس کے پرچار میں لگ گئے. ان کے نام نہاد عقلی بہانوں میں اول یہ تھا کہ اگر یہ قرآن واقعی خدا کا کلام ہے تو خدا ہم سے براہ راست کلام کیوں نہیں کر لیتا؟ یہ کیا بات ہوئی کہ مخاطب پوری انسانیت ہو اور کلام صرف ایک شخص پر نازل کیا جائے! پھر دوسرے درجے میں یہ بات لائے کہ چلیں اگر ایک شخص کو مقتدا کی حیثیت سے وحی کا مخاطب بنا بھی دیا تو کم از کم یہ کر دیا جاتا کہ اس کے ساتھ کوئی کھلی نشانی رکھی جاتی جِسے دیکھ کر ہم جان لیتے کہ یہی شخص مخلوق کے لیے ہادی و رہبر ہے، مثلاً کوئی فرشتہ ان کے ساتھ چلتا جو ان کی نبوت کا اعلان کرتا یا پھر ان کے پاس کوئی خزانہ ہوتا جو انھیں طلب معاش سے بے نیاز کر دیتا وغیرہ وغیرہ.

 

در اصل ان منکروں کی کوشش یہ تھی کہ اسلام کی حقانیت کے تمام تر دلائل دیکھنے کے باوجود اپنے انکار کو کسی عقلی استدلال کی بے ساکھی فراہم کریں اگر چہ وہ کباڑ کی لکڑی سے ہی بنی ہو، یعنی کوئی ایسا بہانہ تراشنا جو حقیقت میں تو مغالطہ ہو مگر بظاہر خوبصورت سی دلیل معلوم ہو. جواباََ ارشاد فرمایا گیا کہ یہ کوئی نیا ڈھکوسلا نہیں ہے. ہر دور کے عقل پرستی میں مبتلا کم ظرفوں کا یہی وطیرہ رہا ہے کہ جب ان کے سامنے حق روز روشن کی طرح عیاں ہو جائے تو وہ اپنے مزعومہ عقلی استدلال کی چمگادڑ والی آنکھ لگا کر دن دہاڑے اندھے بن جاتے ہیں. ایسوں کو پیغام دیا گیا کہ تم سے پہلے والے عقل پرست بھی حق سے انکار کی کوئی راہ نہ پا کر ایسی ہی باتیں بنایا کرتے تھے. جیسے حق کا انکار کرنے میں وہ تمہاری طرح ڈھیٹ تھے ایسے ہی اپنے منکرانہ رویّہ کا بہانہ گھڑنے میں بھی وہ تمہاری ہی طرح بد عقلی کا ثبوت دیتے تھے.

 

اس کے بعد آیت میں ہر دور کے منکرین کے درمیان؛ دعویٰ، دلیل، طرز خطاب اور انتخاب الفاظ کے اعتبار سے پائی جانی والی یکسانیت و مماثلت کی وجہ بیان ہوئی ہے. قبل اسلام سے لے کر آج تک مسلسل ہر دور میں منکرین کے ایک ہی فکری روش پر چلنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ ان کے دل ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں. جیسے شکل شکل سے مشابہ پوتی ہے ایسے ہی دل بھی دل سے مشابہ ہوتے ہیں. دل صراط مستقیم پر جما ہو تو تمام تر فکری کمزوری کے باوجود منہ سے بات اہل یقین کی سی نکلتی ہے اور اگر دل راہ راست سے بھٹک جائے تو تمام تر فکری پختگی کے باوجود زبان سے نکلنے والی بات تشکیک زدہ بے خرد آدمی کی سی ہوتی ہے.

 

انکار حق میں دلوں کے باہم ملنے کی تاریخ بھی بڑی طویل ہے. جیسے قوم موسیٰ کہہ رہی تھی کہ “ہم ایمان نہ لائیں گے جب تک عَلانیہ خدا کو نہ دیکھ لیں” ایسے ہی دور رسالت کے مشرکین کہہ رہے تھے کہ” ہم ایمان نہ لائیں گے جب تک اللہ ہم سے خود کلام نہ کرے” اور آج کا ملحد بھی ان دونوں باتوں پر ہی اٹکا ہوا ہے. تمام تر عقلی، مادی اور تعلیمی ترقی کے دعووں کے باوجود آج کا ملحد کل کے منکر سے ایک قدم بھی آگے نہیں جا پایا ہے. فرعون کے سوال “یہ رب العالمين کیا شے ہے” کی بازگشت آج کے ملحد کے بیان “خدا ایک واہمہ ہے” میں صاف طور پر سنائی دیتی ہے. خدا کے نازل کیے ہوئے کلام اور اس کی طرف سے بھیجے گئے رسول کو نہ ماننے کے لیے اتنے پرانے گھسے پٹے مغالطے کو آج کا ملحد ایسے لیے بیٹھا ہے جیسے موجودہ دور میں انکار حق کے لیے کوئی نئی اور بہت معقول وجہ ہاتھ لگ گئی ہو.

 

جلالین میں “تشابھت قلوبھم” کے تحت لکھا ہے: “فِيهِ تَسْلِيَة لِلنَّبِيِّﷺ” یعنی اِس فرمان میں نبی کریم ﷺ کے لیے تسلی ہے.

تسلی اس طور پر کہ محبوب تمہیں ان کے انکار سے پریشان نہیں ہونا چاہیے، اس لیے کہ ان کا انکار کسی معقول وجہ یا مناسب عذر کے سبب نہیں ہے بلکہ محض دلوں کی کجی اور فکری غلط روی نے انہیں حق سے دور رکھا ہے.

ہم کہتے ہیں: اس میں نبی کریم ﷺ کے امتیوں کے لیے بھی تسلی ہے، خاص کر ان کے لیے جو دین کی تبلیغ و اشاعت کا کام کرتے ہیں. اس طور پر کہ ہر دور میں حق کا منکر عقل سے پیدل رہا ہے مگر اسے کبھی بھی اپنی بد عقلی کا احساس نہ ہوا، وہ تو اپنے آپ کو بڑا عقل مند سمجھتا ہے حالانکہ یہ محض اس کا گمان ہوتا ہے. کچھ ایسا ہی حال موجودہ دور کے ملحدین کا بھی ہے، لہٰذا ان کے انکار اور عقلیت کے دعووں سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں. بس یقین رکھیں کہ اللہ سے زیادہ سچی بات کسی کی نہیں.

 

آیت کے آخری حصے میں تمام تر نظریاتی اختلافات کی بنیاد واضح کی گئی ہے. وہ یہ کہ یقین اصل دولت ہے، جِسے یقین میسر ہے وہ کائنات کے ہر ذرہ میں خالق و مالک کی نشانیاں پا لیتا ہے اور جو یقین سے خالی ہے وہ تمام تر نشانیاں دیکھنے کے باوجود معرفت الٰہ سے محروم رہ جاتا ہے.

 

یہاں قرآن کا اعجاز بھی ملحوظ رہے کہ قرآن میں جدید ملحدانہ نظریات کی قلعی تقریباً 15 صدیوں قبل کھول دی گئی، وہ بھی اتنے واضح الفاظ میں کہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ترکی بہ ترکی جواب دیا جا رہا ہو. پھر اختصار اور جامعیت کا یہ عالم کہ ملحدین کی ہزاروں صفحات کی ہرزہ سرائی کا جواب صرف ایک آیت میں.

06.10.1443

08.05.2022