*فلاحی ریاست کے گیارہ اہم اصول قرآن و حدیث سنت کی رو سے ملاحظہ کیجیے….اور عمران خان اسکے چاہنے والوں اور دیگر سیاستدانوں عدلیہ فوج ذمہ داران کے نام کھلا پیغام…….!!*

.

القرآن:

فَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِہٖ وَ عَزَّرُوۡہُ وَ نَصَرُوۡہُ وَ اتَّبَعُوا النُّوۡرَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ مَعَہٗۤ ۙ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ

پس جو لوگ ( آخری نبی، آخری رسول)حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور ان کی عزت کی اور ان کی مدد کی اور اس نور(قرآن و حدیث سنت)کی پیروی کی کہ جو نور اس پر نازل کیا گیا ہے وہی لوگ فلاح والے ہیں

(سورہ اعراف آیت157)

.

①فلاحی ریاست کا پہلا اہم اصول ہی یہی ہے کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر کامل ایمان لایا جائے اور ان کی عزت کی جائے ان کی ناموس کی حفاظت کی جائے اس کی ناموس و عزت پے پہرہ دیا جائے…. جو گستاخ کو گستاخ نہ کہہ سکیں ، جو گستاخ کو بے گناہ کہلوا کر بھگا دیں وہ بھلا ناموس رسالت کے پہرےدار ہوسکتے ہیں…..؟؟

سیاستدانوں اور خاص طور پر عمران خان اگر تم واقعی فلاحی ریاست کے سچے دعویدار ہو تو کم سے کم، کم سے کم ، کم سے کم اتنا تو کرو کہ بڑے گستاخ ویلڈر کو کم سے کم گستاخ تو کہو…کسی پاکستانی معروف سیاستدان میں اتنی جرات و غیرت نہ دیکھنے کو ملی کہ گستاخ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتے کہ تم گستاخ ہو یا فلاں گستاخ ہے یا فلاں گستاخی ہے ہم مذمت و معافی کا مطالبہ کرتے ہیں

پھر

سمجھاتے کہ اے ناداں گستاخی سے باز آجا، تیرے فلاں اعتراض کا جواب یہ ہے، سمجھایا جاتا شکوک شبہات اعتراضات دور کرنے کی بھرپور کوشش کی جاتی مگر جب گستاخ کہنے یا گستاخی کی کہنے کا بھی دم نہیں تو سمجھائیں گے کیا خاک….؟؟

.

نبی پاکﷺکی تعظیم.و.تقدس مسجد نبوی سے کہیں بڑھ کر ہے، عمران و پی پی اور لیگی حکومت و میڈیا سیاستدان لیڈرز انکے ورکرز نے کبھی گستاخ رسول کی مذمت و سزا کا مطالبہ کیا…؟؟ کبھی اتنا تڑپے…؟؟ لگتا ہے لیگی لیڈرز کی بےعزتی اور عمران کو اقتدار سے ہٹانے پے دونوں کے ورکرز تڑپ اٹھے…؟؟ اللہ انہیں ہدایت دے

.

②فلاحی ریاست کا دوسرا اہم اصول یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یعنی دین اسلام کی یعنی علماء و مبلغین مدارس کی اور غرباء کی مدد کی جائے… افسوس کہ کئی لوگ کئی دولت مند کئ لیڈر غریبوں کی مدد تو کرتے ہیں لیکن اصل مقصد یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد یعنی اسلام کی مدد یعنی علماء و مبلغین کی مدد یعنی دین اسلام پھیلانے کے لئے مدد نہیں کرتے… اصل مشن اسلام پھیلانا ہے تبلیغ کے ذریعہ سے ، افھاام و تفہیم کے ذریعے سے، امن معاہدوں کے ذریعے سے، برحق جہاد کے ذریعے سے،

.

افسوس صرف غریبوں کی مدد، لنگر خانے، ہسپتال، سستائی، وغیرہ ہی کو فلاحی ریاست سمجھا جانے لگا ہے جبکہ یہ ایک حصہ ہے فلاحی ریاست کا مگر فلاحی ریاست کے دیگر اہم اصول پر عمل ہو تب ہی یہ غریبوں کی مدد فلاح سمجھی جائے گی ورنہ مکاری چاپلوسی وغیرہ کہلائے گی

الحدیث،ترجمہ:

اسےسخاوت،لوگوں کی امداد،صلہ رحمی خدمات وغیرہ کچھ فائدہ نہ دیں گےکیونکہ وہ یہ سب واہ واہ،دنیاوی مفاد و مطلبیت اور لوگوں کو اپنا خوشامدی چاپلوس بنانےکےلیےکرتا تھا(مجمع زوائد حدیث465ملخصا)

.=======================

القرآن:

وَلۡتَکُنۡ مِّنۡکُمۡ اُمَّۃٌ یَّدۡعُوۡنَ اِلَی الۡخَیۡرِ وَ یَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ یَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ ؕ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ

اور تم میں سے ایک گروہ ایسا ہونا چاہئے کہ جو بھلائی کی طرف بلائے اور نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے،یہی فلاح پانے والے ہیں

(سورہ آل عمران ایت104)

.

③فلاحی ریاست کا تیسرا اہم اصول یہ ہے کہ بھلائی کی طرف بلایا جائے، نیکی کا حکم دیا جائے اور برائی سے روکا جائے…. عمران خان صاحب جب آپ کو نکالا گیا تب آپ کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر یاد آیا

مگر

اصل امر بالمعروف اور نہی عن المنکر تو یہ ہے کہ سب سے پہلے اللہ اور رسول کے گستاخوں کی اصلاح کا بندوبست کیا جائے اسے سمجھایا جائے ضدی فسادی گستاخ کو گستاخ کہا جائے ممکن ہو تو ٹھکانے لگایا جائے، ضدی فسادی سے بائیکاٹ احتجاج وغیرہ عملی اقدام اور دھمکیوں کے ذریعے روکا جائے

.

اصل امر بالمعروف و نہی عن المنکر تو یہ ہے کہ بے پردگی و بے حیائی کو روکا جائے…. فلموں گانوں مخلوط تعلیم پر پابندی لگائی جائے … فلموں گانوں بے حیائی بے پردگی والے چینلز پر پابندی لگائی جائے…

.

امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے دعویدار عمران خان صاحب اگر سچے ہو تو اپنے جلسوں کو مرد عورت کے اختلاط سے محفوظ بناؤ، اگر اختلاط کیا تو یہ عالمی دباؤ میں دب جانا نہین تو اور کیا ہے…؟؟ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا غلط استعمال کرنا نہیں تو اور کیا ہے….؟؟

الحدیث:

أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِيَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَى النِّسَاءِ

بےشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ (نامحرم،جن سےخلوت و اختلاط ممنوع ہو ان)عورتوں کے ساتھ خلوت،اختلاط،میل جول سے خود کو بچاؤ

(بخاري حدیث5232)

.

الْخَلْوَةُ بِالْأَجْنَبِيَّةِ مَكْرُوهَةٌ وَإِنْ كَانَتْ مَعَهَا أُخْرَى كَرَاهَةَ تَحْرِيمٍ…..هَذَا أَنَّ الْخَلْوَةَ الْمُحَرَّمَةَ تَنْتَفِي بِالْحَائِلِ، وَبِوُجُودِ مَحْرَمٍ أَوْ امْرَأَةٍ ثِقَةٍ قَادِرَةٍ….وَيَظْهَرُ لِي أَنَّ مُرَادَهُمْ بِالْمَرْأَةِ الثِّقَةِ أَنْ تَكُونَ عَجُوزًا

غیر محرم عورت کے ساتھ ہونا(اختلاط، کو ایجوکیشن) مکروہ تحریمی و گناہ ہے اگرچہ عورت کے ساتھ دوسری عورت ہو پھر بھی گناہ ہے….ہاں اگر مرد اور عورت کے بیچ میں دیوار ہو یا مضبوط پردہ ہو یا عورت کے ساتھ محرم مرد ساتھ ہو یا عورت کے ساتھ دوسری ثقہ قادرہ عورت ساتھ ہو…ثقہ قادرہ عورت سے مراد ایسی ایجڈ عورت جو حفاظت وغیرہ پر قادر ہو تو اختلاط و باہر نکلنا جائز ہے

[رد المحتار,6/368ملتقطا]

.

اصل امر بالمعروف و نہی عن المنکر تو یہ ہے کہ ملحدوں کو گستاخوں کو مغربیت لانے پھیلانے والوں کو سمجھایا جائے، روکا جائے…پابندی لگائی جائے… ڈھکےچھپے الفاظ و انداز میں مغربیت اور بے حیائی پھیلانے والے اینکر پرسنوں صحافیوں ٹیچروں درسگاہوں اسکوم کالج یونیورسٹیوں کو لگام لگائی جائے…انکی اور نصاب و نظام کی اسلامائیزیشن کی جائے

.

.=======================

القرآن:

لٰکِنِ الرَّسُوۡلُ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَہٗ جٰہَدُوۡا بِاَمۡوَالِہِمۡ وَ اَنۡفُسِہِمۡ ؕ وَ اُولٰٓئِکَ لَہُمُ الۡخَیۡرٰتُ ۫ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ

ترجمہ:

لیکن رسول اور جو رسول پر ایمان لائے اور جہاد کیا اپنی جانوں کے ساتھ اپنے اموال کے ساتھ ان کے لیے بھلائیاں ہیں اور وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں

(سورہ توبہ آیت88)

.

④فلاحی ریاست کو چوتھا اہم اصول یہ ہے کہ برحق جہاد کیا جائے….عمران کہتا ہےجنگ حل نہیں مگر اسلام کہتا ہے مخالف معقولیت کا ماننے والا ہوتو جنگ حل نہیں، مگر مخالف ضدی فسادی ہوتو جنگ،جہاد قتل للکار ہی حل ہے(مسلم1731…بریقہ2/186) سیاستدانوں اور بالخصوص عمران خان صاحب اگر واقعی تم سچے فلاحی ریاست کے دعویدار ہو تو کہو کہ ضدی فسادی معقولیت کا نا ماننے والے کا علاج جنگ اور جہاد اور قتل ہی ہے

.

*غیر مسلموں سے جہاد اور جہاد کے اصولوں کا خلاصہ اور غیرمسلم دہشتگردی کی جھلک*

سب سے پہلے اہل علاقہ کو دعوتِ حق پیغامِ اسلام دینا ہے…سمجھانا ہے، انکی.شکوک و شبہات کا جواب دینا ہے اسکے لیے لمبہ عرصہ بھی لگ سکتا ہے……سمجھانے کے بعد اگر اسلام قبول کر لیں تو بہتر ورنہ انہیں امن کا معاہدہ پیش کیا جائے گا قبول کرلین تو بہتر ورنہ امن کے بجائے دشمنی جنگ پر اتر آئیں تو اگر اہل اسلام مین جنگ کی طاقت ہو تو جہاد اس طرح کریں کہ بچے بوڑے عورتیں بیمار کمزور اور امن والے سب کے سب کو نقصان نا پہنچایا جائے حتی کہ کوشش کی جائے کہ کسی جاندار بلکہ کوشش کی جائے کہ فصلوں درختوں عمارتوں کو بھی نقصان نا پہنچے

(دیکھیے مسلم حدیث1732 الخ بخاری حدیث3015 موطا امام مالک روایت نمبر982)

جبکہ

غیرمسلموں کے جنگ کے ایسے اصول نہیں، کوئی سمجھنا سمجھانا نہیں… عورتوں بچوں بوڑھوں مریضوں کمزوروں کا کوئی لحاظ نہیں رکھا جاتا…

.

امریکہ کا افغانستان مین مدرسے کے بچوں پر حملہ اسکی تازہ مثال ہے…..اب آئیے تاریخ اٹھا کر دیکھیے کہ بچوں بوڑھوں عورتوں کمزوروں کا لحاظ کییے بغیر قتلِ عام کس نے کیا……؟

1- ہٹلر، آپ جانتے ہیں وہ کون تھا؟ وہ عیسائی تھا، لیکن میڈیا نے کبھی اس کو عیسائی دہشت گرد نہیں کہا۔

2- جوزف اسٹالن، اس نے بیس ملین (ایک ملین، دس لاکھ کے برابر) انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارا، جس میں سے ساڑھے چودہ ملین بھوک سے مرے۔ کیا وہ مسلم تھا؟

3- ماوزے تنگ،اس نے چودہ سے بیس ملین انسانوں کو مارا۔کیا وہ مسلم تھا؟

4- مسولینی، چار لاکھ انسانوں کا قاتل ہے کیا وہ مسلم تھا؟

5- اشوکا، اس نے کلنگا کی جنگ میں ایک لاکھ انسانوں کو مارا، کیا وہ مسلم تھا؟

6- جارج بش کی تجارتی پابندیوں کے نتیجے میں صرف عراق میں پانچ لاکھ بچے مرے۔ انکو میڈیا کبھی دہشت گرد نھیں کہتا۔

7- پہلی جنگ عظیم میں 17 ملین لوگ مرے اور جنگ کا سبب غیر مسلم،

8- دوسری جنگ عظیم میں 50-55 ملین لوگ مارے گئے اور سبب غیرمسلم

9- ناگاساکی پر ایٹمی حملے میں 2 لاکھ لوگ مرے اور اس کا سبب غیر مسلم

10- ویتنام کی جنگ میں 500000 اموات کا سبب بھی غیر مسلم

11- بوسنیا کی جنگ میں بھی پانچ لاکھ اموات ہوئیں…مارنے والے غیرمسلم

12- عراقی جنگ میں اب تک ایک کروڑ بیس لاکھ اموات… مارنے والے غیرمسلم

13- افغانستان، فلسطین اور برما میں مسلم کشی کرنے والے بھی غیرمسلم

14- کمبوڈیا میں تقریبا 300000 اموات کا سبب بھی غیر مسلم

.

الحاصل:

ایک تو قتل و غارت کرنے والے غیرمسلم گذرے ہیں اور پھر قتل و غارت میں بچوں بوڑھوں عورتوں کمزوروں وغیرہ کا خیال نہیں کیا جاتا رہا اور جنگ سے پہلے سمجھنے سمجھانے اور امن معاہدے کرنے نبھانے کا تصور بھی غیرمسلموں میں بہت بہت کم…..!! لیھذا امن.و.ترقی کے نام پر یہ انکی کھلی دہشتگردی ہے اور اخبارات میڈیا انکے گھر کی لونڈیاں بکاو ایجنٹ غلام……..!!

.

 

*نااہل منافق مکار ایجنٹوں سے جہاد………!!*

الحدیث:

“أَفْضَلُ الْجِهَادِكَلِمَةُ عَدْلٍ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ، أَوْ أَمِيرٍ جَائِرٍ..

وفي رواية النسائي والحاكم “كلمة الحق”

یعنی

راہِ حق سے ہٹے ہوے بادشاہ یا راہِ حق سے ہٹے ہوے امیر(امیر مطلب لیڈر، قاضی، جج، سردار وغیرہ کؤئی بھی ذمہ دار، عھدے دار)کے پاس عدل.و.حق کی بات کہنا افضل جھاد ہے(ابوداؤد حدیث نمبر4344)

.القرآن..ترجمہ:

اپنے رب تعالیٰ کی راہ (دین اسلام)کی طرف بلاؤ حکمت(دانائی،سمجھداری)کے ساتھ اور اچھی وعظ.و.نصیحت کے ساتھ.. اسلام نے خوب سمجھایا….بہت سمجھایا…. بار بار سمجھایا مگر اسلام نے “ضدی منافق ہٹ دھرم کے متعلق یہ طریقہ بھی بتایا کہ:القرآن

يا أيها النبي جاهد الكفار والمنافقين واغلظ عليهم

ترجمہ:اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم)کافروں اور منافقوں سے جہاد کریں اور ان پر سختی کریں(سورہ توبہ آیت73)حکمت ہی کا تقاضا ہے کہ سمجھایا جائے، نرمی برتی جائے، اور اسی حکمت کا تقاضا ہے کہ منافق ضدی فسادی پر سختی برتی جائے، اسی حکمت کا تقاضا ہے کہ کچھ جرائم پر سزا مقرر کی جائے، سزا دی جائے…. اسی میں معاشرے کی بھلائی بھی ہے تو ضدی فسادی کا علاج بھی..

.

نا اہلوں سے جھاد….اور وہ بھی تین طریقوں سے:

نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

پہلے کی امتوں میں جو بھی نبی علیہ الصلاۃ والسلام گذرا اسکے حواری تھے،اصحاب تھے جو اسکی سنتوں کو مضبوطی سے تھامتے تھے اور انکی پیروی کرتے تھے،

پھر

ان کے بعد ایسے نااہل آے کہ جو وہ کہتے تھے اس پر عمل نہیں کرتے تھے،اور کرتے وہ کچھ تھے جنکا انھیں حکم نہیں تھا، جو ایسوں سے جہاد کرے ہاتھ سے وہ مومن ہے

اور جو ایسوں سے جھاد کرے زبان سے وہ مومن ہے

اور جو ایسوں سے جھاد کرے دل سے وہ مومن ہے

اور اس کے علاوہ میں رائ برابر بھی ایمان نہیں

(مسلم حدیث 50)

*نااہلوں منافقوں ایجنٹوں سے جہاد فوج عدلیہ کرے گی عوام کرے گی لیڈر کریں گے….لیھذا فوج و عدلیہ کو مطلقا سیاست سے دور سمجھنا ناحق ہے،عدلیہ و فوج کا سیاست میں، سیاست و سیاستدانوں کو اچھا کرنے اچھا رکھنے میں بڑا اہم کردار ہے مگر یہ کردار اسلام و حق سے مشروط ہے…سچے اچھے خودار اسلامی لیڈر کی کال پے نکلیے نااہلوں کے خلاف غلاموں بزدلوں کے خلاف، چوروں مکاروں ایجنٹوں کے خلاف*

.

*مظلوم کشمیری فلسطینی برمی وغیرہ کی ہر ممکن مدد بھی جہاد………..!!*

#کشمیر_برما_فلسطین وغیرہ کے مظلوم مسلمانوں کی جانی مالی ہرطرح کی امداد و تعاون دیگر مسلمان ممالک پر حسبِ طاقت لازم ہے

القرآن:

وَإِنِ اسْتَنصَرُوكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ

ترجمہ:

اور اگر وہ تم سے دین کی خاطر مدد طلب کریں تو تم پر انکی مدد کرنا لازم ہے..(انفال ایت72)

بلکہ

اگر مسلمانانِ کشمیر ، یا مسلمانانِ فلسطین یا دیگر علاقوں کے مسلمان جہاد نا کریں یا سستی کریں تب بھی انکے گرد و نواح کے مسلم علاقوں مثلا پاکستان،عرب وغیرہ پر لازم ہو گا کہ وہ جہاد کو زندہ رکھیں، مقبوضہ مظلومہ علاقوں کے سست مسلمانوں میں حوصلہ ، ہمت ، شعور بڑھائیں اور آزادی کی تحریک ان میں پیدا کریں.. انہیں آزادی دِلا کر قریبی مسلم ملک کا صوبہ بنایا جائے یا الگ سے مسلم ملک بنایا جائے دونوں جائز ہیں

مگر

یاد رہے کہ آزادیِ پاکستان معاہدات.و.وعدوں کےمطابق کشمیر پاکستان کاحصہ بنانا واجب ہے، مگر مجبورا یہ بھی روا کہ کشمیر الگ اسلامی ملک بنایاجائے

.

فتاوی شامی میں ہے کہ:

فإن عجزوا أو تكاسلوا فعلى من يليهم حتى يفترض على هذا التدريج

ترجمہ:

اگر اہل علاقہ جہاد کرنے سے عاجز آ جاءیں یا سستی کی وجہ سے جہاد نا کریں تو جہاد ان مسلمانوں پر فرض ہو جاءے گا جو ان کے اردگرد ہیں پھر ان پر جو ان کے قریب ہوں اسی طرح تدریجا جہاد فرض ہوتا جائے گا

(شامی 4/126)

.

*بائیکاٹ بھی جہاد کا حصہ*

صحابہ کرام علیھم الرضوان کا فتوی و فرمان،ترجمہ:

ہم نےان سے(تجارتی ریہائشی وغیرہ)امن و معاہدے اس لیےنہیں کیےکہ وہ نبی پاکﷺکی گستاخی کریں(سبل الھدی10/457)عمران خان و حکومت کئ سیاستدان کہتے ہیں کہ فرانس سےبائیکاٹ کا کیا فائدہ…؟؟

تبصرہ:

روس نےامریکہ سےاور امریکہ نےروس سےبائیکاٹ کیا،سفیر نکالے،فائدہ…؟؟ انڈیا سےپاکستان کا بائیکاٹ جاری،فائدہ…؟؟

اظہارِ محبت،اظہار یک جہتی، پاور.و.غیرت کا اظہار بھی بڑےفائدہ ہیں،باقی چھوٹے فائدے الگ…کتےتو بھونکنا کبھی نہیں چھوڑیں گے،ہم کیوں بےحسی کریں…؟؟

.

*جدت و ترقی بھی جہاد کا حصہ ہے*

القرآن..ترجمہ:

جو قوت،طاقت ہوسکے تیار رکھو..(انفال60)

آیت مبارکہ مین غور کیا جائے تو ایک بہت عظیم اصول بتایا گیا ہے… جس میں معاشی طاقت… افرادی طاقت… جدید ہتھیار کی طاقت…دینی علوم و مدارس کی طاقت, جدید تعلیم و ترقی کی طاقت…. علم.و.شعور کی طاقت… میڈیکل اور سائنسی علوم کی طاقت… جدید فنون کی طاقت… اقتدار میں اچھے لوگوں کو لانے کی طاقت.. احتیاطی تدابیر مشقیں جدت ترقی

اور دیگر طاقت و قوت کا انتظام کرنا چاہیے… یہ بھی جہاد کا حصہ ہیں..اس ایت مبارکہ سے اچھی جدت و ٹیکنالوجی اچھی دولت طاقت سب کا ثبوت ہےایک دفعہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام کے پاس دولتمندی کا تذکرہ ہوا تو آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:

لا بأس بالغنى لمن اتقى، والصحة لمن اتقى خير من الغنى، وطيب النفس من النعيم

ترجمہ:

دولت مندی(جائز طریقے سے دولت پیسہ کمانے) میں کوئی مضائقہ نہیں اُس کے لیے جو تقوی کرے، اور صحت دولت سے بہتر ہے اُس کے لیے جو تقوی کرے،اور اچھی طبیعت(خوش اخلاقی، پاکیزہ طبیعت) نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے

(ابن ماجہ حدیث2141)

الحدیث،ترجمہ:

کیا ہی اچھا ہے وہ “اچھا مال” (وہ پاکیزہ، حلال مال.و.دولت) جو اچھے شخص کے پاس ہو..(مسند احمد حدیث7309)

الحدیث،ترجمہ:

طاقتور(اچھی دولت طاقت والا) مومن کمزور مومن سےزیادہ بہتر و اللہ کو زیادہ محبوب ہے(مسلم حدیث2664)

فتاوی رضویہ میں ہے

جدت ممنوع نہیں بشرطیکہ کسی ممنوع شرعی میں شامل نہ ہو(فتاوی رضویہ22/191)

اسلام جدت ، جدید تعلیم.و.ٹیکنالوجی اچھی پاکیزہ معیشت دولت کےخلاف نہیں بلکہ اسےکسی حد تک ضروری تک قرار دیتا ہے

مگر

جدت و تعلیم کے نام پر خفیہ سیکیولرازم، لبرل ازم ،فحاشی بےحیائی غلامی ایجنٹی منافقت،کھلی آزادی کےخلاف ہے

مدارس کی جدت اچھا اقدام ہے

مگر

اسکول کالج یونیورسٹی کےنصاب.و.نظام کی اسلامئیزیشن اولین ترجیحی فریضہ ہے

.======================

القرآن:

اَنۡ یَّقُوۡلُوۡا سَمِعۡنَا وَ اَطَعۡنَا ؕ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ

ترجمہ:

(جب اللہ اور اسکے رسول کا حکم ہو تو) مومن یہی کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی اور یہی مومن فلاح پانے والے ہیں

(سورہ نور آیت51)

⑤فلاحی ریاست کا پانچواں اہم اصول یہ ہے کہ ہم مقدور بھر اپنی عقل سے اللہ رسول انبیاء اولیاء اسلام کے بارے میں سوچیں ….اسلام کے احکامات کے فوائد سوچیں پھیلائیں… جہاں ہماری عقل اسلام کے خلاف جاتی دکھائی دے تو وہاں ہم صرف یہی کہیں گے کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی کیونکہ ہماری عقل ناقص ہے…. ہم اپنی من مانی و پسند نہ پسند لاگو نہ کرتے پھریں، کسی قوم پارٹی کسی فرد کی من مانی نہیں چلے گی، جاگیرداروں پیسہ والوں طاقت والوں کی نہیں چلے گی، عوام کی بھی پسند نہیں چلے گی،ہاں جہاں اسلام نے پسند نہ پسند کا اختیار دیا وہاں عوام و خواص کی چلے گی… اسلام میں آسانی ہے مگر من مانی نہیں… ہم اپنے لیڈروں کے بارے میں یہ نہ سوچیں کہ جو انہوں نے کہہ دیا وہ پتھر پر لکیر…. ہاں جو اللہ اور اس کے رسول نے کہہ دیا پتھر پر لکیر

.=========================

القرآن:

مَنۡ یُّوۡقَ شُحَّ نَفۡسِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ

(سورہ التغابن آیت16)

⑥فلاحی ریاست کا چھٹا اہم اصول یہ ہے کہ اسلام و حق پے خوداری ہو، ایمانداری ہو، سمجھداری ہو، حد کا لین دین و معاہدے ہوں مگر لالچ منافقت ایجنٹی و مکاری نہ ہو

القرآن،ترجمہ:

جن کے دلوں میں مرض(منافقت کمزور ایمان)ہے وہ یہود و نصاری(کفار مخالفین اسلام)کی طرف دوڑتےہیں اس ڈر سےکہ کہیں انہیں گردش(غربت،محتاجی،تجارتی نقصان)نہ پہنچے

(سورہ مائدہ آیت52)

حکمرانوں صحافیو مسلمانوں غیرت ایمانی پےقائم رہو…غربت تکالیف بائیکاٹ قبول کرلو مگر دشمنان اسلام کی غلامی.و.منافقت بزدلی نہ کرنا…کبھی نہیں

.

.=========================

القرآن:

الَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡغَیۡبِ وَ یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ،وَ الَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلِکَ ۚ وَ بِالۡاٰخِرَۃِ ہُمۡ یُوۡقِنُوۡنَ،اُولٰٓئِکَ عَلٰی ہُدًی مِّنۡ رَّبِّہِمۡ ٭ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ

(سورہ بقرہ آیت3..4..5)

⑦فلاحی ریاست کا ساتواں اہم اصول یہ ہے کہ ہم غیب پر ایمان لاءیں اور عبادات کریں اور خرچ کریں امداد کریں اور آخرت کے متعلق قرآن و احادیث کی دی گئ معلومات کو مانیں چاہے ہماری عقل تسلیم کرے یا نہ کرے ہر حال میں اسلام کا حکم و تعلیمات ماننا ہے کیونکہ ہماری عقل کامل نہیں اور عقل سلیم اسلام ہی کو فلاح قرار دیتی ہے

.====================

القرآن:

اتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ

ترجمہ:

تقوی کرو تاکہ تم فلاح پاؤ

(سورہ بقرہ آیت189)

.القرآن:

لَا یَجۡرِمَنَّکُمۡ شَنَاٰنُ قَوۡمٍ عَلٰۤی اَلَّا تَعۡدِلُوۡا ؕ اِعۡدِلُوۡا ۟ ہُوَ اَقۡرَبُ لِلتَّقۡوٰی

کسی قوم سے دشمنی تمہیں عدل نہ کرنے پر مت ابھارے، عدل کرو یہ تقوی کے قریب ہے(سورہ مائدہ آیت8)

⑧فلاحی ریاست کا اٹھواں اہم اصول یہ ہے کہ ہم عدل و انصاف کریں حساب دیں احتساب کریں…. یاد رکھیے اسلام نے بعض معاملات میں تمام لوگوں کو برابر کر دیا ہے مساوات کا حکم دیا ہے اور بعض معاملات میں مساوات نہیں رکھی، یہ مساوات رکھنا اور بعض جگہ مساوات نہ رکھنا ہی حقیقی عدل و انصاف ہے، صحافیوں لکھاریوں کو چاہیے کہ وہ عدل و انصاف سے کام کریں اور جس حکومت کے جو کارنامے ہیں انہیں تسلیم کریں انہیں بیان کریں اور جو ان کی واقعی خامیاں ہیں وہ بیان کریں نہ کہ الزام تراشیاں کریں اور اگر کوئی توجیہ بنتی ہے کوئی شرعی مجبوری بنتی ہے تو وہ بیان کریں… ایجنٹی قومیت پیسہ رشوت لالچ دشمنی وغیرہ عدل سے ہر گز نہ روکے… اسلام تو ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہم دشمن کے ساتھ بھی عدل کریں اور اس کی وہ باتیں بیان کریں وہ خامیاں مدلل بیان کریں کہ جو اس میں واقعی ہوں… اور اپنے پسندیدہ لیڈر سچے لیڈر کی بھی وہ خوبیاں بیان کریں کہ جو اس میں واقعی ہو، مبالغہ آرائی چاپلوسی چمچہ گیری ٹھیک نہیں

.

اپنا احتساب کرو قبل اس کے کہ تمھارا احتساب کیا جائے(ترمذی تحت2459)وزرا صدر لیڈرز صحافی فوجی عدلیہ مولوی خود حساب دیں اور انکا منصف مزاج محتسب ادارہ بھی ہونا ضروری کہ یہ لوگ کیا تھے؟کیا بن گئے؟ کیسےبن گئے؟کہاں سےلیا،کہاں خرچ کیا؟مہنگائی ترقیاتی کام کیےنہ کیے؟کیوں نہ کیے؟کیسےکیے؟کتنےمیں کیے؟قرض لیا؟ دیا؟کتنا؟کہاں سے؟کیوں؟ کن شرائط پے؟کن سے؟…

عوام اپنا احتساب کرےاچھا کیا؟ برا کیا؟ کیوں کیا؟کن کو تعاون ووٹ دیا کیوں دیا؟…لکھاری صحافی حساب دیں،کیا بولا؟کیا لکھا؟کس کےلیے؟کیوں؟

.=====================

القرآن:

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الۡخَمۡرُ وَ الۡمَیۡسِرُ وَ الۡاَنۡصَابُ وَ الۡاَزۡلَامُ رِجۡسٌ مِّنۡ عَمَلِ الشَّیۡطٰنِ فَاجۡتَنِبُوۡہُ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ

ترجمہ:

اے ایمان والو… شراب اور جوا اور بت اور پانسے ناپاک ہی ہیں شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ،

(سورہ مائدہ ایت90)

⑨فلاحی ریاست کا نواں اہم اصول یہ ہے کہ شرک سے بچا جائے بچایا جائے… تکے بازی انداز بازی نجومیت مردودہ سے بچا جائے بچایا جائے، منشیات سے شراب سے بچا جائے اور بچایا جائے… سود جوا سے بچا جائے اور بچایا جائے

الحدیث:

من أتى عرافا فسأله عن شيء، لم تقبل له صلاة أربعين ليلة

ترجمہ:

جو عراف(کاہن نجومی اندازےباز، تکےباز، خلاف اسلام کشف و مراقبہ، قیافہ سناسی، دست شناسی،ڈھارو، خود ساختہ اصول و علوم وغیرہ شرعا غیرمعتبر ذرائع کے ذریعے غیبی معلومات و حالات کردار واقعات قسمت بتانے والے) کے پاس جائے اور کچھ پوچھے تو اسکی چالیس راتوں کی نماز قبول نہیں ہوتی…(مسلم حدیث2230)

نجومی جعلی قطب میڈیا پےبٹھائےہوتےہیں…ایک طرح سےمعتبر بتائےجاتےہیں…ٹیم سرعام،صحافی کب انکےخود ساختہ اصول.و.جہالات ایکسپوز کریں گے؟

.

حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم َنے شراب کے بارے میں دس شخصوں پر لعنت کی: (1) شراب بنانے والے پر۔ (2) شراب بنوانے والے پر۔ (3) شراب پینے والے پر۔ (4) شراب اٹھانے والے پر۔ (5) جس کے پاس شراب اٹھا کر لائی گئی اس پر۔ (6) شراب پلانے والے پر۔ (7) شراب بیچنے والے پر۔ (8) شراب کی قیمت کھانے والے پر۔ (9) شراب خریدنے والے پر۔ (10) جس کے لئے شراب خریدی گئی اس پر۔( ترمذی، کتاب البیوع، باب النہی ان یتخذ الخمر خلاً،۳/۴۷، الحدیث: ۱۲۹۹)

.=====================

القرآن:

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اصۡبِرُوۡا وَ صَابِرُوۡا وَ رَابِطُوۡا ۟ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ

ترجمہ:

اے ایمان والو! صبر کرو اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہو اور سرحد پر اسلامی ملک کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو اس امید پر کہ فلاح پاؤ

(سورہ آل عمران آیت200)

10)فلاحی ریاست کا دسواں اہم اصول یہ ہے کہ صبر و وسعت ظرفی اور قابل برداشت معاملے میں برداشت لازم ہے،جلد بازی ٹھیک نہیں اور فوج رکھنا اور چوکنا رکھنا اور چوکیداری پہرہ داری کرنا چاہیے

.

الحدیث:

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الأناة من الله والعجلة من الشيطان

ترجمہ:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:

انائت(جلد بازی نہ کرنا،مناسب وقت موقعہ الفاظ انداز کا لحاظ رکھنا ، ثابت قدمی، سنجیدگی، وقار، وسعتِ ظرفی،صبر) اللہ کی طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے..(ترمذی حدیث2012)

.

زندگی کا بہت ہی اہم اصول کہ جلدبازی نہیں کرنی چاہیے… چاہے دینی معاملہ ہو یا دنیاوی،

سیاسی معاملہ ہو یا ذاتی معاملہ….

باہر کا معاملہ ہو یا گھریلو معاملہ….

دوستی کا معاملہ ہو یا دشمنی کا….

محبت کا معاملہ ہو یا نفرت کا….

رشتہ توڑنے کا معاملہ ہو یا کسی سے رشتہ جوڑنے کا…

کسی پر اعتماد کا معاملہ ہو یا بے اعتمادی کا…

کسی کو سمجھنےسمجھانے کا معاملہ ہو یا تنقید کا…..

کسی کی تائید و تعریف کا معاملہ ہو یا تردید و مذمت کا…

الغرض

ہر معاملے میں جلد بازی ٹھیک نہیں، اہل علم سے، اہلِ شعور سے حتی کہ چھوٹوں سے بھی مشاورت کر لینی چاہیے مگر جلد بازی نہیں کرنی چاہیے…مناسب انداز و لحاظ رکھنا چاہیے، غصہ ہی غصہ تکبر جلدبازی میں نقصان و تباہی ہے…..اختلافات جگھڑے فسادات کی ایک بڑی وجہ عدمِ برداشت اور جلد بازی ہے

.

بری پولیس، بری رینجر.و.فوج پر فٹ آنی والی ایک حدیث مبارک….اور اچھی پولیس فورج رینجر سیکورٹی گارڈز علماء مشائخ ورکرز محافظین کی فضیلت………اللہ جل شانہ کے عطاء کردہ علمِ غیب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غیب کی خبر بتائی کہ:

قَوْمٌ مَعَهُمْ سِيَاطٌ كَأَذْنَابِ الْبَقَرِ يَضْرِبُونَ بِهَا النَّاسَ

ترجمہ:

ایسے(ظالم و جہنمی)لوگ(بری پولیس، برے فوجی، برے چوکیدار)آئیں گے جن کے ہاتھوں میں گائے کی دم کی طرح کوئی چیز(کوڑے، ہتھیار، چھڑی)ہوگی جس سے ناحق لوگوں کو ماریں گے

(مسلم حدیث2857)

.

الحدیث:

يُوشِكُ، إِنْ طَالَتْ بِكَ مُدَّةٌ، أَنْ تَرَى قَوْمًا فِي أَيْدِيهِمْ مِثْلُ أَذْنَابِ الْبَقَرِ، يَغْدُونَ فِي غَضَبِ اللهِ، وَيَرُوحُونَ فِي سَخَطِ اللهِ

ترجمہ:

اگر تیری لمبی عمر ہوئی تو عنقریب تم ایسی قوم (ظالم ،جہنمی، بری پولیس، بری فوج) کو پاؤ گے کہ جن کے ہاتھوں میں گائے کی دم کی مثل چیز(کوڑے، ہتھیار، چھڑی) ہوگی، وہ(لوگوں کو ناحق تنگ کرکے، ناحق سزا دے کر، ناحق قید کرکے، ناحق مار کر) اللہ کے غضب میں صبح کریں گے اور اللہ کی ناراضگی میں شام کریں گے

(مسلم حدیث2858)

.

اچھے.و.برحق علماء، مشائخ ورکرز،ججز جرنیلز صحافی سیاستدان پولیس و فوج وغیرہ

سب محافظین و شہداء لواحقین کو سلام

مگر

ناحق.و.برے نامنظور و مردود…. ایسی نوکری و غلامی پے افسوس………!!

.

الحدیث،ترجمہ:

اللہ کی نافرمانی میں، برائی.و.ناحق میں کسی کی بھی پیروی مت کرو…(مسلم حدیث:1840)

.

الحدیث،ترجمہ:

تم ایسے نا بنو کہ(حق ناحق کی پرواہ کے بغیر) ہر ایک کی پیروی کرتے پھرو(بلکہ حق سچ باشعور مستند علماء و حکمرانوں جرنیلوں کی پیروی.و.اطاعت کرو، حکم مانو)

(ترمذی حدیث2007)

اچھے برحق علماء مشائخ خطباء، مبلغین مجاہدین

اور

اچھے برحق پولیس فوج،سیکیورٹی کو سلام……!!

اسلام اور مسلمانوں کے لیے اللہ کی رضا.و.حق کی خاطر

#پہرہ دینے والے

#حفاظت کرنے والے

#دفاع کرنے والے

#حق گو

علماء

مصنفین

لکھاری

سوشلی

سیاستدان

ججز

صحافی

مجاہدین

سیکیورٹی ادارے

پولیس

فوج

رینجر

وغیرہ سب کی عظیم فضیلت ہے، اس فضیلت میں

وہ لوگ وہ لیڈرز اور وہ علماء بھی شامل ہین جو دین اسلام پر پہرے داری کے لیے

#میدانِ سیاست میں،

#میدانِ میڈیا میں،

#میدانِ کتابت و خطابت میں

#اور دیگر ہر قسم کے میدانِ جنگ میں نکل کھڑے ہیں…..!!

.

انہی کی بدولت ہمارا ایمان ہماری عزت و جان و مال محفوظ ہیں…انہی کی بدولت امن و سکون قائم ہے… انہی کی بدولت ہماری خوشیاں ہماری عیدیں ہمارے کاروبار قائم و دائم ہیں… انہی کی بدولت ہم آزاد گھومتے پھرتے ہیں، دینی خدمات انجام دیتے ہیں… انہی کی بدولت ہم آزادی و سکون سے اللہ کی عبادت کرتے ہیں

الحدیث:

رباط يوم وليلة خير من صيام شهر وقيامه، وإن مات جرى عليه عمله الذي كان يعمله، وأجري عليه رزقه، وأمن الفتان

ترجمہ:

ایک دن اور ایک رات کی رباط( سرحد پر اسلام و مسلمین کی پہرے داری، چوکیداری) ایک مہینے کے روزوں اور ایک مہینے کی شب بیداریوں سے افضل و بہتر ہے

اگر وہ(سرحدی محافظ فوجی مجاہد) وفات پا جائے تو جو وہ عمل کرتا تھا انکا ثواب جاری رہے گا، اور اس پر اسکا رزق جاری رہے گا اور فتنہ(قبر و آخرت کے عذاب و فتنہ) سے وہ محفوظ رہے گا…(مسلم حدیث1913)

.

اچھی پولیس فوج چوکیدار ذمہ دار پہرے دار علماء وغیرہ کے لیے دعاِ نبوی….الحدیث:

رحم الله حارس الحرس

ترجمہ:

جو حفاظت کی چیز(اسلام و مسلمین، تعلیمات اسلام، نظریات و منفردات اسلام،زمینی و نظریاتی سرحد وغیرہ) کی حفاظت و پہرے داری کرے اللہ اس پر رحمت بھیجے

(ابن ماجہ حدیث2769)

.

الحدیث:

عينان لا تمسهما النار: عين بكت من خشية الله، وعين باتت تحرس في سبيل الله

ترجمہ:

دو آنکھیں ایسی ہین کہ اسے جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی

ایک وہ آنکھ جو اللہ کے خوف میں روئے

دوسری وہ آنکھ جو اللہ کی راہ میں پہرے داری کرتے ہوئے رات جاگ کر گذارے..(ترمذی حدیث1639)

.

چوکیداری پہرے داری کی فضیلت جب ہے کہ وہ اللہ کی خاطر ہو… اسلام پسندی، حق پسندی کی خاطر ہو

منافقت ایجنٹی ، مفاد پرستی، شہرت پرستی، قومیت پرستی، ملک پرستی، وغیرہ برے مقاصد میں یہ سب ہوں تو کوئی فضیلت نہین اسی لیےکہ آیات و احادیث مین “فی سبیل اللہ” کی شرط ہے…البتہ جائز قوم پسندی و انکی ترقی و دفاع، جائز وطن پسندی و اسکی ترقی و دفاع اچھا عمل ہے مطلوب عمل ہے…..الحدیث،ترجمہ:

تم میں سےبہتر وہ ہیں جو اقارب(قوم،پارٹی،وطن)کا دفاع کریں بشرطیکہ معاملہ گناہ.و.ناحق کا نہ ہو(ابوداود حدیث5120)

.======================

القرآن:

قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ تَزَکّٰی

جس نے پاکیزگی حاصل کی وہ فلاح پاگیا

(سورہ الاعلی آیت14)

11)فلاحی ریاست کا گیارواں اہم اصول و جامع ترین اصول یہ ہے کہ ظاہری باطنی ہر قسم کی پاکیزگی اختیار کی جائے….حسد تکبر مشاورت سے بےپرواہ ہونا دوسروں کو کمتر کیڑے مکوڑے سمجھنا انانیت بے نمازگی زنا جوا الزام تراشی من موجی تہمت برا گمان جوا منشیات الغرض ہر قسم کی ظاہری باطنی برائیوں سے پاکیزگی حاصل کرنی چاہیے

القرآن..ترجمہ:

اور انکے معاملات باہم مشاورت سے ہوتے ہیں..

(سورہ شوری ایت38)

.

علامہ جلال الدین علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ:

یتشاورون فیہ ولا یعجلون

یعنی سچے اہل اسلام معاملات میں وہ باہم مشورہ کرتے ہیں اور جلد بازی نہیں کرتے..(جلالین مع الصاوی جلد2 صفحہ1879)

.

کسی بھی ملک تنظیم ادارے علاقے گھر میں جب محض ایک دو اشخاص ہی کی چلتی ہو تو وہ ناکامی کے زیادہ قریب ہوتی ہے… شوری مشاورت ہونا بہت ضروری ہے..

کیونکہ

لیڈر سربراہ یا بڑا جب اکیلا خود مختار ہو تو جلد بازی غلطی یا غلط فھمی میں ایسا کر بیٹھتا ہے یا کچھ ایسا کہہ بیٹھتا ہے کہ جو ناکامی بربادی کا سبب بنتا ہے.. ترقی نا کرنے کا سبب بنتا ہے..ذات پرستی مفاد پرستی کا ڈر ایک طرف اور ایجنٹی لالچ ضد و تکبر کا خوف دوسری طرف… اور پھر کون کب بدل جائے کوئی گارنٹی نہین دے سکتا…لیھذا شوری ہی میں عافیت اتحاد احتیاط و ترقی ہے

.

مشورے سے ایک دوسرے کی معلومات بڑھتی ہے… شعور بڑھتا ہے.. صبر و وسعت ظرفی ملتی ہے.. حوصلہ ہمت تجربہ ملتا ہے…نئے جوانوں کو مشاورت میں لینا، افھام و تفھیم کرنا…اپنے جیسے کئ مددگار لیڈرز بنانا ہی ترقی کا راز ہے

.

چھوٹوں کی بات، مشورے کو عار مت سمجھیے،

تسلی بخش افھام تفھیم والا جواب دیجیے ورنہ چھوٹے کی بات مشورہ قبول کر لیجیے

استاد لیڈر سربراہ کسی بڑے کو مشورہ دینا……..؟؟

بن مانگے مشورہ رائے دینا………….؟؟

المفھم شرح مسلم میں ایک حدیث پاک سے استدلال کرتے ہوئے لکھا ہے…ترجمہ:

امام اور سربراہ(لیڈر، کسی بڑے)کو مشورہ دینا چاہیے خواہ انہوں نے مشورہ طلب نا کیا ہو

(المفھم شرح مسلم 1/208بحوالہ تبیان القرآن تحت تفسیر سورہ الشوری آیت10)

امام نووی علیہ الرحمۃ ایک حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں.

ترجمہ:

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب امام اور سربراہ(لیڈر اکابر) کوئی حکم مطلق دے اور اس کے متبعین میں سے کسی شخص کی رائے اس کے خلاف ہوتو اس کو چاہیے کہ وہ امیر و سربراہ کے سامنے اپنی رائے پیش کرے تاکہ امیر اس پر غور کرے، پس اگر امیر پر یہ منکشف ہو کہ اس متبع کی رائے(مشورہ) صحیح ہے تو اسکی طرف رجوع کر لے ورنہ اس متبع کے شبہ کو زائل کرے اور اسکی تسلی کرے..

(شرح مسلم للنووی1/581بحوالہ تبیان القرآن تحت تفسیر سورہ الشوری آیت10)

لیھذا اپنے آپ کو مشورے کا غیرمحتاج مت سمجھیے، کوئی اپ سے اختلاف کرے تو دلائل سے جواب دیجیے، تسلی بخش جواب دیجیے ورنہ قبول کر لیجیے….یہ مت کہیے کہ میں تو بڑا ہوں فلاں فلاں کا استاد ہو، میں تو لیڈر ہوں، میرے تو فلاں فلاں عہدے ہیں، مرشد عالم مفتی ہونا مت جتائیے تسلی بخش جواب دیجیے ورنہ حق قبول کیجیے…مشورہ لیتے رہیے.. خطاء سے پاک مت سمجھیے…

.

اپنے آپ کو بہت بڑی توپ مت سمجھیے،اپنے آپ کو علمِ کل اور عقلِ کل مت سمجھیے، یہ مت سمجھیے کہ بس میں ہوں، بس میری پارٹی میری تنظیم ہی ہے، باقی سب کو گھاس نا ڈالنا، عزت نا دینا ٹھیک نہیں،ہاں دوسری کی بہتری ترقی کی کوشش کرنی چاہیے مگر خودپسندی میں نہیں رہنا چاہیے، خود پسندی ہلاکت خیز بیماری ہے

الحدیث:

قال رسول الله – صلى الله عليه وسلم: ” «المهلكات ثلاث: إعجاب المرء بنفسه، وشح مطاع، وهوى متبع»

ترجمہ:

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تین چیزیں ہلاک کر دیتی ہیں

1:خود پسندی

2:لالچ و بخل کی اطاعت

3:خواہشاتِ نفس کی پیروی

(مجمع الزوائد حدیث315)

.

الحاصل:

لبیک و اہلسنت ہی حق ہیں انہیں ہر میدان میں سچے بندے اکھٹا کرنے چاہیے اور اعتدال کے ساتھ حکومت سنبھالیں اور عمران خان اپنے سابقہ کرتوت پے توبہ یا توجیہ و مجبوری بیان کرکے معافی مانگے اور آئندہ اسلامی اصولوں کی پاسداری کرے تو وہ قابل ووٹ ہے…دیگر پارٹیاں بدل کر معافی مانگ کر اسلام کی پابند ہوتی ہیں تو وہ بھی قابل ووٹ ہیں

✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر

whats App,twitter nmbr

00923468392475

03468392475

other nmbr

03062524574

Roznama Dunya: اسپیشل فیچرز :- اسلامی فلاحی ریاست