کتب فقہِ حنفی میں متعدد ایسے مسائل کی تعداد درج ہے جسکا ارتباط امکان سے ہے

یعنی۔۔ اگر یوں ہوجاوے تو اس مسئلہ کا حل یوں ہے یا

یوں ہے۔۔۔مثلاً۔

 

امام چار رکعت فرض کی اقتداء کررہا تھا ، قعدہ اخیرہ

میں تشہد پڑھ کر بھولے سے کھڑا ہوگیا اب کیا کریں؟

یا چوتھی کے بعد قعدہ اخیرہ کیا ہی نہ توکیا کریں؟

 

بہت سے پڑھنے والوں کے واسطے یہ ایک بالکل نئی چیز ہوگی کہ امام چوتھی رکعت کے بعد تشہد پڑھ کر بھولے

سے پانچویں کے لئے کھڑا ہوجاوے تو مقتدی اسکا ساتھ

ہر گز نہ دے بلکہ انتظار کرے ،اگر پانچویں کے سجدہ سے

قبل امام لوٹ آوے تو مقتدی اسکا ساتھ دے یعنی اسکے ساتھ سلام پھیرے اور سجدہ سہو کرے اور اگر پانچویں

رکعت کا سجدہ کرلیا تو ۔۔۔

 

“مقتدی تنہا سلام پھیر لے “

 

اور ۔۔۔

 

اگر امام نے قعدہ اخیرہ نہ کیا تھا، اور پانچویں کا سجدہ

کرلیا تو سب کی نماز فاسد ہوگئی گرچہ مقتدی نےتشہد

پڑھ کر سلام پھیر لیا ہو

 

عالمگیری

 

اب اسکو آسان و سہل کرتے ہیں ان شآء اللہ

 

کوئی بھی فرض نماز پڑھ رہے تھے قعدہ اخیرہ کیا اور بھولے سے آضافی رکعت کے واسطے کھڑے ہوگئے جب تک اس اضافی رکعت کا سجدہ نہ کیا ہو واپس لوٹ آئے، سجدہ سہو کرے نماز ہوگئ،

 

اگر آپ مقتدی ہیں ، امام بھول سے پانچویں کے واسطے کھڑا ہوا اور اسکا سجدہ نہ کیا تو انتظار کریں کہ لوٹ اوے، اگر لوٹ آیا تو اسکے ساتھ سلام و سجدہ سہو کریں اور نہ لوٹا تو تنہا سلام پھیر لیں کہ آپکی نماز ہوگئ

 

اگر اضافی رکعت کا سجدہ کرلیا تو ایک رکعت اور ملالے کہ

یہ دو رکعت نفل ہوجاویں گی پھر سجدہ سہو کرے

 

اگر قعدہ اخیرہ نہ کیا تھا اور اضافی رکعت کے واسطے کھڑا ہوا اور اسکا سجدہ کرلیا تو فرض باطل ہوگئے، اور یہ سب

نفل شمار ہوگا

 

یاد رہے فقہ کا ایک مسئلہ ازبر کرنا ، بارہ تقریروں کے

حفظ و ضبط سے لاکھ درجہ بہتر و افضل ہے

 

ابنِ حجر

10/5/2021ء