پچھلے دنوں

ایک مولوی صاحب سے ملاقات ہوئی

جنہوں نے ہماری خاطر تواضع چائے کے ساتھ ساتھ بین المسالک اختلافی موضوعات پر اپنے تحکم آمیز لہجے میں حتمی فیصلہ سنانے کے ساتھ فرمائی !

موصوف پکی قبروں اور ” بناء حول القبر ” سے سخت نالاں تھے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے “تجصیص” اور “بناء علی القبر” سے منع فرمایا ۔۔۔ لیکن جس مسجد میں موصوف سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا وہ بلند و بالا پکی عمارت کی طرز پر بنی تھی اور انہیں اس پر کوئی مسئلہ بھی نہ تھا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ” تشیید المساجد” سے صراحت سے منع بھی فرمایا ہے ۔

ہم نے ڈرتے ڈرتے عرض کی کہ حضرت !

مانا کہ بقول آپ کے چاردیواری کے اندر روضہ اطہر صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خاصا ہے لیکن اصل پریشانی یہ ہے کہ وہاں دو اور بھی ہستیاں تشریف فرما ہیں جو نبی تو ہرگز نہیں ہیں ۔تو اس پریشانی کا جناب نے حل یہ نکالا کہ اگرچہ وہ نبی نہیں ہیں لیکن وہاں اس لیے مدفون ہوئے کیونکہ وہاں جگہ موجود تھی ۔ چاردیواری اگر پہلے سے موجود ہو تو حرج نہیں لیکن نئی نہیں بنانی چاہیے۔

اس دلیل سے تو ہمارے چودہ کیا اٹھائیس طبق روشن ہو گئے ۔ بناء حول القبر کے معاملے میں ہم نے جب ان دو جلیل القدر صحابہ کی قبور مقدسہ سے استدلال کرنے کی کوشش کی کہ ان کی تدفین تمام صحابہ کی موجودگی میں چاردیواری کے اندر ہوئی اگر بناء حوال القبر حرام ہوتی تو صحابہ کرام ایسا ہرگز نہ کرتے ۔اس پر موصوف نے فرمایا کہ ہم نے “صحابہ کرام کی غلطیوں” کی پیروی نہیں کرنی بلکہ “حدیث نبوی” کی پیروی کرنی ہے ۔ یعنی موصوف کے نزدیک صحابہ سے اس معاملے میں غلطی ہو سکتی ہے لیکن وہ خود “معصوم عن الخطاء” ہیں ۔ اپنے اس بیان کی تقویت کے لیے موصوف نے حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کی ایک بزعم خود “خطا” کو بھی گنوا دیا !

موصوف بخاری شریف کے مدرس تھے ۔ جب ہم نے حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ تعالٰی عنہ کی اونچی قبر والی روایت بتانا چاہی جو کہ بخاری میں ہے تو موصوف اس بات کا صاف انکار کر گئے کہ ایسی کوئی روایت بخاری میں موجود ہی نہیں ۔

ان کے علم کے اس بحر بیکراں کی تاب نہ لاتے ہوئے، اس سے قبل کہ ہمیں دوچار عدد فتوؤں سے نوازا جاتا ، ہم نے وہاں سے کھسکنے میں ہی عافیت سمجھی !

البتہ اس دن سے یہ سوال ذہن میں گردش کر رہا ہے کہ جن ہستیوں کو سید دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے راشدین مھدیین قرار دیا ہو آج اسی نبی ﷺ کی امت کیسے ان سے راہنمائی لینے کے بجائے ان کی خودساختہ” غلطیوں” کو گنوا رہی ہے ۔ یہ کیسے لوگ ہیں جن کے ہاں فہم صحابہ تو معتبر نہیں لیکن ان کا اپنا فہم دین خیرالقرون کے خیرالنا س سے بھی انہیں بہتر لگتا ہے ۔۔۔ ؟؟؟

محمد إسحٰق قریشي ألسلطاني