*دہی اور لسی کے فوائد…………!!*

.اس بات پرڈاکٹر، حکماء سب متفق ہیں کہ دہی میں پائے جانے والا کیلشیم، پروٹین ، رائیوفلیون، وٹامن بی، فولک ایسڈ انسانی صحت کیلئے بہت کارآمد ہے۔

.

ایک اندازے کے مطابق دودھ کی مقدار میں اگر دہی استعمال کیا جائے تو اس میں کیلشیم کی مقدار دودھ کی نسبت کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ اسی طرح یہ دودھ سے بیس فیصد زیادہ پروٹین کا حامل ہے۔ دہی بنتا تو دودھ سے ہی ہے اور دودھ میں پائے جانے والے کیلشیم کو ہضم کرنا آسان نہیں لیکن اگر دودھ کی بجائے دہی استعمال کیا جائے تو یہ کیلشیم بہت جلدی ہضم ہو جاتا ہے

.

 

ماہرین نے اپنی تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ دل کی تکالیف کی سب سے بڑی وجہ کولیسٹرول ہے جسے دہی کم کرتا ہے۔ اگر روزانہ دو پیالے دہی کھایا جائے تو حیران کن رفتار سے کولیسٹرول میں کمی دیکھنے میں آتی ہے۔ اس کے علاوہ انسانی جسم میں رَواں دَواں خون میں ہونے والے انفیکشن کے تدارک کیلئے اس سے بہتر کوئی دوسری غذا نہیں۔سودہی کو اینٹی بائیوٹک کا ذخیرہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ آنتوں میں پائے جانے والے انتہائی خطرناک بیکٹریا کو یہ گردوں اورمثانے میں جانے سے پہلے ہی ختم کر دیتا ہے۔ مدافعتی نظام کو بہترکرنے میں اسکا کوئی ثانی نہیں۔۔جو لوگ تین ماہ تک روزانہ دو سے تین پیالے دہی استعمال کرتے ہیں، ان کا مدافعتی نظام بہت تیزی سے بہتر ہوتا ہے۔

.

*گرمی کے موسم میں لسی کے طبی فوائد*

گرمی کے موسم میں جب موسم کے اثرات براہ راست انسان کی صحت کو متاثر کر سکتے ہیں ایسے میں کھانے پینے میں کی جانے والی احتیاط انسان کو صحت کے بڑے مسائل سے محفوظ رکھ سکتی ہے ۔اور ایسے میں لسی کا استعمال صحت کو جو فوائد دیتا ہے وہ کچھ اس طرح سے ہو سکتے ہیں

 

.

*ہاضمے کے لیۓ مفید*

لسی کو بنانے کے لیۓ دہی کا استعمال کیا جاتا ہے۔ جو کہ ہاضمے کے لیۓ بہت مفید ہوتا ہے ۔ دہی کے اندر ایسے بیکٹیریا موجود ہوتے ہیں ۔ جو آنتوں کے لیۓ بہت فائدہ مند ہوتےہیں ۔ اس وجہ سے کھانے کے ساتھ اس کا استعمال بہت فائدہ مند ہوتا ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ لسی پرو بائوٹک کا ایک بہترین درجہ ہے جو کہ معدے میں ایسے بیکٹیریا کو پیدا ہونے سے روکتے ہیں جو کہ ہاضمے کے لیۓ خطرناک ہوتے ہیں ۔

.

*لسی وزن کم کرنے میں مددگار*

لسی کا شمار ایسی غذاؤں میں ہوتا ہے جو کہ غذائیت سے بھر پور ہونے کے ساتھ ساتھ کم کیلوری کی حامل ہوتی ہے اس وجہ سے اس کا استعمال ان لوگوں کے لیۓ بہت بہتر ہوتا ہے جو کہ بڑھتے ہوۓ وزن سے پریشان رہتے ہیں ۔پیٹ کی چربی جو موٹاپے کا باعث ہوتی ہے اور معدے کےگرد جمع ہو جاتی ہے اس کو پگھلانا ایک مشکل کام ہوتا ہے لسی ایسی چربی کو پگھلانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے

.

 

*قوت مدافعت کو مضبوط کرتی ہے*

لسی وٹامن ڈی اور لیکٹک ایسڈ سے بھر پور ہوتی ہے جس وجہ سے گرمی کے سبب ہونے والی بیماریوں سے لڑنے میں مدد گار ثابت ہوتی ہے اور جسم کو اندرونی طور پر مضبوط کر کے بیماریوں کے خلاف لڑنے کی طاقت فراہم کرتی ہے

.

 

*ہڈیوں کو مضبوط کرتی ہے*

لسی کی تیاری میں دودھ اور دہی کا استعمال کیا جاتا ہے جو کہ کیلشیم سے بھر پور غذا ہیں جس کی انسانی جسم کو ہر عمر میں ضرورت ہوتی ہے ۔ کیلشیم جسم کی ہڈیوں کو مضبوطی فراہم کرتی ہے اسکے علاوہ اس کا استعمال دانتوں اور بالوں کی صحت کے لیۓ بھی بہت ضروری ہوتا ہے ۔ اس وجہ سے لسی کا استعمال ہڈیوں کو طاقت فراہم کرتا ہے

.

 

*بلڈ پریشر کو کم کرتی ہے*

لسی کے اندر پوٹاشیم اور رائبو فلائیون موجود ہوتا ہے جو جسم میں سے زہریلے مادوں کا اخراج کرتا ہے جسم کے اندر سے فاضل مادوں کے اخراج سے ہائی بلڈ پریشر کی شرح میں کمی واقع ہوتی ہے اور جسم کو طاقت ملتی ہے

.

 

*لسی عمر کے بڑھتے اثرات کو کم کرے*

لسی لیکٹک ایسڈ سے بھر پور ہوتا ہے جس کا استعمال کاسمیٹکس انڈسٹری میں کیا جاتا ہے ۔ اس کے استعمال سے ایک جانب تو جلد کو قدرتی طور پر نمی اور تازگی ملتی ہے دوسری جانب زہریلے مادوں کے اخراج کے سبب جسم کا میٹا بولزم تیز ہوتا ہے اور بڑھتی عمر کے اثرات جسم پر کم سے کم پڑتے ہیں..اس کے علاوہ یہ جھریوں کا خاتمہ کرتا ہے اور جلد کو وہ نمی فراہم کرتا ہے جو کہ جھریوں کے بننے کے عمل کو سست کرتی ہے

.

 

*جسم کو ٹھنڈک فراہم کرے*

عام طور پر لو لگنے کا بنیادی سبب جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی ہوتی ہے ۔ لسی پینے سے اس کمی پر قابو پایا جا سکتا ہے ۔ اس کے علاوہ یہ جسم کو ٹھنڈک اور تازگی فراہم کر کے گرمی کے اثرات کو ختم کرتا ہے….لسی میں الیکٹرلائٹ موجود ہوتے ہیں جو کہ جسم میں سے پانی کے اخراج کو روکتا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ جسم کے بڑھتے درجہ حرارت کو روکتا ہے جس سے گرمی کے اثرات میں کمی واقع ہوتی ہے ۔ لو لگنےکے خطرے سے بچانے والا یہ ایک بہترین مشروب ہے

.

 

*گرمی کے موسم میں لسی کے استعمال کا طریقہ*

لسی کا استعمال ویسے تو خالی پیٹ بھی کیا جا سکتا ہے مگر اس کا استعمال خالی پیٹ کرنے کےبجاۓ کھانے کے ساتھ کیا جاۓ تو یہ زیادہ مفید ثابت ہو سکتا ہے ۔ تاہم اس کے اندر بہت زیادہ نمک یا چینی کا استعمال ہائی بلڈ پریشر یا ذیابطیس کے مریضوں کے لیۓ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ لسی کے اوپر بہت ساری بالائی یا مکھن ڈال کر پینا بھی اس کے فوائد کو کم کرنے کا باعث بن سکتا ہے

.

*لسی بنانے کا طریقہ*

دہی کھلے برتن میں ڈالیے اور بازار سے عام ملنی والی پلاسٹک کی مادانی سے اسے پھینٹیے یہاں تک کہ پتلی مشروب بن جاءے پھر پانی اور برف ڈالیے اور حسب ذائقہ نمک ڈالیے

.

مادانی نہیں ہے تو بھی ٹینشن کی بات نہیں، خالی بوتل لیں اس میں دہی ڈالیں تھوڑا پانی ڈالیں مگر بوتل فل نہ بھریں پھر بوتل کا ڈھکن بند کرکے خوب ہلائیں…پھر کھلے برتن میں پانی ڈال کر خوب پتلا کریں اور خوب مکس کریں اور برف ڈالیں نمک حسب ذائقہ ڈالیں

.

بوتل نہیں تو بھی ٹینشن کی بات نہیں، پلاسٹک کی تھیلی میں دہی اور تھوڑا پانی ڈالیں، کَس کر پکڑیں یا دھاگے سے باندھیں اور خوب ہلائیں پھر پانی شامل کرکے خوب مکس کریں اور برف ڈال کر پیئیں اپنے اہل خانہ بچوں دوستوں کو پلائیں

(کاپی پیسٹ…منقول)

دہی اور لسی انگنت فوائد کی حامل غذائیں