پیدائش کے فوراََ بعد ہی ہمارا مذہب متعین کر دیا جاتا ہے

اور ہم ساری زندگی اس کے تحفظ میں لگے رہتے ہیں جسے ہم نے چنا ہی نہیں

اعتراض کی بنیاد لااکراہ فی الدین پر ہے کہ دین میں جبر نہیں لیکن پیدائش کے بعد دین ہم پر جبراََ مسلط کر دیا جاتا ہے۔ ایسے اعتراضات کا اصل نشانہ اسلام ہوتا ہے ورنہ معترضین کو پیدائش کے بعد ملحد، قادیانی، ہندو، یہودی، عیسائی یا بت پرست بنا دینے پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا ۔

یہ اعتراض غیر منطقی ہے۔

ہر نومولود بچہ دین فطرت پر پیدا ہوتا ہے اس کی اصل ایمان باللہ ہے خالق کی معرفت اس کی فطرت میں موجود ہوتی ہے ۔ اور یہ فطرت وہ لاکھ دبانا چاہے اس کے لاشعور میں موجود ہوتی ہے جو ہر قسم کے دنیاوی سہارے چھوٹ جانے کے بعد لاشعور سے شعور تک کا سفر خودبخود طے کر لیتی ہے۔

بچے کو دین فطرت دین اسلام کا پیروکار بنانا عین فطری ہے لیکن اسے اسلام سے موڑ کر کسی اور مذہب کا پیروکار بنا دینا غیر فطری ہے۔ جس کی دلیل یہ ہے کہ باشعور ہونے پر اگر اس کے سامنے ادیان عالم کا تقابلی جائزہ پیش کیا جائے تو ہر ذی عقل یقیناََ اسلام ہی کو چنتا ہے ۔ آج بھی دنیا میں جو کوئی شخص معروضی انداز میں ادیان عالم کا تقابلی جائزہ لیتا ہے وہ بالآخر دامن اسلام میں ہی پناہ لیتا ہے۔

اس پر اعتراض کرنا اتنا ہی غیر منطقی ہے جیسے کوئی یہ اعتراض کرے کہ

پیدائش کے فوراََ بعد ہماری غذا کا تعین کر دیا جاتا ہے جو ہمیں اگلے کئی برس استعمال کرنی پڑتی ہے اور ہم نے اپنے لیے منتخب بھی نہیں کی ہوتی

یا

پیدائش کے فوراََ بعد ہی ہماری شہریت کا تعین کر دیا جاتا ہے اور ساری زندگی ہمیں اسی شہریت میں گزارنی پڑتی ہے اور اسی ملک کا دفاع کرنا پڑتا ہے جس کی شہریت کو ہم نے اپنے لیے منتخب بھی نہیں کیا ہوتا

انسان جس ملک میں پیدا ہوتا ہے اس کی شہریت اسے اختیار کرنی پڑتی ہے اس کے قوانین کا احترام اسے کرنا پڑتا ہے نہ کرے تو جبراََ کروایا جاتا ہے سزا دی جاتی ہے جرمانہ کیا جاتا ہے ۔ اسی طرح اگر کوئی مسلمان کے گھر میں پیدا ہوا تو اس کا دین اسلام ہے اور وہ اسلام کے قوانین پر عمل پیرا ہونے کا پابند ہے۔ اسلامی قوانین توڑنے کی صورت میں اس پر حدود و تعزیرات لاگو ہوں گی ۔ یہ کوئی جبر نہیں بلکہ عین عقلی و منطقی ہے۔

لا اکراہ فی الدین کا معنی یہ ہے کسی غیر مذہب کے ماننے والے کو جبراََ مسلمان نہیں بنایا جائے گا کیونکہ قد تبین الرشد من الغی ہدایت کا راستہ گمراہی سے واضح ہو چکا ہے۔ جو کوئی عقل و شعور رکھتا ہے وہ اپنی فطرت کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے یقیناََ ہدایت کو پا لیتا ہے۔ جیسے کہ اگر انسان ایک چوک میں کھڑا ہو اور اس سے متعدد آڑے ترچھے راستے نکل رہے ہوں تو اسے یہ معلوم کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی کہ ان میں سے سیدھا راستہ کون سا ہے بلکہ اس کی فطرت اس کی راہنمائی کرتی ہے ۔ بچے کو دین اسلام کا پیروکار بنانے پر اس آیہ کا اطلاق کیا ہی نہیں جا سکتا کیونکہ بچہ خیر و شر میں تمیز نہیں کر سکتا اور نہ ہی ہدایت و گمراہی کا راستہ پہچان سکتا ہے ۔

#مکرر

محمد إسحٰق قریشي ألسلطاني