علامہ خلیل الرحمٰن قا دری علیہ الرحمہ، کچھ یادیں، کچھ باتیں
افتخار الحسن رضوی
علامہ محمد خلیل الرحمٰن قادری علیہ الرحمہ کو دنیا سے رخصت ہوئے ایک سال بیت گیا۔ بزرگ آدمی تھے لیکن اپنے بڑھاپے میں سوشل میڈیا پر جس انداز میں انہوں نے شعائر اسلام اور عقائد و نظریات پر حملہ آور عناصر کا مقابلہ کیا وہ نوجوانوں سے بھی نہ ہو سکا۔ راقم کا ان کے ساتھ انتہائی نیاز مندی، دردِ دل اور احترام والا تعلق تھا۔ موصوف منہاج القرآن کے بانی اراکین میں سے تھے لیکن اختلافات کی وجہ سے منہاج القرآن کی ایک پر مغز ٹیم جو الگ ہو گئی تھی، ان میں موصوف بھی شامل تھے۔ تحریک تحفظ ناموسِ رسالت، تحریک ختم نبوت اور کئی سیاسی و مذہبی تحاریک کا حصہ رہے۔ رویت ہلال کمیٹی کے بھی رکن رہے۔
ملکی و بیرونِ ملکی سیاسی و مذہبی معاملات پر ان کی گہری نظر تھی۔ انتہائی تلخ و سخت اور پیچیدہ ترین معاملات پر پر مغز، سادہ، معتدل اور نپی تلی گفتگو کرتے تھے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ جامعہ اسلامیہ لاہور ان کی کوششوں سے ہی قائم رہا اور حضرت مفتی محمد خان قادری علیہ الرحمہ کا انہوں نے بھرپور ساتھ دیا۔ حضرت مفتی صاحب کا وصال ان سے کچھ عرصہ قبل ہوا تھا، دونوں ایک جیسے امراض میں مبتلا تھے، مفتی صاحب کے وصال پر علامہ صاحب نے لکھا تھا کہ آج محسوس ہوا ہے یار کا بچھڑنا کتنا بڑا صدمہ ہوتا ہے اور پھر کچھ عرصہ بعد وہ خود اپنے یار کے قریب ڈیرہ لگا بیٹھے۔
سلمان تاثیر کے قتل کے بعد پیدا ہونے والے مذہبی وسیاسی ماحول پر ان کی گہری نظر تھی۔ ملک ممتاز حسین کی رہائی کے معاملہ پر میری براہ راست ان سے کئی بار گفتگو ہوئی۔ ان دنوں لاہور میں ریٹائرڈ جج صاحبان، وکلاء علماء اور دیگر سیاسی و مذہبی لوگوں کی ملاقاتیں جاری رہیں، لیکن ملک ممتاز حسین کے نام پر وجود میں آنے والی کچھ جماعتوں کے سربراہان کسی طور بھی سفارتی و مذاکراتی انداز قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ ان کے نزدیک اس کا حل فقط احتجاج، راستے بند کرنا، سخت زبان استعمال کرنا اور دھونس و دھمکی سے راستہ کھولنا تھا۔ جب کہ مفتی محمد خان قادری اور علامہ خلیل الرحمٰن قادری جیسے بزرگوں نے حکومتی و سرکاری مشینری سے کئی بار بات چیت کی کوشش کی۔ موجودہ وزیر اعظم پاکستان (اس وقت کے وزیرِ اعلٰی پنجاب) سے وعدہ بھی لیا گیا کہ پھانسی نہیں ہو گی اور کچھ شرائط و ضوابط رکھی گئیں۔ لیکن برا ہو مسلکی تقسیم، فروعی اختلافات اور جماعتی انتشار کا، جس کی وجہ سے ان بزرگوں کی آراء و مساعی ضائع کر دی گئیں۔ پھر ایک شب میں نے ان بزرگوں سے سنا کہ آپ ملک ممتاز کی رہائی چھوڑیں، اب تو ان سربراہوں اور امیروں میں یہ بحث چل رہی ہے کہ ملک ممتاز کی پھانسی کے بعد جنازہ کون پڑھائے گا۔۔۔ اور پھر ایسا ہی ہوا۔ ملک ممتاز حسین کے مقدمے، سزا، پھانسی اور اس سے متعلقہ معاملات پر درجنوں ایسے حقائق ہیں جن کا پوشیدہ رکھا جانا ہی مفید ہے، اگر عوام حقائق جان لیں تو علماء کے ساتھ نفرت بڑھ جائے گی کیونکہ جس انداز میں پاکستانی عوام کے جذبات کو مشتعل رکھا گیا وہ ایک مکمل dark side of the picture ہے۔
ان کی ذات کو متعدد تنازعات کا شکار بھی بنایا گیا جس میں ایک مصنف کی چند برس قبل آنے والی کتاب بھی شامل تھی۔ اس پر بعض لوگوں کا خیال تھا کہ علامہ صاحب نے اس کی مدد کی ہے۔ میں خدا کو گواہ بنا کر لکھ رہا ہوں، علامہ خلیل صاحب نے براہِ راست میرے سامنے اس سے لا تعلقی کا اظہار کیا تھا اور متعدد مجالس میں انہوں نے اس کا ذکر بھی کر دیا تھا۔
“دعوۃ القرآن” (جوٹھا کھانے والے پاکستانی مولویوں کی وجہ سے ہمیں یہ سیٹ اپ پاکستان میں بند کرنا پڑا تھا) کے ابتدائی دنوں سے ہی ان کی رہنمائی و علمی مدد شامل رہی۔ جاوید غامدی صاحب نے اپنے ایک بیان میں جب گرمی کے موسم میں روزوں سے چھوٹ والا بیان دیا تو میری گزارش پر انہوں نے مختصر وقت میں باون صفحات پر مدلل جواب لکھا۔ یہ رسالہ “ روزہ اور غامدی فکر، ایک تحقیقی جائزہ” ہم نے سال ۲۰۱۷ میں شائع کیا۔ دلائل سے بھرپور، بہترین اردو زبان و انداز کے ساتھ غامدی صاحب کے لیول پر اس سے بہتر جواب اب تک نظر سے نہیں گزرا۔ اگر قسمت نے یاوری کی تو یہ رسالہ پھر سے شائع کریں گے۔ غامدی صاحب کے دبئی میں پروگرامز ریکارڈ ہوتے تھے، مجھے دعوت بھجوائی جاتی تھی لیکن بولنے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ اس پر علامہ علیہ الرحمہ نے فرمایا تھا کہ آپ اپنا تقریری و تحریری ہتھیار استعمال کریں اور اس کا جواب اس کے لیول پر دیں، یہی احقاقِ حق و ابطال باطل کا طریقہ ہے۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک کے ساتھ میرے براہ راست مکالمے پر انہوں نے سال ۲۰۱۱۴۔۱۵ میں جن بزرگوں نے تحریری حوصلہ افزائی فرمائی تھی ان میں علامہ موصوف بھی شامل تھے۔ ایک باہر ملک میں ڈاکٹر طاہر القادری صاحب قریب ہی مقیم ہوئے، ان کے میزبان نے ملاقات کا پیغام دیا،میں نے کسی وجہ سے معذرت کر لی۔ علامہ خلیل صاحب کو علم ہوا تو فرمایا ملنے میں کیا حرج ہے، تم ویسے بھی “اثر پروف رضوی “ ہو، نہ مل کر بھی بریلوی تمہیں منہاجی سمجھتے ہیں اور منہاجی تمہیں بریلوی متشدد سمجھتے ہیں۔ (جب کہ حقائق اس کے برعکس ہیں)۔
فقیر نے یتیم بچوں کی کفالت، افریقہ میں مساجد و مدارس کے قیام سے متعلق پروجیکٹس شروع کیے تو ان کی مدد و رہنمائی پھر بھی شامل رہی۔ اس کے ساتھ ساداتِ کرام سے مجھے خاص محبت و نسبت ہے، اس لیے ہم نے الگ سے سادات فنڈ قائم کیا۔ علامہ صاحب کی نشاندہی پر ہم نے پاکستان میں درجنوں سادات گھرانوں تک خطیر رقم کی مالی خدمت و تحائف پہنچائے جس سے ان کی زندگی بہتری کی طرف آئی۔ مجھے کہا کرتے تھے سیدوں کی خدمت ہر کسی کا نصیب نہیں، یہ منتخب لوگوں کا اعزاز ہے، اس کی وجہ سے اللہ کریم آپ کو بہترین جزا عطا فرمائے گا۔ پھر ایک دن ان کی کال آئی کہ سادات کی محبت و خدمت کا دنیا میں ہی کچھ صلہ یہ مل گیا ہے کہ میری چھوٹی اور آخری بیٹی کی شادی سید خاندان میں طے پا گئی ہے۔ سادات گھرانے میں بیٹی بیاہنے کے چند ہفتوں بعد ہی ان کا انتقال ہو گیا ۔
وہ مالی اعتبار سے آسودہ حال تھے، اپنی جیب سے خرچ کرنے والے تھے۔ ان کے ریفرنس سے بعض لوگوں کے سرکاری و نیم سرکاری کام کروائے، جب ان سے خدمت یا معاوضے کی بات کرتے تو سب کو جامعہ اسلامیہ کا اکاؤنٹ نمبر بھیج دیتے کہ مجھے ضرورت نہیں، جامعہ اسلامیہ کی جو خدمت ممکن ہو سکے کر دیں۔
مولا کریم ان کی خطائیں معاف فرمائے، ان کے اچھے اعمال کا بہترین صلہ عطا فرمائے اور فردوس اعلٰی میں انہیں جگہ عطا فرمائے۔ سب احباب دعا و فاتحہ کا اہتمام فرمائیں۔
افتخار الحسن رضوی
۶ ذوالقعدہ ۱۴۴۳ بمطابق ۵ جون ۲۰۲۲