بچوں کی تربیت کیسے کی جائے؟

 

اسکول کے اندر بچوں کی دینی اور اخلاقی تربیت کا دعوی کرنا جتنا آسان ہے اتنا ہی مشکل بچوں کی درست تربیت کرنا ہے. کیونکہ روزانہ کے چند گھنٹوں میں سکول کی مکمل توجہ نصابی کتب کو پڑھانے میں رہتی ہے عمومی طور اسکولوں میں تربیت کا صرف *ٹچ* ہی دیا جاتا ہے جس کا نتیجہ صفر نکلتا ہے.

 

دارالنور سکول سسٹم میں بچوں کی اسلامی اور اخلاقی تربیت کا نہ صرف نعرہ لگایا گیا ہے بلکہ اسکول انتظامیہ تربیت کے حوالے سے وقتاً فوقتاً مختلف مشورے بھی منعقد کرتی اور والدین سے بچوں میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے متعلق تاثرات بھی لیتی رہتی ہے.

 

بچوں کی تربیت اچھے انداز میں تبھی ہو سکے گی جب اساتذہ قابل ہوں استاد ہوں یا شاگرد، پرنسپل ہو یا منتظم قابل تبھی بن سکتا ہے جبکہ وہ خود صاحبِ مطالعہ شخص ہو اسی وجہ سے گرمی کی چھٹیوں سے پہلے ہی ہم نے اساتذہ کو چھٹیوں میں چند کتب کے مطالعے کا ہدف دیا ہے اور وہیں کچھ اہداف اپنے لیے بھی مقرر کر لیے.

 

میرے ہدف میں بچوں کی تربیت کے متعلق چھے کتابیں ہیں جو میری لائبریری میں موجود تھیں.

جن میں سے ایک کتاب کا مطالعہ بحمدہ تعالیٰ آج مکمل ہوا اسی کتاب”آپ کا بچہ کامیاب ہو سکتا ہے” سے حاصل شدہ چند نکات ملاحظہ کیجیے

 

* والدین یاد رکھیں بچہ بچہ نہیں ہوتا بلکہ مکمل انسان ہوتا ہے، کامیاب بچہ ہی کامیاب انسان بن سکتا ہے لہذا اس کو بچہ کہہ کر چھوڑ دینے کی بجائے کاموں میں مشغول رکھیے.

 

* بچے کی خامیاں تلاش کرنے کی بجایے اس کی خوبیاں تلاش کرئیے اور دل سے اس کی تعریف کیجیے کیوں کہ تعریف مزہ دیتی ہے اور بچہ وہی کام کرتا ہے جس میں مزہ آتا ہے.

 

* بچے کو خوشی اور غمی کی تقریبات میں لے کر جایا کریں تاکہ بڑا ہو کر رشتہ داری اور معاشرتی تعلقات بخوبی انجام دے سکے

 

*بچوں کو کھیل کود کے لیے بہت زیادہ وقت دیا جائے کیونکہ بچے کھیل کود سے بہت زیادہ سیکھتے ہیں یہی وجہ ہے آجکل اسکولوں میں غیر نصابی سرگرمیاں بڑھتی چلی جا رہی ہیں.

 

* اپنے لیے اشیاء کپڑے کھلونے وغیرہ خریدنے میں بچوں کو خود فیصلہ اور انتخاب کرنے دیں کیونکہ اس سے خود اعتمادی اور فیصلہ کرنے کی طاقت بڑھتی ہے جوکہ کامیاب انسان کے لیے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے

 

* ہر کام میں بچوں کو ٹوکا ٹاکی مت کیجیے کہ چھوڑوں رہنے دو تم نہیں کر سکتے تم بچے ہو وغیرہ بچوں کو اپنے کام خود کرنے دیں

یاد رکھیے! *جو والدین اپنے بچوں کیلئے سب کچھ کرتے ہیں ان کے بچے اُن کے لیے کچھ نہیں کر پاتے*

 

*بچوں کو غلطی کرنے دیجیے وہ انہی غلطیوں سے سیکھیں گے.

 

* آپ اپنے بچے کو جیسا دیکھنا چاہتے ہیں ویسا ہی سوچیے ناکہ آپ جو نہیں چاہتے وہ سوچتے رہیں یعنی بچہ ناکام نہ ہو بدتمیز نہ ہو. اس کی بجائے یہ سوچیے میرا بچہ کامیاب اور نیک ہو.

 

* بچوں کو کبھی بھی مقابلے پر نہ لگائیے نہ ہی دوسروں سے موازنہ کریں بلکہ اس کا مقابلہ اسی کی سابقہ کارکردگی سے کروائیے

 

* محبت اور لاڈ میں فرق جانیے محبت سنوارتی ہے جبکہ لاڈ بچوں کو تباہ کر دیتا ہے لاڈ ہر جائر و ناجائز فرمائش کو پورا کرنا ہوتا ہے جبکہ محبت جو صرف بچے کے لیے اچھا ہے وہی کرواتی ہے لہذا دیکھیے آپ لاڈ کرتے ہیں یا محبت؟

 

* بچوں کی تربیت کی سب سے زیادہ ذمہ داری والدین پر ہے جو والدین سکول پر بچوں کو چھوڑ دیتے ہیں ان کے بچے نمایاں کامیاب نہیں ہو پاتے پھر والدین سکول کو کوستے ہیں جبکہ اپنی ذمہ داری بھول بیٹھے ہوتے ہیں لہذا خود بھی سیکھیے اور اپنے بچوں کو سکھائیے

 

*بچوں کو محنت اور کام کا عادی بنائیے گھر کے مشقت والے کام (جو بچے کر سکتے ہیں) ان کی عادت ڈالیے کیونکہ جو بچہ بچپن سے محنت مشقت کا عادی نہیں ہوتا وہ بڑے ہو کر مشکلات میں رہتا ہے.

 

*بچے وہ نہیں کرتے جو آپ اُن کو کہتے ہیں بلکہ وہ کرتے ہیں جو آپ کو کرتا دیکھتے ہیں لہذا خود کو منظم باعمل نمازی، سچا اور باصول بنائیے آپ کے بچے خود بن جائیں گے

 

بچوں کو پیسوں کا علم سیکھائیے کمانے کیسے ہیں اور جمع کیسے کرنے ہیں. حساب کتاب وغیرہ جن والدین کے کاروبار ہیں کبھی کبھی ان کو اپنے ساتھ لے جا کر حساب کتاب لین دین ضرور سیکھائیں.

 

یاد رکھیے مذکورہ باتیں کسی عمر کے ساتھ خاص نہیں بلکہ انتہائی چھوٹی عمر سے ہی بچوں کی تربیت شروع کر دینی چاہیے

 

فرحان رفیق قادری عفی عنہ

ڈائریکٹر دارالنور سکول سسٹم

 

8/6/2022