تین ہفتہ پہلے مرحوم عامر لیاقت حسین کی ایک ویڈیو نظر سے گذری ،جس میں بڑے کرب کے ساتھ وہ اپنی مشکلات کو بیان کر رہے تھے ، اُن کی باتیں سُن کر مجھے لگا کہ یہ بندہ شدید ذہنی اضطراب میں ہے ، کمنٹس پر نظر گئی تو ایک عجیب طوفان بدتمیزی برپا تھا ، اکثر لوگ تمسخر ، گالیاں اور ہر قسم کی غلاظت اُنڈیل رہے تھے ، مجھے مرحوم کی گفتگو کے انداز سے ڈر محسوس ہوا کہ کہیں انہیں کچھ ہونہ جائے تو خیر کی مختصر دنیا میں اپنا حصہ ڈالتے ہوئے ، اپنے اس بھائی کے لئے ایک دعائیہ کمنٹ کیا ، کہ اگر مرحوم پڑھیں تو کچھ ذہنی اضطراب میں افاقہ ہو ، جینے کی اُمنگ رہے ، جس پر کئی لوگوں نے مجھے بھی گالیوں سے نوازا، کئی لوگوں نے اس مثبت رویہ کو پسند کیا ، کچھ لوگو نے پرسنل میسج کئے کہ میرا ایک مذہبی تشخص ہے مجھے اس طرح کی ابحاث میں پڑنا نہیں چاہئیے .
اور آج وہی ہوگیا جس کا ڈر تھا ،
میرا زندگی میں عامر لیاقت سے کوئی براہ راست رابطہ و تعلق نہیں تھا، لیکن مجھے اُن سے تحفظات کے باوجود ہمدردی تھی ، کہ ایک باصلاحیت آدمی ضائع ہورہا ہے، حالیہ واقعہ پر اکثر یہ ہی سوچ آتی تھی کہ اگر میاں بیوی جیسے پاک رشتہ میں بھی رازوں کی حفاظت نہ ہو تو آدمی کس رشتہ پر اعتبار کرے ، ہم کس غلاظت بھرے معاشرے میں جی رہے ہیں ،
خطائیں سب سے ہوتی ہیں ، لیکن جو لوگ مشہور ہوتے ہیں اُن کی بعض اوقات وائرل ہوجاتی ہیں ، ہر شخص ایک بار سوچے کہ زندگی میں اُس نے خود کیا کیا کام کئے ہیں اگر اُن تمام بُرے کاموں کو کرتے ہوئے کی کوئی ویڈیو بنا کر وائرل کردے تو اُن پر کیا بیتے گی ، لہذا عیبوں کو چھپانے والے بنیں ، شخصیت کے بجائے جرم سے نفرت کریں، جنت و دوزخ ، ہدایت و گمراہی کا فیصلہ اللہ پر چھوڑ دیں .
اللہ ہم سب کو زوال نعمت سے محفوظ رکھے

محمد حسن رضا خان