فلسفے کی خرابیاں اور امام احمد رضا کی صالح فکر
از: افتخار الحسن رضوی
آپ نے دیکھا ہو گا متعدد لکھاری فلسفی گفتگو میں یدِ طولٰی رکھتے ہیں۔ ان کی تحاریر پڑھ کر اور گفتگو سن کر محسوس ہوتا ہے جیسے کئی من کی قاموس ان کے سینے میں ہے۔ طرز و انداز گفتگو ایسا کہ میدان خطابت کے شاہ و شہباز یہی ہوں، کلام و بیان سن کر وہ لوگ بھی واہ واہ کہہ اٹھتے ہیں جو اپنی کم گوئی کی وجہ سے اپنے ابو کو بھی “جی”کے ساتھ نہیں پکارتے۔ لیکن آپ نے غور کیا کہ ان فلاسفہ کی گفتگو کا حاصل کیا ہوتا ہے؟ ان کے کلام وبیان سے انسانی زندگی میں کوئی مذہبی یا روحانی بہتری آتی ہے؟ فکر و فن کے دروازے کھلتے ہیں؟ مثبت تحقیق، تعمیر و ارتقاء اور فعل و عمل میں کوئی خیر والی تبدیلی آتی ہے؟ ہرگز نہیں۔۔۔ ان کا کلام و بیان انسانی ذہن میں کلامی و اعتقادی پیچیدگیاں پیدا کرتا ہے۔ تشنگی بڑھ جاتی ہے، بلکہ بے یقینی، تذبذب اور روحانی کمزوری میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے ۔ نتیجتاً انسان خدا تعالٰی ، اس کے انبیاء علیہم السلام ، دین اسلام، اکابرین اسلام اور ضروریاتِ دین سے متعلق نہ صرف شکوک و شبہات کا شکار ہو جاتا ہے بلکہ بعض اوقات لا دین یا ملحد بن جاتا ہے۔ دور جدید خصوصاً عصرِ حاضر میں کئی ایسے نام ہیں جو اعتقادی اعتبار سے اپنے اصل مذہب سے نکل کر multiple faiths کے حامل ہیں، یہ فلسفی اور ان کے غیر مفید و موشگافانہ انداز کلام و بیان سے کبھی کلام قطعی صادر نہیں ہوتا۔ یہ لوگ ضروریاتِ دین بیان کرنے کے مجاز نہیں ہیں، لیکن جدت و تجدد پسند طبقے میں انہیں سنا جاتا ہے، گفتگو کے دوران یہ ضروریاتِ دین اس انداز میں بیان کرتے ہیں کہ حلال و حرام کا فرق ختم ہو جاتا ہے۔ فرائض ، واجبات، مستحبات، مباح اور کبھی کبھی تو قطعیات تک کی حیثیت و درجات مشکوک بنا دیتے ہیں۔ ذاتِ باری تعالٰی، وحدانیت، وحدت الوجود، تقدیر، لوح و قلم، عالمِ بالا، عالمِ ارواح، طبیعات ، ما قبل و بعد از طبیعات، ملائکہ و جنات، فلکیات، برزخ و حشر، بعثت بعد الموت وغیرہ وغیرہ جیسے عناوین ان کے پسندیدہ ہیں۔ کیونکہ ہر وہ فرد جس نے قرآن و سنت کی تعلیمات مسلسل و مناسب انداز میں جید و مستند اساتذہ سے حاصل نہ کی ہوں، وہ ان کا ہدف ہے اور اس کا ذہن جلد ماوف ہو سکتا ہے۔ یہی وہ طبقہ ہے جو ملکی و غیر ملکی میڈیا پر “مسلم صحافی’ کے طور پر امت کا ترجمان بنا بیٹھا ہے اور اس کے نتائج خطرناک ہیں۔
فلسفی و منطقی گفتگو کی آڑ میں پھیلنے والی اس تباہی کو روکنے کے لیے ماضی قریب میں علماء اسلام نے اس کے خلاف سخت رویہ اختیار کیا ہے، بعض علماء نے اس پر فتوے بھی جاری کیے۔ شیخ الاسلام امام احمد رضا خان قادری علیہ الرحمہ اپنے رسالہ “الحقوق لطرح العقوق” میں ایک مقام پر فرماتے ہیں؛
“فلسفیوں کے یہ علوم یعنی طبیعیات اور الٰہیات جو بدترین گمراہیوں سے پُر ہیں حتی کہ ان میں کفر وشرک اورضرورتِ دین کے انکار کے ڈھیرلگے ہوئے ہیں اور بہت سی باتیں ”قرآن مجید” اور انبیاء و مرسلین کے ارشادات کے مخالف ہیں”.
در مختار کی ایک عبارت نقل کرتے ہوئے مزید فرماتے ہیں؛
“بیشک علم کا پڑھنا فرض عین ہے، (یہاں تک کہ انھوں نے فرمایا:) اور کبھی علم کا پڑھنا حرام ہوتا ہے جیسے کہ علمِ فلسفہ، شعبدہ، نجوم، رمل، حکمتِ طبعیہ اور جادو” ۔
علامہ زین بن نجیم مصری رحمہ اللہ تعالیٰ ”اشباہ والنظائر” میں فرماتے ہیں: العلم قد یکون حراماً وھو علم علم کا پڑھنا کبھی حرام ہوتا ہے جیسے کہ فلسفہ۔ امام ابن حجر مکی علیہ الرحمہ نے صراحت کے ساتھ ایسا فلسفہ حرام قرار دیا ہے۔ وماکان منہ (أي: من الطبیعي) علی طریق الفلاسفۃ حرام
(”الفتاوی الحدیثیۃ”، مطلب: ھل یجوز علم التنجیم، ص۶۸، ملتقطاً)
یعنی حکمتِ طبعیہ کا جو حصہ فلاسفہ کے طریقے پر ہو اس کا پڑھنا حرام ہے۔
ممکن ہے آپ ان سطور کو سخت جانیں یا اس میں کوئی شدت محسوس ہو لیکن علماء ربانین کا منصب و عہدہ متقاضی ہے کہ وہ حق واضح کریں، ہر وہ علم و فکر جو اسلام و مسلمین کے لیے مضر ہے اس کا رد کریں۔ اسی رسالے کی جاری بحث میں آگے ایک مقام پر امام احمد رضا علیہ الرحمہ فرماتے ہیں؛
فقیر کہتا ہے کہ فلسفے کے حرام ہونے اور اس کی برائی کی دلیل وہ حدیث ہے جو امام ابو عبد الرحمان دارمی نے ”سنن” میں سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی ہے کہ :
أنّ عمر ابن الخطاب -رضي اللہ تعالٰی عنہ- أتی رسول اللہ -صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم- بنسخۃ من التوراۃ فقال: یا رسول اللہ! ھذہ نسخۃ من التوراۃ فسکت فجعل یقـرأ ووجہ رسول اللہ -صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم- یتغیّر، فقال أبو بکر- رضي اللہ تعالٰی عنہ-: ثکلتک الثواکل ما تری ما بوجہ رسول اللہ صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم- فنظرعمر إلٰی وجہ رسول اللہ- صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم- فقال: أعوذ باللہ من غضب اللہ وغضب رسول اللہ -صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم- رضیناباللہ ربّاً وبالإسلام دیناً وبمحمدرسول اللہ-صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم- نبیّاً فقا ل رسول اللہ -صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم-: والذي نفس محمد -صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم-بیدہ! لو بدأ لکم موسی فاتّبعتموہ وترکتموني لضللتم عن سواء السبیل ولو کان حیّاً وأدرک نبوّتي لاتّبعني۔
(سنن الدارمي”، باب ما یتّقي من تفسیر حدیث النبي صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم وقول غیر… إلخ، الحدیث: ۴۳۵، ج۱، ص۱۲۶)
یعنی حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سید عالم صلّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی خدمت میں تورات کا ایک نسخہ لائے اور عرض کی: یا رسول اللہ صلّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم یہ تورات کانسخہ ہے۔سید عالم صلّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم خاموش رہے اور کوئی جواب نہ دیا، عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پڑھنا شروع کردیا، سرور عالم صلّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کا چہرہ مبارک شدتِ غضب کی و جہ سے ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف بدل رہا تھا، حضرت عمر فاروق کو اس کی خبر نہ تھی کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اے عمر! تجھے رونے والی عورتیں روئیں تم نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کے چہرہ أنور کی حالت نہیں دیکھ رہے، تب حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور کے چہرہ انور کو دیکھا اور فوراً کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے غضب سے خدا کی پناہ ہم اللہ کے رب ہونے پراسلام کے دین ہونے پر اور محمد صلّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کینبی ہونے پر راضی ہوئے نبی اکرم صلّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم نے فرمایا:مجھے اس ذات کی قَسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! اگر تم پر موسیٰ علیہ السلام ظاہر ہوتے اور تم مجھے چھوڑ کر ان کی اتباع کرتے تو راہِ رأست سے بھٹک جاتے اور اگر موسیٰ علیہ السلام دنیا میں ہوتے اور میری نبوت کے ظہور کے زمانے کو پاتے تو میری پیروی کرتے۔
“ اب انصاف کی آنکھ کھولنی چاہئے کہ”تورات” کلامِ الہی ہے اور ”قرآن مجید” نے اس کی تصدیق کی ہے لیکن صرف اس بناء پر کہ اس میں تحریف ہو چکی ہے اس کا پڑھنا سرورِ عالم صلّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی اس قدرناراضگی کا سبب بنا، یہ مردود فلسفہ جو کہ کفر و ضلالت سے بھرا ہوا اور جہالتوں کا مجموعہ ہے اور جس نے دین کے خادموں کے لئے دین کا راستہ بند کیا ہوا ہے اور فلسفیوں نے دین کی زنجیر اپنے گلے سے اتار پھینکی ہے وہ کب اس لائق ہے کہ اس کا بہت بڑا ثواب گمان کیا جائے اور عمریں اس پر صرف کردی جائیں اور اس کی محبت کو دل میں جگہ دی جائے”.
کتبہ: افتخار الحسن رضوی
۱۷ جون ۲۰۲۱
#ImamAhmadRaza
#IHRizvi
#iftikharulhassanrizvi
#philosophy