ہمارے زمانے میں مسجد انتظامیہ اس معیارِ شرعی پرکتنا اترتی ہے آپ خود اندازہ لگاسکتے ہیں ، عمل میں فسق کے مرتکب ہوتے ہیں ، لاپرواہی ، غفلتیں ، مصارفِ مسجد میں من مانیاں ہوتی ہیں اور بے شمار ایسے معاملات مشاہدے میں آتے ہیں کہ اللہ کی پناہ ۔!

یہاں یہ بات قبول نہیں کی جائیگی کہ اب دور ایسا ہے نیک لوگ بمشکل ملتے ہیں لہذا جیسے تیسے ہو مسجد کا انتظام چلاتے رہنا چاہئے اس معیار کو مدِ نظر رکھیں گے تو کوئی منتظم بھی نہیں ملے گا ، یہ ایک فاسد خیال ہے اور ہمارے لئے شرم کا مقام ہے، غور کیجئے اسکول ، کالج ، یونیورسٹی ، آفس، کمیونٹی ، شہر و ملک کے منتظمین کا اعلی سے اعلی معیار مقرر ہو تا ہے ، اور ہم اپنی اولاد سمیت خود اس معیار پر پورا اترنے کے لئے تگ و دو کرتے ہیں ،کسی اچھے اسکول میں داخلہ لینا ہو یا اچھی کمپنی میں جاب کرنی ہو تو ان کے معیار کا پورا خیال رکھتے ہیں مگر افسوس اللہ کے گھر کا نظام چلانے کے لئے ہم ہلکے سے ہلکا اور سستے سے سستا معیار رکھنا چاہتے ہیں ۔
سچ پوچھئے توہماری تباہی کا سبب یہی ہے کہ ہم نے اللہ کے گھر کو غیر دیانت دار لوگوں کے ہاتھوں میں دے رکھا ہے ، جس کا جواب بہرحال ہمیں دینا پڑے گا ۔

ابو محمد عارفین القادری