تجارت اور ہمارا معاشرہ

شیخ الحدیث والتفسیر علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

بعض پیشوں کو گھٹیا
اور
باعث عار سمجھنا
صرف اس دور کی لعنت ہے
آج کل جو شخص پھیری لگا کر
کندھے پر گٹھڑی رکھ کر
کپڑا بیچتا ہو
اس کو گھٹیا خیال کرتے ہیں
مگر حضرت ابوبکر یہی کام کرتے تھے
امام احمد بن عمر الخصاف المتوفی 261 ھ
بہت بڑے فقیہ اور عابد و زاہد تھے،
ان کی فقہ میں بہت تصانیف ہیں،
عربی میں خصاف موچی کو کہتے ہیں
یہ جوتیوں کی مرمت کرتے تھے۔

علامہ احمد بن محمد بن احمد القادوری المتوفی 4428 ھ بہت بڑے فقیہ تھے۔
ان کی کتاب مختصر القدوری بہت عظیم کتاب ہے
اور
درس نظامی میں شامل ہے،
القدوری عربی میں مٹی کی ہنڈیا بچینے والے کو کہتے ہیں۔

علامہ محمود بن احمد الحصیری المتوفی 546 ھ
ایک فقیہ ہیں
عربی میں الحصیری اس شخص کو کہتے ہیں
جو چٹائی بناتا ہو۔

امام ابوبکر ابن علی الحدادی المتوفی 800 ھ بہت بڑے عالم تھے۔
انہوں نے مختصر القدوری کی شرح لکھی ہے۔
عربی میں حداد لوہار کو کہتے ہیں، اس لئے ان کو حدادی کہتے ہیں۔

آج کل کندھے پر گٹھڑی رکھ کر بیچنے والے،
جوتیوں کی مرمت کرنے والے
مٹی کے برتن بنانے والے
چٹائی بنانے والے
اور
لوہار کو حقیر اور کمتر آدمی سمجھا جاتا ہے
اور پوش علاقوں میں رہنے والے
ایسے لوگوں کو رشتہ دینے پر تیار نہیں ہوتے
لیکن مسلمانوں کے زرین دور میں یہ لوگ مسلمانوں کے امام تھے۔
اس زمانہ میں کسی بھی پیشہ کو صرف حصول رزق کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا
اور
کسی پیشہ کو خسیس
اور باعث عار نہیں سمجھا جاتا تھا۔
اب عزت اور ذلت کا معیار اور اس کے پیمانے بدل گئے ہیں۔ اب سودی کاروبار کرنے والے،
اسمگلنگ کرنے والے،
نقلی دوائیں بنا کر بیچنے والے
اور ناجائز اور حرام ذرائع سے مال بنا کر کوٹھیوں میں رہنے والے،
بینک بیلنس والے عزت دار ہیں
اور
رزق حلال کے حصول کے لئے پھیری لگانے والا لوہے کا کام کرنے والا
چٹائی بنانے والا مٹی کے برتن بنانے والا اور جوتی کی مرمت کرنے والا حقیر اور ذلیل ہے
جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک عزت والے ہیں، وہ اس دور کے لوگوں کے نزدیک ذلت والے ہیں۔
( تفسیر تبیان القرآن )