محمد عثمان فاروقی

ملکی معیشت اور ٹی ایل پی

پہلے ملکی صورتحال کی تفصیل دیکھ لیجئے
مرکزی بینک کے مطابق جون 2018 میں غیر ملکی قرضے کا جو حجم 95 ارب ڈالر تھا وہ ستمبر 2021 کے آخری ہفتے تک 127 ارب ڈالر تک جا پہنچا۔
ان اعداد و شمار کی روشنی میں دیکھا جائے تو پی پی پی کے پانچ برسوں میں غیر ملکی قرضے میں 16 ارب ڈالر جبکہ نواز لیگ کے پانچ برسوں میں 34 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔ اس کے مقابلے میں تحریک انصاف حکومت کے 39 مہینوں میں ہی غیر ملکی قرضے میں 32 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔

پیپلز پارٹی ہو، نون لیگ یا تحریک انصاف ہر جماعت میں بھاری مقدار میں آئی ایم ایف سے قرضہ لیا گیا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ قرضہ لے تو لیا جاتا ہے لیکن سارے کا سارا لگایا کہاں جاتا ہے ؟
چلو اگر لگایا بھی گیا ہے تو ایسے کونسے پروجیکٹس پر لگایا گیا ہے ؟؟
کیا کبھی کسی جماعت نے ان قرضوں سے کوئی ایسا کام کیا ہے جس سے پاکستان کے خزانے میں اضافہ ہو یعنی ہم کسی چیز پر انویسٹمنٹ کرتے ہیں تو نفع تو آنا چاہیے۔
قرضے پر قرضہ لے کر عوام کو لنگر خانے، صحت کارڈ جیسی سکیمز کے پیچھے لگا کر فریب دیا جاتا ہے لیکن عوام ان چیزوں سے خوش ہوکر کبھی غور نہیں کرتی کہ روز مرہ اشیا کی قیمتوں میں کس قدر اضاضہ ہو رہا ہے معلوم سب کو ہورہا ہوتا ہے کہ ٹیکس بڑھ رہا ہے چیزیں مہنگی ہورہی ہیں لیکن یہ لنگر خانے ،صحت کارڈ کی سکیمز اور کالی پٹی کی وجہ سے بھول جاتے ہیں۔
بہرحال ساری عوام ایسا نہیں کرتی کافی لوگوں کو نظر آرہا ہوتا ہے اور وہ اس جمہوری نظام اور ان کرپٹ حکمرانوں سے بیزار ہوجاتے ہیں پاکستان قرضے لے کر اپنا Structure بھی ان 70 سالوں میں سیدھا نہیں کر پایا تو نفع کہاں سے حاصل ہوگا؟
فلحال سب لاحاصل ہے اصل میں یہ پیسے ایجوکیشن سڑکوں اور بجلی کے پروجیکٹس اور دیگر کاموں میں لگائے جاتے ہیں اس میں شک نہیں اور کافی پیسہ اپنی جیب میں بھی ڈال دیا جاتا ہے لیکن یہی بیوقوفی ہے قرضہ لے کر بھی وہاں لگادیا جاتا ہے جہاں سے واپس میں کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ میرے کہنے کا مطلب یہ نہیں کہ ایجوکیشن وغیرہ پر نہ لگایا جائے بلکہ موجودہ صورتحال کی وجہ سے ان چیزوں پر لگایا جائے جہاں سے پاکستان کی آمدن زیادہ ہو۔
یہ طریقہ کار قرضہ لینا ،صحت کارڈ، لنگر خانے کھولنا گھٹیا سکیمز ان پی ٹی آئی نون لیگ اور دیگر جماعتوں کی ہیں۔ جبکہ اسلام کی سیاست اس کا طریقہ کار ،نظام ،ٹیکس ، انویسٹمنٹ اور نفع قرضے کے مطابق انڈسٹری ہو یا دیگر قومی خزانہ بڑھانے کے طریقہ کار بالکل جدا ہے۔ اور اسلامی نظام میں ان صحت کارڈ کی ضرورت نہیں رہتی کیونکہ غربت ختم ہوجاتی ہے کچھ لوگ کہتے امریکہ برطانیہ وغیرہ میں یہی نظام چلتا ہے وہ تو ترقی یافتہ ممالک ہیں بھائیوں اور بہنوں وہاں دو باتیں ہیں ایک یہ کہ وہ کافر ہو کر بھی اپنی عوام کو دھوکہ نہیں دیتے نہ کرپشن کرتے ہیں بلکہ ملک پر لگاتے ہیں دوسرا ہم مسلمان ہیں باباجان رحمتہ اللّٰہ علیہ فرماتے ہماری راہ متعین ہے یعنی ہمارا نظام مقرر ہے وہ اسلامی نظام ہے کیونکہ ہم اللہ پر یقین رکھتے ہیں جس نے پیدا فرمایا جس نے اسلامی شرعی نظام دیا کیونکہ ہم ایمان لائے ہیں اگر ہم شرعی نظام چھوڑ کر کفریہ نظام اختیار کریں گے تو پھر اگر کوئی ایمان دار حکمران بھی آ کر ملک چلائے تو نہیں چلے گا کیونکہ ہماری راہ متعین ہے۔
اب ٹی ایل پی اور معیشت پر بات کرلیتے ہیں۔

کیونکہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور ویسے بھی اسلام اپنی پاور رکھتا ہے جس کی 1400 سال کی تاریخ گواہ ہے سود اسلام میں حرام ہے اس لیے اگر اسلامی نظام آتا ہے یہ جواز بنایا جائے گا سود جائز نہیں اس لیے ہم سود نہیں دیں گے اصل رقم دیں گے لیکن تب جب ہمارا ملک stable ہوجائے گا۔
یہی بات آج سے کئی عرصہ پہلے باباجان رحمتہ اللّٰہ علیہ نے فرمائی تھی یہ بات کیوں فرمائی تھی اس پر نظر ڈالتے ہیں جب غزوہ خندق میں مسلمانوں کے کھانے کیلئے کچھ نہ تھا اگر چہ مسلمان قرض لے سکتے تھے لیکن نہیں لیا یہاں باباجان رحمتہ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں پیٹ پر پتھر باندھ کر کسی صحابی رسول ﷺ نے نہیں کہا حضور ﷺ یہ تین قبیلے ہیں یہودیوں کے بڑے امیر ہیں ہم ان سے گندم ادھار لے لیں۔

یہودیوں سے قرضے لیں تو پھر مساجد کے سپیکر اتارنے پڑتے ہیں جب یہودیوں سے مال لیا ہو تو پھر پیر مہر علی شاہ رحمتہ اللّٰہ علیہ کی کتاب پر پابندی لگانی پڑتی ہے۔

یہاں کافی باتیں ہیں جب آپ کفار سے قرض لیں گے تو ان کا غلام بھی بننا پڑے گا چونکہ اب قرض لیا ہے تو اس کا واحد حل یہی ہے جو اوپر بتایا گیا ہے لیکن یہ بیانیہ صرف ایک غیرت مند، دلیر اور ایمان دار لیڈر ہی اوپر آکر لاگو کرسکتا ہے۔
سود بند کرکے کچھ دیر کیلئے اسلام کی پاور کو اپناتے ہوئے قرضہ کی واپسی رک سکتی ہے اور اسلامی شرعی نظام کا نفاذ کرکے اس کے invest اور Profit اور اس کے شرعی ٹیکس لگا کر دیگر کئی ایسے طریقہ کار ہیں جس سے پاکستان واپس اپنے ٹریک پر آ جائے گا۔
آپ خود سوچیں جتنا قرض چڑھ گیا ہے سود ہوگیا ہے باباجان رحمتہ اللّٰہ علیہ نے جو حکمت اسلام کی تاریخ سے نکال کر بتائی تھی اسکے علاؤہ کوئی چارہ نہیں بچا۔ یقیناً ہمیں مشکلات کا کچھ عرصہ سامنا کرنا پڑے گا لیکن باباجان رحمتہ اللّٰہ علیہ نے اس چیز کا ذکر بھی تو فرمایا ہے کہ پتھر باندھ کر بھی صحابہ کرام نے ادھار کی بات نہیں کی یعنی اگر کچھ دیر کیلئے ملک جو آگے ہی مہنگائی کے طوفان میں ہے تھوڑی مشکل ضرور ہوگی لیکن چند ماہ میں ان شاءاللہ Stable بھی ہوجائے گا۔ اب یہ تو ہو نہیں سکتا کہ آپ کو حلوہ بھی پکا کر منہ میں ڈال دیا جائے 70 سال سے زائد عرصہ چوروں کو ووٹ دیا ہے ٹی ایل پی کو ووٹ دے کر اسلامی شرعی نظام کا نفاذ کرکے دیکھ لیں ہر لحاظ سے پاکستان بہتر ہوجائے گا۔ اسلامی ٹیکس نافذ ہوں گے تو غریبوں کو پیسہ ملے گا اور دولت صرف ایک ہاتھ میں نہیں ہوگی بلکہ گردش کرے گی اور Black Money کو سفید کرنے کا کام رُکے گا۔
ٹی ایل پی اپنا منشور اسلام ، پاکستان ، عوام اور معاشی پلان واضع کرچکی ہے ہماری سیاست وہی ہے جو آقا کریم ﷺ نے فرمائی اسی میں برکت بھلائی ہے اور ترقی ہے یہ باتیں سخت نہیں بلکہ اللہ کی کتاب کے مطابق ہیں باقی عوام کی اپنی سوچ ہے کہ وہ حق کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں ذلیل ہونا پسند کریں گے ۔۔۔۔!!!