عنوان: اوہ مولوی ۔

علامہ تفتازانی رحمۃ اللہ علیہ اپنے وقت کے بہت بڑے عالم اور چیف جسٹس تھے آپ کے لئے بادشاہ کے دربار میں تخت رکھا جاتا تھا ایک بار محل میں زلزلہ آیا اور کچھ کنگرے کرنے لگے اب کوئی بھی شخص اٹھ نہیں رہا کیونکہ کے بادشاہ بیٹھا ہوا ہے علامہ تفتازانی رحمۃ اللہ علیہ کھڑے ہوئے اور باہر کو چل دیئے بادشاہ کو غصہ آیا اور پیچھے سے آواز دی(اوہ مولوی) کیا میری جان سے تیری جان ذیادہ قیمتی ہے آپ نے فرمایا ہاں میری جان زیادہ قیمتی ہے ابھی اگر کوئی پتھر تمہیں لگے اور تم مر جاؤ تو کوئی اور تمہاری جگہ بیٹھ جائے گا لیکن اگر میں مر جاتا ہوں توں میری جگہ کون بیٹھے گا۔۔۔
لہذا علماء سے گزارش ہے اپنا خیال رکھوں بھائیوں آٹھ دس سال لگا کر مدرسوں میں پھر بھی اوہ مولوی کہنے والوں کے پاس ہی وقت برباد کرنا ہے کام کرتے چلے جائیں آج جس کو سردیوں اور گرمیوں اور پانی اور ڈھیلوں سے استنجاء کرنے کا فرق نہیں آتا اس کو ہم آسمان کی باتیں کہاں سمجھا سکتے ہیں ۔
جو قوم اپنے علماء اور مشائخ کا ادب نہیں کرتی ذلت اسکا مقدر ہوتی ہے۔کسی عالم کی علم کی وجہ سے توہین کفر میں ڈال دیتی ہے
لہذا اوہ مولوی کہنے والوں سے بچوں ۔۔۔۔

سرفراز مدنی عطاری