فتاوٰی رضویہ کی کرامت

میں احمد رضا رضوی نے شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا عبدالستار سعیدی صاحب مدظلہ سے درس بخاری شریف میں سنا۔۔۔۔!

آپ نے فرمایا کہ فتاویٰ رضویہ جوکہ اب 33 جلدوں میں تخریج و تحقیق کے ساتھ موجود ھے فتاویٰ کو اس صورت میں لانے کیلئے مجھے 16 سال محنت کرنی پڑے۔

آپ نے فرمایا ۔۔۔۔۔۔۔۔!

جب یہ کام شروع کیا تو مجلس میں یہ مسئلہ بھی پیش ہوا کہ فتاوٰی رضویہ کی کتابت کس سے کروائی جائے ؟بالاخر طے یہ پایا کہ محترم شریف گل صاحب سے یہ خدمت لے جائے کیونکہ گل صاحب اردو کتابت کے ساتھ ساتھ عربی کتابت بھی احسن طریقے سے کرلیا کرتے تھے۔

فتاویٰ رضویہ کی کتابت سے قبل شریف گل صاحب ایک دنیا دار داڑھی منڈھے انسان تھے۔لیکن جب انھوں نے فتاویٰ رضویہ کی کتابت شروع کی تو اعلی حضرت کی تعلیمات کا ایسا اثر ہوا کہ آپ باشرع پکے نمازی اور پرہیزگار بن گئے ۔

الحمدلله

اعلیٰ حضرت کی تعلیمات کا اثر صرف انکے باطن پر نہیں ہوا بلکہ فتاویٰ کی برکت سے اتنا زیادہ علم آگیا کے روافض اور خوارج کو مناظرے کے چیلنج کرتے۔ اور انکے ساتھ عالمانہ گفتگو کرتے ۔

ایک دن کسی مقام پر ایک مخالف نے مناظرے کا چیلنج کردیا جب شریف گل صاحب کو پتا چلا تو آپ نے مناظرے کے چیلنج کو قبول کرلیا ۔

جگہ کا تعین کرلیا لوگوں جوق در جوق مجتمع ہوگئے۔مناظرہ شروع ہوا، دوران مناظرہ شریف گل صاحب نے کہا آپ بہت بخاری بخاری کررہے ہیں کیا بخاری کا اصل نام بھی جانتے ہیں؟

صرف یہی سوال تھا کہ مولوی صاحب حواس باختہ ہوگئے کبھی صحیح البخاری کہے اور تو کبھی جامع البخاری المختصر مخالف مولوی صاحب جب اٹکل بچو لگا لگا کر تھک گئے تو شریف گل صاحب نے فرمایا

بخاری شریف کا اصل نام

’’ الجامع الصحیح المسند المختصر من امور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم وسنتہ وایامہ ‘‘ ہے۔

صرف یہی بات تھی کہ عوام نے شور مچا دیا کہ جس مولوی کو بخاری شریف کا اصل نام نا آتا ہو وہ مناظرہ کیا کرے گا لہذا مخالف مولوی صاحب کو ذلت و رسوائی کے ساتھ اپنا بوریا بسترا گول کرکے میدان مناظرہ سے ماتھے پر شکست کا داغ لئے جانا پڑا۔

نوٹ۔ واقعہ کا مفھوم وہی ھے جو تحریر سے سے اخذ ہورہا ھے البتہ تحریر کے الفاظ اس رضوی طالب علم کے ہیں اگر کسی جگہ کوئی کمی کوتاہی ہو تو اسکا ذمہ دار میں ہوں استاذ صاحب ان تمام کمی و کوتاہیوں سے بالاتر ہیں۔

احمد رضا رضوی