*سیلابی تباہ کاریاں اور سیاسی خرمستیاں*

*تحریر کنندہ ؛۔ سید محمد شفیع قادری رضوی*

*۰۱ صفر المظفر ۱۴۴۴, 30/08/2022*

،،،،،،،،،،،،، ☁️ 🌲 🗻 ،،،،،،،،،،،،،،

*یہ دُکھوں کا موسم فانی ہے ، رک جائے گا ایک دن ۔*

*دلوں کی بستی اُجڑ گئی تو ، سب برباد ہے ایک دن ۔*

پاکستان کی موجودہ خطرناک موسمیاتی تبدیلیوں کے پیش نظر سیلاب کی روک تھام اور اِس کے سدباب کے لئے ہر شعبہ زندگی کے ماہرین کو سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا ۔ ورنہ یہ بربادی آئندہ آنے والی صدیوں میں ہماری املاک اور نسلوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دے گی ۔ عالمی ماہرین کی جانب سے خطرات کی نشاندھی کے باوجود حکومت پاکستان نے حالات کی سنگینی کو سنجیدگی کے ساتھ لیا ہی نہیں ۔ جس کا خمیازہ سیلاب کی تباہ کاریوں کی شکل میں ملک کے طول و عرض میں نظر آ رہا ہے ۔ لیکن کرپٹ سیاستدانوں کی خرمستیاں ختم نہیں ہو رہی ہیں ۔

سیاسی جماعتوں کی رسہ کسی نے پورے ملک کو نہ صرف پانی میں ڈبو دیا ہے بلکہ انفرا اسٹیکچر سمیت زرعی پیداوار کو بھی تہہ و بالا کردیا ، اس آبی جارحیت کے پیچھے نام نہاد جمہوریت پسند سیاسی جماعتوں اور قوم پرستوں کا بہت بڑا ہاتھ ہے ، جنھوں نے ڈیم کی تعمیر کو اپنی جھوٹی انا اور ذاتی مفاد کی بھینٹ چڑھا دیا ۔ لیکن ملکی تعمیر و ترقی کو خوشحالی کی شاہراہ پر چڑھنے نہیں دیا ۔ ان پیچھتر سالوں میں سیاستدانوں کی مکروہ فطرت اور چالبازیوں میں رتی برابر بھی فرق نہیں آیا ہے کیونکہ جن کے ووٹوں سے یہ شیطان منتخب ہو کر اسمبلیوں میں جاتے ہیں وہ غریب سے غریب تر ہوتے چلے گئے اور بالآخر سیلابی ریلے نے بھی ان ہی غریب لوگوں کی بستیوں کو صفحہ ہستی سے مٹادیا لیکن ووٹ لینے والے سرداروں ، وڈیروں ، زرداریوں ، مزاریوں وغیرہ وغیرہ کے محلات محفوظ رہ گئے ، تو آخر کیوں کر ایسا ہوا ۔

سیاسی جماعتوں اور ان کے نامور رہنماؤں کے نزدیک سیلاب زدگان کی پریشانی و تکلیف معمول کی بات ہے ۔ انہیں نہیں احساس ہے کہ سوات سے لیکر پوٹھوہار تک اور پھر پورا اندرون سندھ آفت زدہ سیلاب میں ڈُوبا ہوا شہر کا منظر پیش کر رہا ہے جہاں کبھی بستیاں تھیں وہاں اب صرف پانی ہی پانی ہے ۔ لٹی پٹی عوام کی آنکھیں کسی مسیحا کی تلاش میں بھٹک رہی ہیں ۔ جب کہ مدہوش و مست سیاست دان سیاسی بیان بازی اور جلسہ جلسہ کھیل رہے ہیں ۔ ہوس اقتدار کی یہ جنگ جمہوری نظام حکومت کو کسی بھی وقت اختتام پذیر ہو جائے گی ۔

سیلابی تباہ کاریوں سے بے خبر سیاسی اشرافیہ کے مردہ ضمیر کو جگانے کے لئے مہلک ترین تیزاب سے دھونے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اس کی ہولناکیوں کو سمجھ سکیں اور میدان عمل میں آکر ملکی خزانوں سے پیچھتر سالوں سے بے دریغ لوٹی گئی دولت کو عوامی فلاح و بہبود پر بھی خرچ کریں ۔ کیونکہ قدرتی آفات ، زلزلہ اور قحط سالی میں صرف ملکی فلاحی اداروں یا افواج پاکستان کی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہی اپنی خدمت پیش کریں بلکہ سیاست کے نام پر اسمبلیوں میں مراعات و مفادات کا مزہ لوٹنے والے اراکین قومی و صوبائی اسمبلیوں کی بھی احساس ذمہ داری ہے کہ وہ انسانیت پر تقریر نہیں بلکہ کھڑے ہو کر عملی جدوجہد کا آغاز کریں ۔ پاکستان ہم سب کا ہے چنانچہ اسکی دیکھ بھال بھی سب نے مل جل کر کے ہی کرنا ہے ۔

*خیراندیش*

*حنفی اُردو جماعت*

*دارالخلافہ کراچی سابق*

*واٹس اپ نمبر ، 03108545499*