مولانا شاہد رضا نعیمی: دیار یوروپ میں اسلام کا بے لوث مبلغ !!

غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی

سات صفر ١٤٤٤ھ (۵؍سمتبر۲۰۲۲ء) کی شام تھی،نماز عشا کا وقت ہوا چاہتا تھا کہ ہمارے دیرینہ کرم فرما حضرت مولانا نیاز احمد مالیگ نے انگلینڈ سے یہ درد ناک میسج دیا کہ Allama shahid Raza Naimi has passed away۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔
میسیج پڑھتے ہی دل ودماغ پر حزن وملال کی کیفیت طاری ہوگئی۔کلمہ ترجیع پڑھ کر آپ کی مغفرت اور رفع درجات کے لیے دعا کی اور دیگر احباب کو اس خبر غم سے باخبر کیا۔میری علامہ شاہد رضا نعیمی رحمہ اللہ سے براہ راست جان پہچان تو نہیں تھی لیکن آپ کی تبلیغی خدمات اور نعیمی نسبت کے اشتراک کی بنا پر ان سے یک گونہ قلبی لگاؤ تھا۔وہ ہمارے دادا استاذ عمدۃ المحققین مفتی حبیب اللہ نعیمی علیہ الرحمہ کے بڑے شہزادے تھے۔خبر غم ناک تھی مگر احباب کو اطلاع بھی دینا تھی اس لیے ان کے مختصر تعارف کے ساتھ فیس بک،واٹس اپ کے ذریعے خبر نشر کی۔دیکھتے ہی دیکھتے یوروپ سے ہند و پاک تک خبر پھیل گئی اور تعزیتی پیغامات موصول ہونے لگے۔پیغامات کی کثرت سے علم ہوا کہ علامہ شاہد نعیمی بھلے ہی سات سمندر دور جا بسے تھے مگر ان کی یادیں اور تعلق داریاں انڈیا، انگلینڈ ہی نہیں یوروپ اور مملکت خداداد تک پھیلی ہوئی تھیں۔جن سے معلوم ہوا کہ علامہ شاہد رضا نعیمی بظاہر بھلے ہی رخصت ہوگئے مگر چاہنے والوں کی یادوں میں وہ ابھی بھی زندہ ہیں:

مر کے جی اٹھنا فقط آزاد مَردوں کا ہے کام
ورنہ ہر ذی ہوش کی منزل ہے آغوش لحد

کتاب زندگی________

مولانا شاہد رضا نعیمی بھارت کے مردم خیز صوبے بہار کے ریشمی شہر بھاگل پور سے تعلق رکھتے تھے۔شہر سے قریب پانچ کلومیٹر کی دوری پر فتح پور نامی گاؤں آباد ہے۔ اسی گاؤں میں سن 1950 میں مفتی حبیب اللہ نعیمی کے گھر پر آپ کی پیدائش ہوئی۔جامعہ نعیمیہ کے داخلہ رجسٹر میں آپ کی تاریخ پیدائش 13؍دسمبر 1950 درج ہے۔ شاہد رضا مجید(1368)سے پیدائش کا سن ہجری نکلتا ہے۔یعنی تقویم اسلامی کے مطابق آپ کی ولادت 1368ھ میں ہوئی تھی۔اس طرح سن ہجری کے اعتبار سے آپ عمر کی 76 اور سن عیسوی کے اعتبار سے 72؍ویں بہار میں تھے۔آپ کے والد گرامی عمدۃ الفقہا مفتی حبیب اللہ نعیمی علیہ الرحمہ صدرالافاضل الشاہ سید محمد نعیم الدین قادری(صاحب تفسیر خزائن العرفان) کے نام ور شاگرد اور برصغیر کی مرکزی درس گاہ جامعہ نعیمیہ مرادآباد کے شیخ الحدیث اور رئیس الاساتذہ تھے۔مولانا شاہد رضا کا تعلیمی سفر اسی ادارے سے شروع ہوا۔ابتدائی تعلیم کے بعد آپ مرادآباد چلے آئے جہاں ان کے والد گرامی صدرالافاضل کی جانشینی کے فرائض انجام دے رہے تھے۔

فرماں برداری کا بے مثال مظاہرہ_______

علامہ شاہد رضا نعیمی ڈاکٹر بننے کی خواہش لیکر مرادآباد آئے تھے۔اسی لیے آپ نے نعیمیہ کی بجائے عصری اسکول میں داخلہ لیا۔یہاں آپ نے ہائی اسکول، انٹر (سائنس) بی ایس سی (بائیولوجی) جیسے امتحان پاس کیے۔بعدہ ایم بی بی ایس کی تیاری میں لگ گئے امتحان بھی دیا لیکن کاتب تقدیر نے نصیب میں کچھ اور ہی لکھا تھا اس لیے داخلہ نہ مل سکا۔جس کے باعث آپ نے لکھنؤ کے تکمیل الطب کالج میں بی یو ایم ایس میں داخلہ لے لیا۔ابھی دو سال ہی گزرے تھے کہ حضرت مولانا سید کلیم اشرف اشرفی صاحب(سجادہ نشین خانقاہ اشرفیہ جائس) کے مشورے پر آپ کے والد نے آپ کو واپس مرادآباد بلا لیا اور دینی تعلیم حاصل کرنے کا حکم دیا۔

غور کریں!
ایک ایسا نوجوان جس نے اپنے خواب کی تعبیر کے لیے زندگی کے بہترین سال صرف کئے۔سارے امتحانات پاس کیے اب جب کہ آخری منزل کا آدھا سفر ہی باقی رہ گیا ہے کہ والد کا حکم آتا ہے کہ برخوردار واپس آجاؤ!
آج کا نوجوان ہوتا تو حکم عدولی کر جاتا/تعمیل حکم میں پس و پیش کرتا مگر یہ والد گرامی کی تربیت وصحبت کا فیض تھا کہ سعادت آثار بیٹے نےبلا چون وچرا والد کے حکم پر لبیک کہا اور بی یو ایم ایس کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر درس نظامی کا سفر شروع کردیا۔آپ کے اس عمل میں ان نوجوانوں کے لیے ہدایت ونصیحت ہے جو اپنی سمجھ اور شعور کے آگے بزرگوں کی سمجھ کو حقیر جانتے ہیں۔

والد گرامی کا انتقال________

سن 1971 میں مولانا شاہد رضا نے جامعہ نعیمیہ میں داخلہ لیا۔ نعیمیہ کے داخلہ رجسٹر کے مطابق آپ کا داخلہ نمبر 523؍ہے۔یہاں سے زندگی کا ایک نیا باب شروع ہوتا ہے۔ذہانت پہلے ہی سے تھی مخلص اساتذہ ملے تو مانو پر لگ گئے اور اگلے پانچ سال کے اندر آپ نے مروجہ تعلیم مکمل کرلی۔اس سفر میں دو اساتذہ کرام ایسے تھے جنہوں نے آپ پر خصوصی شفقت کا مظاہرہ کیا،ان میں سے ایک آپ کے والد گرامی مفتی حبیب اللہ نعیمی علیہ الرحمہ اور دوسرے امام المنطق علامہ ہاشم نعیمی نور اللہ مرقدہ تھے۔ مئی 1975 میں مفتی حبیب اللہ صاحب نے مولانا شاہد رضا کو سپرد خدا کیا اور اس دار فانی سے کوچ فرمایا۔ یقیناً مفتی صاحب اشارہ غیبی کو سمجھ چکے تھے کہ عمر عزیز کے چند ہی برس رہ گیے ہیں اس لیے انہوں نے اس مختصر وقت میں اپنے جانشین کی علمی وفکری تربیت ضروری سمجھی تاکہ ان کا شاہد “فیضان نعیمی کا شاہد” بن سکے۔یہی وہ بنیادی وجہ تھی کہ مفتی صاحب نے اپنے قابل اور ذہین بیٹے کو عصری تعلیم سے ہٹا کر دینی تعلیم پر ڈالا تاکہ ان کی دینی روایتوں کے امین وجانشین کی تعلیم وتربیت میں کوئی کمی نہ رہ جائے۔مولانا شاہد کی خواہش تھی کہ دورۂ حدیث اپنے والد سے کریں گے اور انہیں کے ہاتھوں دستار فضیلت کا اعزاز حاصل کریں گے مگر کون جانتا تھا کہ مولاناشاہد کی یہ حسرت ادھوری ہی رہے گی:

قسمت تو دیکھئے ٹوٹی ہے جاکر کہاں کمند
کچھ دور اپنے ہاتھ سے جب بام رہ گیا

دستار فضیلت___________

والد گرامی سے دورہ حدیث کرنے کی مولانا شاہد رضا کی حسرت بھلے ہی ادھوری رہی لیکن مفتی صاحب اپنا کام پورا کر گئے۔اس سال آپ میرٹھ یونیورسٹی سےایم اے( اردو، سال اول)کے طالب علم بھی تھے۔دورہ حدیث کی تکمیل کے لیے 19؍اکتوبر 1975 کو آپ نے جامعہ نعیمیہ میں دوبارہ داخلہ لیا۔اس وقت جامعہ نعیمیہ کے شیخ الحدیث اور پرنسپل مفتی غلام مجتبیٰ اشرفی علیہ الرحمہ تھے۔جنہیں مفتی اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضا نوری نے اپنے ادارے مظہر اسلام بریلی سے بطور خاص جامعہ نعیمیہ بھیجا تھا۔مولانا شاہد رضا نے دورہ حدیث کی تکمیل آپ ہی سے کی اور 15؍ اگست 1976 کو جامعہ نعیمیہ کے سالانہ اجلاس میں علما ومشائخ کے مبارک ہاتھوں سند فضیلت اور دستار فضیلت کا تاج زریں حاصل کیا۔اس طرح شاہد رضا اب “شاہد رضا نعیمی” بن گیے۔ اسی سال میرٹھ یونیورسٹی سے ایم اے کی ڈگری بھی حاصل کی اس طرح ایک ہی سال میں آپ نے آپ مذیبی وعصری تعلیم کی دو اعلیٰ سندیں حاصل کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔

برطانیہ آمد اور تبلیغی خدمات_______

کہتے ہیں پوت کے پاؤں پالنےہی میں نظر آجاتے ہیں۔مولانا شاہد رضا نعیمی کی فکری صلاحیتوں کا اندازہ کئی اکابرین کو زمانہ طالب علمی ہی سے تھا۔بعد فراغت ان کی خطابت کا چرچا ہوا۔آپ ‘نگہ بلند سخن دل نواز’ کا مصداق تھے۔انہیں خصوصیات کو دیکھتے ہوئے فراغت کے دو سال بعد 1978 میں شیخ الاسلام علامہ سید مدنی میاں صاحب قبلہ نے آپ کو اسلامک سینٹر لیسٹر برطانیہ کا سربراہ بنا کر روانہ فرمایا۔اس طرح ہند میں پروان چڑھنے والی شخصیت زمین برطانیہ میں مقیم ہوگئی۔یہاں آپ نے قریب چالیس سال سے زائد وقت امامت وخطابت،درس وتدریس اور وعظ ونصیحت کے ذریعے خلق خدا کی خدمت فرمائی۔صاحب مطالعہ پہلے ہی سے تھے بین الاقوامی تجربات نے مزید نئے رنگ بھر دئے۔متانت وسنجیدگی گھٹی میں شامل تھی،اس لیے جب سرزمین برطانیہ پر وعظ وخطابت کا سلسلہ شروع کیا تو گہرے نقوش چھوڑے۔انداز خطابت ایسا ہوتا کہ ایک ایک لفظ سامعین تک بحسن وخوبی پہنچتا۔نہ شورنہ تیزی، انتہائی پرسکون انداز میں خطاب فرماتے۔الفاظ وانداز پر مہارت حاصل تھی۔ سامعین کے چہروں سے ان کی کیفیت جاننے کا ہنر رکھتے تھے اس لیے گفتگو فرماتے تو سامعین ٹکٹکی باندھ کر خطاب سماعت کرتے۔مولانا سیف خالد اشرفی صاحب بیان کرتے ہیں:
“علامہ خواجہ مظفر حسین صاحب نے سہسرام میں ان کے ساتھ ایک اجلاس میں شرکت کا ذکر کیا،وہاں رات کے ساتھ دن میں بھی جلسہ ہوتا ہے۔ایک سے زیادہ شفٹ میں تقریریں ہوئیں ہر شفٹ میں ان کا خطاب میرے بعد تھا۔میں نے پوری تیاری کی اور اپنی صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے تقریر کی اور یہ خیال کیا کہ میرے بعد ان کی تقریر نہیں جمے گی لیکن ہوا میرے خیال کے برعکس۔ان کا ہر خطاب میرے مقابلے میں بہت اعلیٰ اور انتہائی مؤثر ہوا۔”
(بہ روایت مولانا سیف خالد اشرفی صاحب)

آپ کی ایک اور تقریر کے بارے میں مولانا سیف خالد صاحب لکھتے ہیں:
“سن 1978 میں کشمیر میں آپ کا پروگرام ہوا۔شیخ عبداللہ مرحوم (سابق وزیر اعلیٰ کشمیر) اسٹیج پر موجود تھے وہ آپ کے خطاب سے بے حد متاثر ہوئے۔انہیں کشمیر میں مستقل قیام کی پیش کش اور شہریت دینے کی خواہش ظاہر کی۔”

تبلیغی،تصنیفی اور تعمیری خدمات______

امامت وخطابت کے علاوہ آپ نے کئی اہم خدمات بھی انجام دیں۔دی مسلم کالج لندن (the muslim college London) میں ایڈمنسٹریٹو آفیسر منتخب ہوئے۔اس ذمہ داری کے بعد آپ لیسٹر سے لندن منتقل ہوگئے اور یہیں پر سکونت اختیار کرلی۔حالانکہ لیسٹر کی مسجد میں آپ تاحیات خطیب جمعہ کے فرائض انجام دیتے رہے۔بیرون ممالک کئی بڑی اور انٹرنیشنل کانفرنسوں میں آپ نے شرکت کی اور جماعت اہل سنت کی کامیاب نمائندگی فرمائی۔ان ممالک میں امریکہ، لیبیا، فرانس، مراکش، ہالینڈ، چین، جاپان، آسٹریلیا اور افریقہ شامل ہیں۔

_________خطابت کی طرح آپ کو تصنیف وتالیف کا بھی شوق تھا۔ماہنامہ المیزان ممبئی کے امام احمد رضا نمبر میں ان کا وقیع مضمون شائع ہوا۔انگریزی زبان میں ان کی ایک کتاب islam in Brtain نہایت اہم کتاب ہے۔اس کے علاوہ والد گرامی مفتی حبیب اللہ نعیمی کے مجموعہ فتاوی حبیب الفتاوی پر آپ نے بطور مقدمہ ایک تفصیلی مضمون تحریر فرمایا جسے پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ زبان کی طرح آپ قلمی دنیا میں بھی اپنا مقام رکھتے تھے بس تقریر کے مقابلے تحریر کو اتنا وقت نہیں دے سکے جس سے ایک بڑا علمی ذخیرہ جمع ہو پاتا۔تبلیغ وتصنیف کی طرح تعمیراتی خدمات میں بھی مولانا شاہد رضا کا نمایاں اور اہم رول رہا ہے۔ان کی تعمیراتی خدمات میں ہالینڈ میں تقریباً نصف درجن مساجد ،ہائی اسکول اور مدارس کی تعمیر،امریکہ میں النور مسجد کی تعمیر، کناڈا میں گیارہ ایکڑ کے وسیع رقبے اور 22؍ملین کے صرفے سے تعمیر ہونے والی مسجد شامل ہیں۔اس کے علاوہ لیسٹر کی مسجد ابتداً ایک چھوٹی سی مسجد ہوا کرتی تھی لیکن آج یہ مسجد اس پورے علاقے میں ایک دینی قلعے کی حیثیت رکھتی ہے۔مفکر اسلام علامہ قمر الزماں اعظمی فرماتے ہیں:
“انہوں نے کبھی نہیں چاہا کہ ان کی خدمات کا تعارف کرایا جائے مگر اب کرایا جائے گا اس لیے نہیں کہ وہ اس تعارف کے محتاج ہیں بلکہ اس لیے تاکہ نئی نسل انہیں جان سکے اور ان سے کچھ سیکھ سکے۔”
(ماخوذتعزیتی خطاب،لیسٹر برطانیہ)

تنظیمی خدمات____________

مولانا شاہد رضا نعیمی طبعاً فکروتدبر کے آدمی تھے۔ آپ کی انہیں خوبیوں کی بنیاد پر قائد اہل سنت علامہ شاہ احمد نورانی اور مفکر اسلام علامہ قمرالزماں اعظمی نے آپ کو ورلڈ اسلامک مشن انگلینڈ کا نائب صدر مقرر کیا تھا۔آپ کی تنظیمی صلاحیتوں کے بارے میں مفکر اسلام علامہ قمر الزماں اعظمی فرماتے ہیں:
“مولانا شاہد رضا نعیمی ایک عظیم محسن، عظیم عالم، عظیم مفکر اور عظیم مدبر تھے۔ہماری تحریک میں ان کی حیثیت دماغ کی سی تھی۔”

اسے کسی رفیق کا اپنے دوست کے تئیں ایک توصیفی جملہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ ورلڈ اسلامک مشن کے تحت جو کارنامے انجام دئے گئے ان کی منصوبہ بندی میں علامہ شاہد رضا نعیمی کا دماغ کام کرتا تھا۔ایران میں خمینی کے انقلاب کے بعد ایک عالمی کانفرنس میں ورلڈ اسلامک مشن کےوفد نے جو تجاویز پیش کی تھیں وہ جرأت وبہادری اور دور بینی ودور اندیشی کی بہترین مثال ہے۔جس کا خلاصہ کچھ اس طرح ہے:
🔸 جس طرح دستور ایران میں فقہ جعفری کو غیرمتبدل قرار دیا گیا ہے، اسی طرح دیگر مسالک کوبھی دستوری طور پر غیر متبدل قرار دیا جائے۔
🔹ملکی سطح پر جو نصاب تیار کیا گیا ہے اس میں دیگر مسالک کی بالکل رعایت نہیں کی گئی ہے ،زاہدان جیسے صوبے میں جہاں سنی مسلمانوں کی 35؍فیصد آبادی ہے وہاں سنی مسلمانوں کے نظریات بھی شامل نصاب ہونا چاہیے۔
🔸 تہران میں سنی مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد بستی ہے لیکن وہاں اہل سنت کی کوئی مسجد نہیں ہے اس لیے اتنی بڑی تعداد کے لیے مساجد کا انتظام کیا جائے۔

ان تجاویز میں علامہ شاہد رضا نعیمی کی دماغ سوزی کا اہم رول تھا۔اس طرح تنظیمی امور میں بھی مولانا شاہد رضا نعیمی کا نمایاں کردار رہا ہے۔

انتقال پر ملال___________

سرزمین بہار سے اٹھنے والی اس بَہار نے دیار یوروپ کو خصوصی طورپر لالہ زار بنایا۔جہاں رہے وہیں علم وفن کے گہر لٹائے۔جہاں قیام کیا وہاں اپنے فکر وفن کی چھاپ چھوڑی۔عمر کے آخری دور تک بھی تساہل وتغافل سے کوسوں دور رہے۔ایک متحرک وفعال اور قابل رشک زندگی گزار کر فیضان نعیمی کا شاہد آخر ٧؍صفرالمظفر ۱۴۴۴ھ مطابق ۵؍ستمبر ۲۰۲۲ء بروز پیر کو اپنی عطربیزیاں لٹا کر خالق حقیقی کے بلاوے پر ہماری نگاہوں سے روپوش ہوگیا۔ لیکن یہ روپوشی ظاہری نگاہوں کی ہے۔اپنے علمی، فکری، تعمیری، تبلیغی کارناموں کی بدولت وہ ہمیشہ زندہ وجاوید رہیں گے۔ہمارے کرم فرما مولانا نیاز احمد مالیگ صاحب آپ کےجنازے میں شرکت کے لیے برمنگھم سے نکلے تھے ان کے بقول ادھر نماز جنازہ کی تیاری ہو رہی تھی ادھر آسمان سے موسلادھار بارش برس رہی تھی گویا آسمان بھی ایک عالم ربانی کی رحلت پر اشک بار تھا۔رحمت ربی کی بوچھاریں برستی رہیں۔اسی رم جھم میں علامہ قمر الزماں اعظمی نےلیسٹر کے سیفرن ہِل قبرستان میں اپنے دیرینہ رفیق کی نماز جنازہ پڑھا کر حق رفاقت ادا کیا۔دونوں بزرگ ہستیوں کا ساتھ قریب نصف صدی کا تھا۔اس دورانیے میں ان حضرات نے دنیا بھر کے سفر ساتھ کیے لیکن آج علامہ شاہد نعیمی نے اپنے دیرینہ رفیق کو راہ میں تنہا ہی چھوڑ دیا۔ خدا ہی جانتا ہے کہ ایسے عزیز دوست کو مفکر اسلام نے کس طرح وداع کیا ہوگا۔برستی بارش بھی آپ کے چاہنے والوں کی راہ نہ روک سکی سیکڑوں علما اور ہزاروں فرزندان توحید نے اپنے قائد وامام کو آخری سلامی دی اور اسلامی روایات کے مطابق اللہ کی امانت کو اللہ کی امان میں سونپ دیا۔

مدتوں بعد کہیں پیدا ہوتے ہیں وہ لوگ
مٹتے نہیں ہیں دہر سے جن کے نشاں کبھی

٢١؍صفرالمظفر ۱۴۴۴ھ
19؍ستمبر 2022 بروز پیر