رضوی محققین کی خدمت میں
افتخار الحسن رضوی
سوشل میڈیا کے عام ہونے سے ایک نقصان یہ بھی ہوا ہے کہ اب لکھنےوالے لوگوں نے فقط کاپی پیسٹ کی عادت اپنا لی ہے۔ نئی تحقیقات، تصنیفات اور خصوصاً جدید نوعیت کے مسائل پر توجہ کم ہو گئی ہے۔ مثلاً گزشتہ کئی دہائیوں سے ہمارے سُنی بھائی مسلسل فتاوٰی رضویہ، کنز الایمان اور دیگر تصنیفات امام احمد رضا ہی کو رد و بدل سے شائع کرتے جا رہے ہیں۔ کبھی فتاوٰی رضویہ کی تیس جلدیں، کبھی بائیس اور اب چالیس کی بھی شنید ہے۔ اسی طرح ہمارے لوگ مسلسل اپنی توانائی ضائع کر رہے ہیں کہ وہ امام احمد رضا کو ماہرِ اقتصادیات، ریاضیات، حسابات، ہندسہ ، فلکیات ، کیمسٹ، الٹراسونو گرافی اور ماہر حیاتیات وغیرہ وغیرہ ثابت کریں۔ دلیل کے طور پر وہ ایک انتہائی ہلکی اور کمزور سی کہانی سنا دیتے ہیں جو سن کر ہرگز عزت افزائی نہیں ہوتی۔ مثلاً خطباءاور لکھاری حضرات ریاضی میں مولائی علیہ الرحمہ کو حرفِ آخر ثابت کرنے کے لیے علی گڑھ یونیورسٹی میں پیش آئے ایک ریاضی کے مسئلہ پر ایسی لمبی تمہید باندھتے ہیں جیسے دیوارِ چین کی تعمیر جاری ہو۔ اور آخر میں امام علیہ الرحمہ نے اس سوال کا جواب کیسے اور کیا ، نکالا یہ آج تک کسی کتاب میں مذکور نہیں ہے۔
آخر آپ امام علیہ الرحمہ کو کیوں جبراً ایک سائنسدان منوانا چاہتے ہیں؟ وجہ؟ ضرورت؟ کیا یہ منصب مجدد کے لیے ضروری کوالیفیکیشنز ہیں؟ کیا اتنا کافی نہیں کہ اللہ نے ہمیں وہ بزرگ عالم عطا کیا جس نے بدعات و خرافات کا رد کیا، ناموسِ رسالت کا تحفظ کیا، اغیار کی شرارتوں کی راہیں بند کر دیں، ایمانی خرابیوں کا سبب بننے والے وائرس مار دیے، وھابی، رافضی ، تفضیلی، قادیانی اور دیگر عصری فتنوں کی سر کوبی کی اور دلائل و نصوص سے اہل سنت کا دفاع کیا۔ فقہی میدان میں بہترین تحقیقات پیش کیں ۔ کلامی، اعتقادی اور نظریاتی مسائل میں ہماری مشکل کشائی فرما دی۔ سیاسی مسائل میں ہماری راہ متعین کر دی۔ اس سب کے بعد آپ انہیں ، حمیان، جابر بن حیان، نفیس، کندی، ابن ہیثم ، فزاری، خوارزمی، ابن فرناس، بیرونی ، ابن سینا اور طوسی وغیرہ کیوں ثابت کرنا چاہتے ہیں؟
کیا آپ اس سے مطمئن نہیں کہ اللہ نے ہندوستان کے انسانوں میں ایک ایسا انسان پیدا کیا جس کو ائمہ اربعہ، سلاسل طریقت کے تمام اکابرین ، تابعین، صحابہ کرام، اہل بیت اطہار رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فیض بھرپور عطا فرمایا۔ یا آپ لازمی انہیں ایسے منصب پر بٹھانا ہی چاہتے ہیں جہاں ان کے برابر کوئی اور نہ ہو؟ کہیں آپ لاشعوری طور پر انہیں منصبِ نبوت پر تو نہیں بٹھا چکے؟ جیسے شیعہ سیدنا علی علیہ السلام کو انبیاء علیہم السلام کے برابر بلکہ افضل جانتے ہیں ہیں ویسے ہیں یہ جرثومہ کہیں ہمارے اندر تو نہیں گھس گیا؟
صفر کا پورا مہینہ ہمارے بعض لوگ دیگر اکابرین اسلام کا دن بھول جاتے ہیں۔ مثلاً شیخ مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ اور امام حسنِ مجتبٰی علیہ السلام بھی اسی ماہ میں ہیں۔ ان پر نسبتاً کم بات ہوتی ہے حالانکہ ان دونوں کے درجات امام احمد رضا سے کہیں بڑھ کر ہیں ۔ اگر آپ سُنیت کے دھارے میں واپس آنا چاہتے ہیں تو مدھانی لسی سے باہر نکال لیں، ایک کلو دہی سے جتنی لسی بن سکتی تھی، بن چکی۔ اب آپ حالاتِ حاضرہ اور مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے قرآن کریم اور حدیث کے موضوعاتی مطالعہ، تفسیر، شروحات، جدید فقہی مسائل، سیاسی اصلاحات، معاشرتی علوم، رویوں پر تصوف کے نفاذ اور اقوام عالم کے ساتھ تعلقات جیسے عنوانات پر لکھنا اور بولنا شروع کریں۔
افتخار الحسن رضوی
۲۸ صفر ۱۴۴۴
۲۴ ستمبر ۲۰۲۲