ٹرانس جینڈر اور فکری اغوا کا تسلسل
از ڈاکٹر محمد اسمٰعیل بدایونی
یہ غالباً1991ء کی بات ہے میں نویں جماعت کا طالب علم تھا اس زمانے میں ٹی وی پر ایس ٹی این او ر این ٹی ایم کی نشریات شروع ہوئی تھیں نئی نئی نوجوانی آرہی تھی جوش اور جذبات اپنے عروج پر تھے ہم پلے کارڈ اٹھا کر احتجاج بھی کیا کرتے تھے اور دیواروں پر چاکنگ بھی کیا کرتے تھے کہ این ٹی ایم کی نشریات بند کرو ۔۔۔فحاشی وعریانیت بند کرو ۔۔۔مغرب کی تہذیب امپورٹ کرنا بند کرو وغیرہ وغیرہ۔
ابھی ہم نوجوانی سے جوانی میں داخل بھی نہیں ہوئے تھے کہ چند سالوں کے اندر اندر ہی لوگوں کے گھروں میں ڈش اینٹینا لگنے لگا انڈین چینل چلنے لگے ،یہ قوم بھی بہت عجیب و غریب تھی اس کے پاس کھانے کو ہو یا نہیں، گھر پکا ہو یا کچا ،چھت سیمنٹ کی ہو یا ٹینوں کی لیکن ڈش اینٹینا لازمی تھا ۔ اس وقت ایسے لوگوں کوجن کے گھر ڈش اینٹینا ہوتا ہم انہیں اچھا نہیں سمجھتے تھے ۔
ابھی ڈش ٹی وی سے ہماری نفرت پختہ ہونے بھی نہیں پائی تھی کہ پاکستان میں اکیسویں صدی کے آغاز میں میڈیا انڈسٹری کا سیلاب آگیا ، ٹی وی چینلز کے لائسنس جاری ہو ئے اور ڈش سے بڑے عفریت کیبل نے اپنے قدم ہمارے معاشرے میں گاڑ لیے اور پھر لوگوں کی دیکھا دیکھی دین دار لوگوں نے بھی اسلامی چینل ،اسلامی پروگرامز اور مختلف علمی ٹاک شوز کو جواز بنا کرکیبل لگوا لیا اور آج ہم تمام لوگ کیبل سے کہیں زیادہ آگے آ چکے ہیں انٹر نیٹ کی تیز رفتار دنیا بہت تیز ہے غیر اخلاقی ویب سائیٹس ،سوشل میڈیا اور اس پر بنے ہوئے ملحدین کے نیٹ ورکس ، اسلام دشمن فسادی ، نظریاتی کشمکش کی ایک ہولناک فکری جنگ کا ہمہ وقت گرم معرکہ نوجوانوں کے اخلاق وافکار کو تباہ و برباد کررہا ہے۔
اب کبھی تیس سال پیچھے جا کر 14 سال کے اس نوعمر کے ان نعروں کو سوچتا ہوں این ٹی ایم کی نشریات بند کرو ۔۔۔فحاشی وعریانیت بند کرو ۔۔۔مغرب کی تہذیب امپورٹ کرنا بند کرو۔تو جذباتیت کے نتائج صفر دکھائی دیتے ہیں بلکہ آج تیس سال کے بعد ہم جنس پرستی کی بات ہو رہی ہے ، ٹرانسجینڈر قانون کو نافذ العمل بنانے کی سازش ہو رہی ہے ۔۔۔
کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے
؎جانے کب طوفان بنے اور رستہ رستہ بچھ جائے
بند بنا کر سو مت جانا دریا آخر دریا ہے
صرف اتنا کہوں گا کہ دشمن نے تسلسل سے کام کیا اور ہم نے تسلسل سے خود کو کمزور کیا ۔۔۔
دشمن نے برسوں کام کیا ہے ۔۔۔جگہ جگہ اس کے فکری سلیپر سیل پھیلے ہوئے ہیں ۔۔۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا محض میڈیا انڈسٹری ہی اس کا فکر ی بارود خانہ ہے ؟
اگر آپ محض اسی کو دشمن کا فکری بارود خانہ سمجھتے ہیں تو عقل پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے میں نے کل کے کالم میں بتایا تھا کہ ڈراموں کے ذریعہ کس طرح ذہن سازی کی جا رہی ہے ۔
آپ کے تعلیمی ادارے ، جو اب تعلیمی ادارے کم اور تعلیم بیچنے کی انڈسٹری بن چکے ہیں ان کے فکری بارود خانے کی اسلحہ ساز فیکٹریاں اس میڈیا سے بھی زیادہ خطرناک ہیں ۔بڑے بڑے اور مہنگے اسکولوں کو تو چھوڑ ہی دیجیے ان کا تو ایجنڈا ہی یہ ہے کہ بچوں کو مسلمان نہ رہنے دیں لیکن آپ کے ہاں عام اسکول کی حالت کیا ہے ؟اسکول میں ٹیبلوز پیش کیے جاتے ہیں ، میوزک لگا کر جس طرح بچیوں سے صوبوں کی ثقافت کے نام پر رقص کرا یا جاتا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ۔۔۔
کسی کو سمجھاتے ہوئے ڈر لگتا ہے کسی کو سمجھاؤ تو جواب ملتا ہے کہ گندگی تمہارے ذہنوں میں ہے ۔۔۔انہیں انگریزی ادب کے نام پر جو لٹریچر پڑھایا جا رہاہے وہ بیان کرنے کے قابل نہیں ہے ۔
میرے ایک کولیگ نے بتایا کہ جب وہ ایک نیم سرکاری اسکول میں پڑھایا کرتے تھے تو انہوں نے ویلنٹائن ڈے کے موقع پر کچھ بچوں سے گفٹ پکڑے اور میڈم کو انفارم کیا کہ ان کو سزا دیجیے تو میڈم نے کہا یہ تو پیار کی بات ہے اسمبلی بلائیے میں بچوں کو بتاؤں گی گفٹ دیئے کیسے جاتے ہیں ؟
کیا محراب ومنبر محفوظ ہیں ؟
یہ ایک ایسا سوال ہے جو ایک سیدھے سادے مسلمان کو ہلا کر رکھ دے گا ۔۔۔ اس کا جواب میرے پاس ’’نہیں ‘‘ میں ہی ہے ۔آپ اپنے تجربات کی روشنی میں اس جواب کو تلاش کرسکتے ہیں ۔۔۔
ایک ایسی صورت حال میں جب مسلمانوں کے فکری جنگ لڑنے کے مراکز بھی انتشار و فرقہ واریت کا شکار ہو چکے ہوں تو یہ جنگ محض جذباتی نعروں سے کتنے دن اور لڑ ی جا سکے گی ؟مذہبی لوگو ں کے سوشل میڈیا پر ہونے والی چیٹ پڑھ لیجیے آپس ہی کے انتشار کے سبب آپ کو نہ صرف گھن آئے گی بلکہ قے ہونے لگے گی ۔
پارلیمنٹ ربڑ اسٹیمپ بن چکی ہے اور اس ربڑ اسٹیمپ پارلیمنٹ میں دینی جماعتوں کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے اور جو کچھ سیکولر جماعتوں میں مذہبی ذہن رکھنے والے ہیں انہیں بھی پیچھے دھکیل دیا گیا ہے ۔۔۔نہیں تو کچھ دنوں میں یعنی دس بیس سال میں یہ ختم ہو جائیں گے ۔۔۔مذہبی طبقہ جانے یاانجانے میں اس موجودہ نظامِ سیاست کی گندگی سے دور رہنے میں ہی عافیت سمجھتا اور سیاست کو شجر ممنوعہ ہی جانتا ہے اور طاغوت بھی اس میں خوش ہے کہ یہ پارلیمنٹ سے دور رہے تاکہ جو چھوٹی موٹی مزاحمت کا امکان بھی ہو وہ بھی ختم ہوجائے ۔۔۔
آنے والے دنوں میں طاغوت کا ننگا ناچ دیکھنے کے لیے میں اور آپ ہوں گے یا نہیں لیکن ہماری نئی نسل فکری اغواء کے بعد طاغوت کے کوٹھے پر برہنہ رقص کرے گی ۔۔۔
ایک مرتبہ پھر 1991 ء یاد آ گیا ہے نعرے ہیں کہ بھر پور ہیں ۔۔۔جذبات ہیں کہ عروج پر ہیں لیکن مستقبل کی حکمتِ عملی سے خالی ہیں ۔
ہے عمل لازمی تکمیل تمنا کے لیے
ورنہ رنگین خیالات سے کیا ہو تا ہے
یاد رکھنا دشمن تسلسل سے کام کررہاہے وہ دو قدم آ گے بڑھا کر عوامی دباؤ کی وجہ سے بس ایک قدم پیچھے ہٹالیتاہے اس طرح وہ اپنی مکاری سے ایک قدم تو آگے بڑھا ہی لیتا ہے اور ہم تسلسل سے شکست تسلیم کرتے ہوئے الٹے قدموں لوٹ رہے ہیں ۔
سونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے
سونے والو جاگتے رہیو چوروں کی رکھوالی ہے
آنکھ سے کاجل صاف چرالیں یاں وہ چور بلا کے ہیں
تیری گٹھری تاکی ہے اور تونے نیند نکالی ہے
فیس بک پر فالو کیجیے
https://www.facebook.com/ismail.budauni