سوال: بعض لوگ کہتے ہیں چونکہ حضور ﷺ نے اور صحابہ کرام علیہم الرضوان نے میلاد شریف نہیں منائی ہے اس لئے ہمیں بھی نہیں منانی چاہیے۔

جواب: دین میں ایسا کوئی اصول نہیں ہے کہ جو کام حضور ﷺ اور صحابہ کرام نے نہیں کیا ہو وہ منع ہوجائے۔ بلکہ دین کا اصول یہ ہے کہ جو کام “برائی” پر مشتمل ہوگا وہ بُرا ہوگا اور جو “اچھائی” پر مشتمل ہوگا وہ اچھا ہوگا، اب چاہے وہ کام حضور ﷺ نے، صحابہ نے یا تاریخ میں کسی نے بھی نہ کیا ہو۔ بخاری شریف کی حدیث ملاحظہ کریں۔

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا:
میری رائے ہے کہ آپ قرآن مجید کو جمع کرنے کا حکم دے دیجئے۔
قُلْتُ لِعُمَرَ:كَيْفَ تَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت ابوبکر کہتے ہیں کہ میں نے عمر سے کہا: آپ وہ کام کیسے کرسکتے ہیں جو رسول اللہ ﷺ نے نہیں کیا۔
قَالَ عُمَرُ: هَذَا وَاللهِ خَيْرٌ
عمر فاروق نے جواب دیا: (اگرچہ رسول اللہ ﷺ نے نہیں کیا) مگر خدا کی قسم یہ کام پھر بھی اچھا ہے۔
فَلَمْ يَزَلْ عُمَرُ يُرَاجِعُنِي
(حضرت ابوبکر کہتے ہیں) عمر مجھ سے اس بارے میں مسلسل بحث کرتے رہے۔
حَتَّى شَرَحَ اللهُ صَدْرِي لِذَلِكَ
یہاں تک کہ اللہ تعالی نے اس بارے میں میرا سینہ کھول دیا۔
وَرَأَيْتُ فِي ذَلِكَ الَّذِي رَأَى عُمَرُ
اور میں بھی عمرکی رائے سے متفق ہوگیا۔
(صحيح البخاري، كتاب فضائل القرآن، باب جمع القرآن، 6/183)

رسول اللہ ﷺکے دو عظیم صحابہ (ابو بکر و عمر) نے پہلی صدی ہجری میں یہ اصول طے کردیا تھا کہ جو کام اچھائی پر مشتمل ہو اُسے کیا جاسکتا ہے اگرچہ حضور ﷺ نے نہ کیا ہو۔

ابو محمد عارفین القادری – 01 اکتوبر 2022 – عروس البلاد کراچی