یومِ استاد

آج پوری دنیا میں ٹیچر ڈے منایا جارہا ہے
تاریخِ عالم میں ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم جیسا کوئی استاد نظر نہیں آتا اور آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم جیسے شاگرد نہیں ملتے.

کامیاب استاد بننے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سیرت اور حیات کا گہرا مطالعہ کرنا بہت ضروری ہے.

آج استاد اپنی ذمہ داری بھولتا جا رہا ہے اس کی ایک اہم ترین وجہ اخلاص کی کمی ہے، استاد جب اپنے طلبہ اور شاگردوں کے ساتھ مخلص ہو گا تو اس کا اخلاص شاگردوں کی زندگیوں میں انقلاب برپا کر سکتا ہے
بطور استاد ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ ہم اپنے شاگردوں کے ساتھ مخلص ہیں یا نہیں.
یاد رکھیے استاد صرف مدرسے یا سکول کے معلم کو ہی نہیں بلکہ ہر اچھی چیز ہنر اپنے ماتحت کو سیکھانے والا شخص استاد ہی ہوتا ہے
استاد کی عزت!

طلبہ، بچوں اور شاگردوں کے دل میں استاد کی عزت اور اہمیت پیدا کرنا والدین کی بھی ذمہ داری ہے
آجکل والدین؛ استاد یا ٹیچر کی خامیاں اورغلطیاں اپنے بچوں کے سامنے نہ صرف بیان کرتے بلکہ زور دار طریقے سے یوں اعلان کرتے نظر آتے ہیں..

بیٹا ہم تمہاری ٹیچر، سر، قاری صاحب سے جا کر بات کر لیں گے، کر انہیں سیدھا لیں گے وغیرہ وغیرہ

دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے آپ کے اس رویے کی وجہ سے بچہ استاد کی عزت کرے گا یا استاد پر جرات کرے گا؟
یقیناً ایسا بچہ استاد کے آگے زبان کھولنے، بدتمیزی کرنے میں جھجک محسوس نہیں کرے گا.
استاد کی عزت تو پھر ہم کرا چکے!

محترم والدین! آپ کو استاد سے لاکھ اختلاف ہواسی ہزاروں غلطیاں نظر آئیں. اپنے بچوں کے سامنے کبھی بھی استاد برائی نہ کیجیے بلکہ بچے کو ہی سمجھائیے
البتہ طلبہ کے متعلق شکایات کو استاد کے ساتھ تنہائی میں حل کیجیے.

فرحان رفیق قادری عفی عنہ
ڈائریکٹر دارالنور سکول سسٹم

5/10/2022