بات مذہبی طبقے کے جرائم کی ہو
تو مشرق سے لیکر مغرب تک اسے بھرپور طریقے سے ہائی لائٹ کیا جاتا ہے !
خبر ہے کہ فرانس کے پادریوں نے دو لاکھ سے زائد بچوں سے بدفعلی کی ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا دنیا بھر میں یہ کام صرف مذہب سے وابستہ افراد ہی کرتے ہیں ؟ باقی عام لوگ کیا اس کام کے لیے “نااہل” ہیں ؟
اگر زمینی حقائق کو دیکھا جائے تو اس فعل بد میں مذہبی طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد اس تعداد کا عشر عشیر بھی نہیں جتنی عام عوام اس میں ملوث ہے ۔ لیکن آج تک کبھی ایسے اعداد و شمار پیش نہیں کیے گئے کہ فلاں ملک میں مذہبی طبقے کے علاوہ اتنے لوگوں نے اتنے بچوں سے بدفعلی کی ۔ یہ بات ضرور ہے کہ مذہبی طبقے کے افراد کو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے ان کی ذمہ داری زیادہ ہے
لیکن
ایسے معاملات میں ہمیشہ مذہبی طبقے کے لوگوں کو ہی کیوں ہائی لائٹ کیا جاتا ہے اس پر غور و فکر کی ضرورت ہے ۔ دنیا بھر میں مذہب بیزاری کی ایک باقاعدہ مہم منظم طریقے سے ایک نئے انداز میں چلائی جا رہی ہے ۔ جس کا مقصد ہی مذاہب عالم سے لوگوں کو بدظن کر کے انہیں الحاد و لادینیت کی طرف مائل کرنا ہے ۔
اور
کسی بھی عقیدے سے خالی ذہن کے لیے دجال کو خدا مان لینا کچھ زیادہ مشکل نہ ہو گا !
محمد إسحٰق قریشي ألسلطاني