” ان کو روک لیں”
آج ملک بھر میں جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم بھرپور مذہبی جوش و جذبہ کے ساتھ منایا گیا, مساجد و مدارس , محلوں ,گھروں اور عمارتوں کو برقی قمقموں سے سجایا گیا ہے اور میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محافل کا اہتمام بھی کیا گیا , اور ملک کی فضا اسلامی نعروں اور درود و سلام سے گونج گئی,پورب سے لے کر پچھم تک ,اتر سے لیکر دکھن تک ,فرش سے لے کر عرش تک , شہروں سے لے کر دیہاتوں تک خوشیوں کا ماحول تھا کیونکہ دنیا کی تاریکی کو اپنے نور مجسم سے روشنیوں میں تبدیل کرنے والے محسن انسانیت، محبوب خدا، آقائے دوجہاں، خاتم النبین والمرسلین حضرت محمد مصطفیٰﷺکی ولادت باسعادت کے موقع پر جشن منایا جاتا ہے, جو زمین پر بسنے والے تمام انسانوں کےلیے رحمت بن کر تشریف لائے,آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی ہر فرد انسانی، ہر قوم و ملک اور تمام نوع انسان کےلیے یکساں فلاح اور سلامتی ہے,آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے ملک بھر میں تمام گلی محلوں سے چھوٹے بڑے جلوس نکالے جاتے ہیں ، جن میں شریک ہر شخص کے منہ پر “سرکار کی آمد مرحبا” کا ورد جاری رہتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مشاہدہ ہے کہ ہم جس طرح چیخ و پکار کے ساتھ نعرہ لگاتے ہیں اس سے ہم غیر مہذب قوم ہونے کا ثبوت پیش کر رہے ہیں, ,جھنڈے جن پر کلمہ تشہد لکھا ہوتا ہے اس کی جانے انجانے میں بے حرمتی کرتے ہیں ,جب بریانی ,مٹھائی ,پھل اور کھانے پینے کی اشیاء تقسیم کی جاتی ہیں تو اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں ! درود شریف پڑھتے ہوئے قطار اور لائن میں چلنے کے بجائے سیلفی لینے اور تصاویر کھینچنے کے چکر میں بے ترتیب چلتے ہیں جیسا لگتا ہے کہ کبھی لائن میں نہیں لگے ہیں! اور بہت ساری باتیں ہیں جن کو روکنا جلوس کی قیادت کرنے والے علما اور ذمہ دار لوگوں کی ذمہ داری ہے۔
ورنہ یہ جذباتی نوجوان جلوس محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل بگاڑ دیں گے پھر لفظ” مروجہ” کا استعمال شروع ہوجائے گا!!!
✍محمد عباس الازہری