This post is in Urdu and English.

سوال نمبر 1: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام نے کبھی میلاد نہیں منایا تو اہل سنت اور مسلمان ایسا کیوں کرتے ہیں؟

جواب: قرآن کو ایک کتابی شکل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرتب نہیں کیا اور جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اسے مرتب کیا جائے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں وہ کام کیسے کروں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا؟ سیدنا عمرؓ نے اصرار کیا کہ یہ اچھی بات ہے اور آخر کار اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابوبکرؓ کا سینہ کھول دیا اور قران کو ایک کتابی شکل دی گئی۔ (دیکھئے صحیح بخاری نمبر 7191)

لہٰذا اس بوگس اصول کو رد کیا جاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ نہیں کیا وہ بری بدعت ہے۔ اس کے علاوہ میلاد کے لیے اصل (بنیاد) قائم ہے یعنی قرآن ہمیں 10:58 میں اللہ کی رحمت پر خوش ہونے کو کہتا ہے، قرآن 19:15 میں حضرت یحییٰ علیہ السلام کے یوم ولادت کو سلامتی کا دن قرار دیتا ہے، اس لیے وہ دن جن پر انبیاء کی ولادت ہوئی ہے وہ اللہ کی نظر میں عمدہ و سلامتی کے ایام ہیں۔ اور بھی بہت سی آیات ہیں جو ثابت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں پر بہت بڑا احسان اور رحمت ہیں (دیکھئے 3:164، 21:107)۔

احادیث سے بھی ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیر کا روزہ رکھا کیونکہ اس دن وہ پیدا ہوئے تھے (صحیح مسلم نمبر 2606 آن لائن ورژن دیکھیں)۔

سوال نمبر 2: صحابہ کرام سے میلاد منانے کے لیے اجتماع یا محفل رکھنے کی دلیل دیں۔

جواب: صحابہ کرام محفل (حلقہ) میں جمع ہوئے اللہ کی حمد و ثناء کے لیے اور اس لیے کے اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیج کر ان پر احسان عظیم فرمایا (دیکھئے سنن نسائی # 5428 صحیح سلسلہ کے ساتھ)

یہ حدیث محافل میلاد رکھنے کی اصل ہے۔

سوال نمبر 3: یہ بدعت ہے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا آپ اس کے لئے جو بھی مضبوط ثبوت فراہم کرتے رہیں۔

جواب: بدعت اچھی (حسنہ) اور بری (ضلالہ) میں تقسیم ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے خود تراویح کو 1 قاری کے پیچھے ایک بہترین بدعت کہا ہے اور وہابی انگلش مترجم محسن خان نے اسے بریکٹ میں” دینی” بدعت کے طور پر ترجمہ کیا ہے (صحیح بخاری # 2010 دیکھیں)

سوال نمبر 4: تمام بدعتیں گمراہی ہیں (نسائی #1579) اور تراویح لغوی بدعت تھی نہ کہ شرعی۔

جواب: تراویح لغوی بدعت کیسے ہو سکتی ہے؟ اس کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف 3 دن نماز پڑھی لیکن ہم مسلمان پورے رمضان میں امام کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں اور قرآن پاک کو مکمل کرتے ہیں۔ ویسے بھی امام نووی (رح) جیسے علماء نے اس حدیث کی وضاحت کی ہے کہ جس نے اچھی سنت متعارف کروائی اسے اس کا اجر ملے گا (دیکھئے سنن ابن ماجہ # 207، مسلم # 2219) کہ یہ حدیث اس حدیث کی تخصیص کرتی ہے کہ تمام بدعات گمراہی ہیں۔

اس کے علاوہ آپ کے اپنے محسن خان وہابی نے بدعات پر ایک حدیث کا ترجمہ کیا ہے:

جلد 3، کتاب 49، نمبر 861: (صحیح بخاری)

عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کوئی ایسی چیز نکالے جو ہمارے دین کے اصولوں کے موافق نہ ہو تو وہ مردود ہے۔

الحمدللہ تمام نئی اچھی بدعتیں جو اصول دین سے ہم آہنگ ہوں رد نہیں کی جائیں گی اور نہ ہی قابلِ ملامت بدعات کہلائی جائیں گی۔

سائل دم دبا کر بھاگ گیا۔

✍️ عامر ابراہیم الاشعری۔

Q: The Prophet (Peace be upon him) and Sahaba never celebrated Mawlid so why do Ahlus Sunnah and Muslims do it?

Answer: Qur’an was not compiled in one book by Prophet (Peace be upon him) and when Sayyiduna Umar (ra) told Sayyiduna Abu Bakr (ra) that it should be compiled. Sayyiduna Abu Bakr said “HOW CAN I DO SOMETHING WHICH PROPHET (PEACE BE UPON HIM) DID NOT DO?” Sayyiduna Umar insisted that It is a “GOOD THING” and finally Allah opened the chest of Sayyiduna Abu Bakr. (See Sahih Bukhari # 7191)

Hence the pseudo argument that anything Prophet (Peace be upon him) did not do is a blameworthy innovation is refuted. Plus the asl (basis) for Mawlid is established i.e. Quran tells us to rejoice on Allah’s mercy in 10:58, Quran calls the day of birth of Prophet Yahya a.s as day of Peace in 19:15 hence the days on which Prophets are born are days of tranquality in sight of Allah, and many more verses which prove that Prophet (Peace be upon him) is a great favour and Mercy on Muslims (See 3:164, 21:107) Hadiths also prove that Prophet (Peace be upon him) fasted on monday as he was born on that day (See Sahih Muslim #2606 Online version).

Q.2: Show basis for gathering to celebrate Mawlid from Sahaba!

Answer: Sahaba gathered to praise Allah for “BLESSING THEM WITH PROPHET” (See Sunnan Nasai’i # 5428 with Sahih chain)

Q.3 : It is Bidah no matter what strong proofs and basis (asl) for it you provide.

Answer: Bidah is divided into good and bad. Sayyiduna Umar r.a himself called Tarawih behind 1 Qari as an excellent innovation and Wahabi Muhsin Khan translated it as innovation IN RELIGION in the brackets (See Sahih Bukhari # 2010)

Q.4: All Bidahs are misguidance (Nasai # 1579) and Tarawih was linguistic bidah not Shari’i

Answer: How can Tarawih be linguistic Bidah? Plus Prophet (Peace be upon him) only prayed it for 3 days but we Muslims do it behind Imam throughout the month of Ramadan and complete the Quran. Anyways Scholars like Imam an Nawawi (rah) have explained the Hadith that he who introduced a good practice will get its reward (See Sunnan Ibn Majah # 207, Muslim #2219) that this hadith does Takhsis of Hadith that all innovations are evil. Plus your own Muhsin Khan Wahabi translated a hadith on innovations as:

Volume 3, Book 49, Number 861: (Sahih Bukhari)

Narrated Aisha: Allah’s Apostle said, “If somebody innovates something “WHICH IS NOT IN HARMONY WITH THE PRINCIPLES” of our religion, that thing is rejected.”

Alhamdolillah all new good innovations which are in harmony with principles of religion will not be rejected nor can be called blameworthy innovations.

Questioner runs away speechless.

Written by: Aamir Ibrahim al-Ash’ari.