*12 ربیع الاول سے کیسے فائدہ اُٹھائیں؟*

آج کا دن اس کائناتِ انسانی میں اللہ تعالٰی کی نعمت عظمٰی حضرت سیدنا محمد مصطفٰی صلی اللہ وآلہ وسلم کی تشریف آوری کی وجہ سے خوشی ‘ مسرت ‘ شادمانی اور آپ کی معرفت کے ساتھ خاص ہے. اس سے فائدہ اُٹھانے کے انتہائی مناسب اور مجرب طریقے درج ذیل ہیں..
* ….. سارا دن باوضو اور صاف ستھرا رہنے کی کوشش کریں .
*….. نماز باجماعت بمع تہجد ‘ اشراق ‘ چاشت اور اوابین ادا کریں .
*…..جتنا ممکن ہو تلاوت قرآن مجید اور بالخصوص چند مکی سورتوں مثلًا المدثر ‘المزمل’ الحجر ‘ اور ھود وغیرہ کا ترجمہ پڑھ کر اور ان پر تدبر و تفکر کی کوشش کریں .
*…. با ادب انداز میں درود و سلام کی کثرت کریں.
*…. جہاں تک مکمن ہو صدقہ و خیرات کریں.
*…. جلوس و محافل میلاد میں آداب کے ساتھ شرکت کریں .
*…. اپنے کردار پر غور کریں کہ میں اس وقت کس مقام پر کھڑا ہوں … جس سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقے مجھے یہ دنیا کی عزتیں ‘ کامیابیاں ‘ اولاد ‘ عہدہ و منصب اور مال و دولت ملا ہے کیا کوشش کر کے میں آپ کے ساتھ تعلق قائم کرنے میں کامیاب ہو سکا ہوں….؟ آج اپنا محاسبہ کرنے کا بہترین موقع ہے ‘ وقت بھی ہے ‘ ماحول بھی ہے اور اس جانب متوجہ کرنے کے ذرائع بھی ہمارے سامنے ہیں . اگر اس حوالے سے کوئی کمزوری نظر آئے تو اسے دور کرنے کی آج سے ہی کوشش شروع کر دیں…
*…. آج سے ہی ترجمہ و مختصر تفسیر کے ساتھ قرآن مجید اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت طیبہ کے ترتیب وار مطالعہ کا آغاز کر دیں’ چاہیے چند لائینیں ہی کیوں نہ ہوں .. اس کی برکت سے اگلے سال
12 ربیع الاول تک آپ اپنے اندر بہت نمایاں تبدیلی محسوس کریں گے. الحمدللہ اس فقیر کو 12 ربیع الاول اور اپنے مرشدِ کریم کے عرس پاک کے دن نے بے شمار فائدہ پہنچایا ہے. اللہ پاک جسے چاہیے اور جس بہانے سے چاہے اپنی بارگاہ سے نواز دے ..اس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں . اصل کامیابی دنیا میں دین پر عمل میں استقامت اور آخرت کے میدان میں سرفرازی ہے…
*… آج کے تمام معمولات سے فیض حاصل کرنے اور اللہ پاک کی بارگاہ میں ان کی قبولیت کی وسیلہ یہ ہے کہ اس سارے دورانیے میں ہمارا تصور کریم آقا علیہ السلام کے ساتھ جڑا رہے اور آپ کی محبت سے قلب معمور رہے . یہی خیال رہے کہ میرے سارے کاموں کو آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں. یہی تصورِ محبوب کامیابی کی کنجی ہے. وصال اقدس کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کو مضبوطی سے تھامے رکھا ہے.
حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہم جب مسجد نبوی شریف میں حاضر ہوتے تو اسی تصور کے ساتھ منبر اقدس کو چومتے تھے .
جن راستوں سے کبھی محبوب گزرے تھے انہی سے گذرنے کی کوشش کرتے تھے . امام ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے:
وکان يتبع آثاره في کل مسجد صلي فيه وکان يعترض براحلته في طريق رأي رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم عرض ناقته وکان لا يترک الحج وکان إذا وقف بعرفة يقف في الموقف الذي وقف فيه رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم.
“اتباعِ سنت میں جس جس جگہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازیں پڑھی ہوتیں وہیں پہ سجدہ ریز ہوتے۔ سفر کیلئے وہ راستے اختیار کرتے جن پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سفر کیا ہوتا اور ہر سال حج ادا کرتے اور وقوفِ عرفہ کے وقت اس جگہ ٹھہرتے جس جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیام فرمایا ہوتا”۔
((عسقلاني، ابن حجر ‘ امام ‘ الاصابه، جلد4 صفحہ 186))
جن درختوں کے سائے میں کبھی محبوب بیٹھے تھے وہ انہیں پانی دیا کرتے تھے تا کہ وہ ذیادہ عرصے تک ہرے بھرے رہ کر عاشقوں کے دلوں کو ٹھنڈا کرتے رہیں .
آپ کے ہم عصر کہتے ہیں کہ جب بھی وہ محبوب کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کرتے تو فرطِ محبت سے ان کی آنکھوں میں آنسو رواں ہو جاتے تھے …
ما ذکر ابن عمر رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم إلا بکی.
((بيهقي، المدخل الي السنن الکبري، جلد1 ‘ صفحہ 148، رقم :2113))
*…. آخری بات یہ کہ مقاصدِ میلاد کی تکیمل کے لیے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان کبھی بھی ہماری آنکھوں سے اوجھل نہیں ہونا چاہیے:
لَایُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی یَکُوْنَ ھَوَاہُ تَبْعًا لِّمَا جِئْتُ بِہٖ.
“تم میں سے کوئی بھی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک اس کی خواہشات میری لائی ہوئی شرہعت کے تابع نہ ہو جائیں”.
((تبریزی ‘ ولی الدین ‘امام ‘ مشکٰوۃ المصابیح ‘ باب : اعتصام بالکتاب والسنۃ ‘ رقم الحدیث:164))
آج فجر کے بعد حافظ محمد ندیم گوندل صاحب کی دعوت پر جامع مسجد مکی مدنی گوندل شریف گجرات میں
درسِ میلاد کے سلسلے میں کی گئی گفتگو کی ترتیب و تہذیب……
راقم : حافظ محمد تنویر قادری وٹالوی
09.10.2022
12 ربیع الاول شریف 1444 ہجری