نیک اعمال کا ثواب بارگاہ رسالت میں پیش کرنا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مفسر قرآن مولانا نبی بخش حلوائی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: “بعض لوگ نیک اعمال کا ثواب پہنچانا بے ادبی خیال کرتے ہیں، ان کا یہ خیال غلط ہے۔ اگرچہ ہمارے ناقص اعمال کی حضور ﷺ کی بارگاہ میں کوئی ضرورت نہیں ہے لیکن حضور ﷺ کی عادت کریمہ ہے کہ جو بھی ہدیہ پیش کیا جائے، خواہ قیمتی ہو یا حقیر، آپ ﷺ قبول فرما لیا کرتے ہیں۔ ہمارے ناقص اعمال جب بارگاہ رسالت میں پہنچتے ہیں تو وہ بلند و کامل ہو جاتے ہیں۔ ہدیہ بھیجنے والے کی حیثیت نہیں دیکھی جاتی اور نہ اس کے تحفے کی قدروقیمت کو پرکھا جاتا ہے (بلکہ) ہدیہ دینے والے کے خلوص و محبت کی قدر ہوتی ہے خواہ ایسا تحفہ ناقص ہی کیوں نہ ہو مگر ہدیہ قبول کرنے والے کی نگاہ اسے بلند رُتبہ دے دیتی ہے۔ ایک ناقص تحفہ پر جب سیّد الابرار جناب محمد رسول اللہ ﷺ کی نگاہ التفات پڑ گئی تو وہ پاک، گراں قدر اور لطیف ہو جاتا ہے۔ ھل جزاء الاحسان الا الاحسان۔۔۔۔ ایسے ہی درود پاک کا تحفہ جب بارگاہ نبوت میں پیش کیا جاتا ہے تو اس کا ثواب و اجر آپ ﷺ عطا فرماتے ہیں، اس لیے ہمیں ہر قسم کی عبادت کا ثواب بارگاہِ نبوت میں پیش کرنا چاہیے، ایسی عبادات حضور ﷺ کی بارگاہ میں نورانی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔”

تنبیہ:

اگر تحفہ بھیجنے والا یہ محسوس کرے کہ میرا تحفہ بہت اعلی اور اچھا ہے تو اس احساس کو اہل حقیقت نے خالی از خطرہ قرار نہیں دیا۔ تحفہ بھیجتے وقت انکساری، عاجزی اور خلوص کی ضرورت ہے، اگر حضور ﷺ کی نظر کرم نے قبول فرما لیا تو اپنا ستارہ چمک اُٹھا۔
(شفاء القلوب، ص ۱۲۹ تا ۱۳۰ مترجم، مطبوعہ مکتبہ نبویہ، لاہور ۲۰۰۷ء)