پرویز الہی اور “کرین” والا شہزادہ خادم

2018 میں “کرین پارٹی” کو پیشکش کی گئی کہ آپ بتائیے کہ آپ کو کون کون سی وزارت چاہیئے اور آپ کو کون کون سے حلقے چاہیئے بس آپ نے ان وزارتوں اور سیٹوں کے عوض عمران خان اور پی ٹی آئی کے ساتھ مل کر حکومت بنانی ہوگی

لیکن وہیل چیئر والے بابے نے ایسی حکومت بنانے سے “انکار” کردیا

اور اس طرح 23 لاکھ ووٹ لینے کے باوجود کرین پارٹی کو دھاندلی کرکے قومی اسمبلی سے باہر رکھا گیا ( کرین پارٹی کو پڑنے والے ووٹوں کی تعداد تو کہیں زیادہ تھی، 23 لاکھ ووٹ تو منظم دھاندلی کے بعد سرکاری ریکارڈ میں ظاہر کیے گئے)

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ 2018 کے الیکشن میں صوبہ پنجاب میں “کرین پارٹی” نے تحریک انصاف، قاف لیگ، پیپلزپارٹی، ایم ایم اے وغیرہ سے زیادہ امیدوار نامزد کیے تھے (اور ووٹ بھی کم نہیں لیے تھے)

یہ ساری باتیں بتانے کا مقصد یہ ہے کہ
آج (ن) لیگ، پیپلزپارٹی، پی ڈی ایم، تحریک انصاف، قاف لیگ وغیرہ سب کے سب ہی اسٹبلشمنٹ کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں

اسٹبلشمنٹ کبھی کس پارٹی کی بیٹری چارج کرتی ہے تو کبھی کس پارٹی کی۔۔۔۔۔؟؟

لیکن کم از کم یہ تو ثابت ہوا کہ “کرین پارٹی” اسٹبلشمنٹ کو “انکار” کیے بیٹھی ہے

اور یہ “جرأت انکار” ہی تو کرین پارٹی کا اصل اثاثہ ہے

آ سیہ بی بی کی رہائی کے وقت بھی خوب لالچ دیئے گئے لیکن “دیوانوں” نے “انکار” ہی کیا

آپ بتائیے ہمارے ملک پر مسلط اسٹبلشمنٹ کو “انکار” سننے کی عادت کہاں ہے؟

اور پھر اس “انکار” کی وجہ سے وہیل چیئر والے بابے سمیت مکمل شوری، ملک بھر میں تمام ذمہ داران اور ہزاروں کارکنان کو ایک رات میں گرفتار کرکے بھیڑ بکریوں کی طرح جیلوں میں ٹھونسا گیا، جیلوں میں تشدد سے 90 سالہ بےگناہ بزرگ شیخ الحدیث مفتی یوسف سلطانی شہید ہوئے، 70 سالہ شیخ الحدیث قاضی منیر نعمانی شہید ہوئے، شوگر، زخموں اور پولیس تشدد کی وجہ قید کے دوران ان کی ٹانگیں کاٹنا پڑیں اور بعد ازاں وہ شہید کردیئے گئے اناللہ وانا الیہ راجعون

یہ سب صعوبتیں “انکار” کی وجہ سے ہی تو تھیں

ڈاکٹر شفیق امینی صاحب کئی بار کہہ چکے ہیں، بلکہ ہر چوتھی تقریر میں دعوی کرتے ہیں کہ سینیٹ الیکشن کے دوران فیصل واوڈا صاحب ان سے ملاقات کے لیے آئے اور دوبارہ یہ پیشکش کی کہ آئندہ الیکشن مل کر لڑیں گے، اپنے حلقے اور وزارتیں بتادو۔۔۔۔ ہم آپ کو مساجد مدارس مراکز کی تعمیر کے لیے تمام وسائل دیں گے، ہم آپ کو وزارتیں دیں گے، مال و دولت دیں گے، سہولیات دیں گے وغیرہ وغیرہ بس شرط یہ ہے کہ آپ فرانس والے ایشو سے پیچھے ہٹ جاؤ اور اپنا سینیٹر منتخب کرالو۔۔۔ “کرین پارٹی” نے نقد “سینیٹر شپ” پر لات مار کر اسٹبلشمنٹ کو “انکار” کیا

اور یہ “جرأت انکار” ہی تو “کرین پارٹی” کا اصل سرمایہ ہے

اور اسٹبلشمنٹ کو “انکار” سننے کی عادت کہاں ہے؟ اسٹبلشمنٹ “انکار” کو برداشت کہاں کرتی ہے؟

اس انکار کی وجہ سے ایک بار پھر گرفتاریاں ہوئیں، مسجد کے صحن انسانی لہو سے سرخ ہوئے، پہلے والد کے زمانے میں (2018 میں) چھ مہینوں کی جیل تھی، اب بیٹے کے وقت میں (2021 میں) سات مہینوں کی جیل تھی

رمضان کے مہینے میں روزے کی حالت میں کارکنان پولیس کی فائرنگ اور تشدد سے شہید ہوئے، ہزاروں کارکنان پھر گرفتار ہوئے، شوری کے اہم اراکین پھر جیلوں میں قید کردیئے گئے

وجہ صرف یہ تھی کہ اس بار بھی اسٹبلشمنٹ کو “انکار” کیا گیا تھا (اور یہ “جرأت انکار” ہی تو “کرین پارٹی” کا اصل سرمایہ ہے)

ربیع الاول میں (گرفتاری کے سات ماہ بعد) پھر عوام ظلم و ستم کے خلاف باہر نکلی

اور اس بار لاہور سے فیض آباد مارچ کا اعلان کیا گیا، اس مارچ پر صرف لاہور کی حدود سے باہر نکلنے کے پہلے پہلے چار مقامات پر پولیس نے حملے کیے، وزیر آباد پہنچنے تک آٹھ بار پولیس اور رینجرز حملہ کرچکی تھی، ہیلی کاپٹرز سے فائرنگ کی گئی، ایکسپائرڈ شیل پھینکے گئے، تیزاب پھینکا گیا، درجنوں لوگ معذور ہوئے، 44 عاشقان رسول شہید ہوئے، اب کی بار تو شہزادہ خادم کے “جعلی خط” بھی میڈیا پر نشر کیے گئے، شہزادے کا ریکارڈ ہے کہ ان کا کبھی ٹریفک سگنل توڑنے کا چالان نہیں ہوا، لیکن اس بار بغاوت، دہشت گردی، غداری وغیرہ کے 98 مقدمات ان پر قائم کیے گئے

یہ امیر محترم پر 98 مقدمات اور ہر ذمہ دار پر چار، چھ، آٹھ، دس مقدمے کیوں قائم ہوئے؟

وجہ یہ تھی کہ اس بار بھی اسٹبلشمنٹ کو “انکار” کیا گیا تھا
اور یہ “جرأت انکار” ہی تو “کرین پارٹی” کا اصل سرمایہ ہے

سختی اس قدر تھی کہ جنرل حمید گل کے بیٹے عبداللہ گل نے شہزادے کی حمایت میں ایک بیان دیا تو عبداللہ گل کو بھی دہشت گردی کے مقدمے میں نامزد کردیا گیا

شیخ رشید نے “کرین پارٹی” کے ساتھ اتحاد کی خواہش بلکہ عزم کا اظہار کیا۔۔۔۔۔ جواب میں “انکار”

اعجاز چوہدری گلدستہ لے کر امیر محترم سے ملنے آیا۔۔۔۔ جواب میں “انکار”

اسٹبلشمنٹ نے پھر کیسٹ تبدیل کرکے شاہد خاقان عباسی، سعد رفیق، کیپٹن صفدر عباسی وغیرہ کے ذریعے “لو لیٹر” بھجوائے۔۔۔۔ جواب میں “انکار”

اب اسٹبلشمنٹ بھی کہاں ہار مانتی ہے، زرداری کے ذریعے ناصر حسین شاہ کو لاہور کے چوک یتیم خانے بھیجا گیا۔۔۔ جواب میں “انکار”

کہنے کو تو شہزادہ چھبیس ستائیس سال کا نوجوان ہے لیکن اس کے سیاسی شعور کی داد دیں کہ وہ کہتا ہے کہ اسٹبلشمنٹ کی نہ دوستی اچھی نہ دشمنی۔۔۔

ہماری ان (اسٹبلشمنٹ) کے ساتھ سیٹنگ نہیں ہوسکتی، ہم جب بھی اقتدار میں آئیں گے اپنی شرطوں پر آئیں گے اور عوام کی طاقت سے آئیں گے

اور ویسے بھی پاکستان میں پانچ چھ سو ووٹ لے کر ایم پی اے بننے والا عبدالقدوس بزنجو وزیر اعلی بلوچستان بن سکتا ہے تو 23 لاکھ ووٹ لینے والا کیا کچھ نہیں بن سکتا؟؟

یہاں ایک سیٹ لینے والے پھٹکاری شیخ رشید کو وفاقی وزارت داخلہ مل سکتی ہے تو ملک کی چوتھی بڑی سیاسی جماعت کو کیا کچھ مل سکتا ہے؟

یہاں دس ایم پی اے رکھنے والے “پنجاب کے سب سے بڑے ڈاکو” پرویز الہی کو آدھے پاکستان یعنی پنجاب کی وزارت اعلی مل سکتی ہے تو “کرین پارٹی” کو کیا کچھ مل سکتا تھا؟

بس میرے لہجے میں جی حضور نہ تھا
اس کے سوا میرا کوئی قصور نہ تھا

اگر پل بھر کو بھی میں بےضمیر ہوجاتا
یقین مانیئے کب کا امیر ہوجاتا

ترقی کی فصلیں ہم بھی کاٹ لیتے
تھوڑے سے تلوے اگر چاٹ لیتے
تحریر محمد عماد گھانچی
Muhammad Ammad Ghanchi