کتابوں میں آنے والا خرچ

کتابوں کے نام پر جب ہم عوام اہل سنت سے پیسے مانگتے ہیں تو شاید اُنھیں لگتا ہے کہ اس کام میں زیادہ خرچ نہیں آتا جو کہ ان کی غلط فہمی ہے۔
ایک کتاب کتنے مرحلوں سے ہوکر گزرتی ہے اور اس پر کہاں کہاں کتنا خرچ آتا ہے اس تفصیل میں نہ جا کر فی الحال ہم آپ کو بس کتاب کے کور فرنٹ پیج کا ہی خرچ بتا دیتے ہیں جس سے آپ اندازہ لگا سکیں گے کہ پوری کتاب میں کتنا خرچ آتا ہے۔

صرف ایک کور بنانے کا چارج انڈین کرنسی کے حساب سے 5000 ہے، ہو سکتا ہے کہ یہ جان کر کچھ لوگوں کو بڑی حیرانی ہو اور انھیں اس میں ایک زیرو (Zero) زیادہ لگے تو پھر جب ہم انھیں ایک لوگو (Logo) بنانے کا چارج بتائیں گے تو دو زیروز (Zeroes) زیادہ نظر آئیں گے لہٰذا وہ نہ بتا کر اسی ایک زیرو والے پر ہی تھوڑی بات کر لیتے ہیں۔

اگر ایک زیرو ہٹا دیں تو بھی کام ہو ہی جاتا ہے لیکن وہ کام کیسا ہوتا ہے اس کو تھوڑا ہماری زبانی سن لیجیے، گوگل سے تصویریں اور پی این جی فائلیں اور پھول پتی اٹھا کر اسے بنا کسی طریقے کے آپس میں ملا کر ایک کور بنا دیا جاتا ہے اور زیادہ خوبصورت بنانا ہو تو ایک قلم اور دوات پرانے زمانے والا کہیں بھی شامل کر دیا جاتا ہے جس سے مصنف سے لے کر ناشر تک خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے لیکن فارمل ڈیزائننگ کس چڑیا کا نام ہے یہ ابھی اس طبقے کو پتا ہی نہیں۔ کوئی بھی بندہ خود کو ڈیزائنر کہہ کر کاریگری شروع کر دیتا ہے جس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ عوام پر کتاب کا تاثر اچھا نہیں جاتا اور اچھی کتابوں کا بھی یہ لوگ ستیاناس کر دیتے ہیں۔ یہ بڑی بات ہے جس کی وجہ سے دینی کتابوں سے عوام دور ہوئی ہے ورنہ کتابیں تو آج بھی بہت پڑھی جا رہی ہیں۔

ہم نے جس انداز میں کتابوں کو شائع کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے یہ زمانے کے تقاضوں کے مطابق ہے جس سے نہ صرف کتابیں شائع ہورہی ہیں بلکہ لوگوں میں کتابیں پڑھنے کا ذوق بھی پیدا ہو رہا ہے۔

باتیں تو اور بھی کہنے کے لیے بہت ہیں پر واپس ایک زیرو کی طرف آتے ہیں۔
اچھی ڈیزائننگ کروانے کے لیے یہ چارج جو ہم نے بتایا وہ درمیانہ ہے، بہت زیادہ نہیں ورنہ اس سے زیادہ پیسے لگتے ہیں تو اب ہم اس کا آدھا ہی مان لیتے ہیں کہ ایک کور میں صرف 2500 سو تو اگر مہینے میں دس کتابیں شائع ہوتی ہے تو 25000 ہزار صرف اس کا خرچ اور عوام اہلسنت اس کام کے لیے کتنے پیسے دیتی ہے وہ بتانا شاید شرمناک ہو لہٰذا پردے میں بھلائی ہے۔

ابھی بھی وقت ہے جاگیں، اپنے پیسوں کو جلسوں میں نہ لگائیں، جلوس میں برباد نہ کریں، وقت کا تقاضا کچھ اور ہے، حالات الگ ہیں، سمجھیں اور سمجھائیں، فاتحہ درگاہ عرس قوالی سب ترجیحات کے خلاف ہیں، اصل تعمیری کاموں کو سمجھیں اور ان میں پیسے خرچ کریں، ورنہ جہالت بڑھتی ہی جائے گی اور یہی سب سے بڑی بیماری ہے۔

عبد مصطفیٰ آفیشل