تبرکات کا مذموم کاروبار
از: افتخار الحسن رضوی
حالیہ دنوں میں ہند و پاک کے مسلمانوں میں تبرکات کا کلچر بہت عام ہوا ہے۔ متعدد خانقاہیں، علماء اور بعض پیر حضرات اس بزنس میں بڑھ چڑھ کر شریک ہیں۔ مثلا نبی کریم ﷺ کے “بال مبارک”، نعلین شریفین، عصا مبارک، قبرِ رسول ﷺ کی خاک، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی تلوار، امام حسین رضی اللہ عنہ کی دستار و عمامہ ، سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی علیہ الرحمہ کی پگڑی وغیرہ وغیرہ۔ یہ سلسلہ طویل ہے اور ایسے عجیب و غریب تبرکات بتائے جاتے ہیں کہ بندہ حیرت کی وادیوں میں گم ہو جاتا ہے۔
یہ حقیقت اچھی طرح سے سمجھ لیں کہ کل کائنات میں فقط اسطنبول (ترکی) میں موجود بعض تبرکات ایسے ہیں جن کی سند باقاعدہ محفوظ ہے، اس کے علاوہ دنیا بھر میں موجود تبرکات مشکوک ہیں۔ عرب کے خزرجی قبائل کے پاس کچھ تبرکات ہیں، انہی دو مقامات سے تبرکات بعض مواقع پر دنیا کے دیگر ممالک میں لے جائے جاتے ہیں اور زیارت کے بعد واپس محفوظ کر لیے جاتے ہیں۔ یہ معاملہ سنگین اور حساس ہے کہ کسی ایسی چیز کو رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کر دیا جائے جس کا تعلق حقیقت میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ نہیں ہے۔ امام بخاری علیہ الرحمہ نے اپنی صحیح میں ایک روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا؛
”میرے اوپر جھوٹ بولنا کسی عام شخص پر جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے، جو شخص جان بوجھ کر میری جانب جھوٹی بات منسوب کرے تو اس کو چاہیے کہ اپنا ٹھکانہ جہنم بنالے“۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ رسول کریم ﷺ کے موئے مبارک صحابہ کرام علیہم الرضوان نے جمع فرمائے اور وہ بعد میں آنے والے لوگوں تک پہنچے، لیکن جس کثرت سے یہ بال ہند و پاک میں اب نظر آنے لگے ہیں یہ خلاف حقیقت ہے۔ یہ بات بھی حیران کن ہے کہ یہ تبرکات صرف ہند و پاک یا دنیا کے دیگر ممالک میں رہنے والے ہندوستانیوں اور پاکستانیوں ہی کے پاس ہوتے ہیں۔ اہل عرب اور افریقی مسلمان ان سے واقف نہیں یعنی جہالت کے اکثر مراکز ہند و پاک ہی میں واقع ہیں۔
نبی کریم ﷺ کی قبر شریف تک دنیا کے کسی حاکم بشمول سعودی حکام کی رسائی نہیں، تو پھر قبر رسول ﷺ کی مبارک خاک کا لوگوں تک پہنچنا کیسے ممکن ہے؟ روضہ شریفہ کے اندر خاک کا جمع ہونا ہی مشکل ہے، اس قدر صفائی کا انتظام، جالیاں، کنکریٹ کی دیواریں، اعلٰی دھاتی مواد کی حفاظی تہیں موجود ہوں تو وہاں تک خاک کیسے پہنچتی ہے؟
سیدنا علی کی ایک تلوار، یہ اتنے سارے لوگوں کے پاس کیسے پہنچی؟ سیدنا امام حسین پاک کا عمامہ شریف ؟؟؟ سر مبارک کے مقام تدفین پر اختلاف ہے اور یزیدی ملعونین نے جسمِ مبارک تو زخموں سے چور چور کر دیا تھا تو پگڑی کیسے بچا کر محفوظ کر لی گئی؟ اور اگر بچ بھی گئی تو اس قدر پگڑیاں تھیں کہ وہ دنیا کے مختلف مقامات پر پہنچا دی گئیں؟
تبرکات کا یہ بزنس کرنے والا طبقہ زمزم اور آب شفاء کے نام پر بھی عقیدتیں بٹورتا ہے۔ مثلا لوگوں کو بیوقوف بناتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ہمارے پاس ایک سو اکیس پانیوں کا مجموعہ ہے، جس میں رسول اللہ ﷺ کا لعاب مبارک شامل ہے۔ استغفر اللہ العظیم۔ سب سے بڑی شفاء زمزم کے پانی میں ہے، اس کے علاوہ دنیا میں کوئی بھی آب شفاء نہیں ہے۔ مدینہ سے بدر کے راستے پر واقع “بئر روحہ” معروف کنواں ہے، لیکن یہ بالکل بھی ثابت نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مصطفٰی جانِ رحمت ﷺ نے اس کنویں میں اپنا مبارک لعاب شامل فرمایا ہو۔ لہٰذا یہ من گھڑت روایت ہے۔
اسی طرح قبر رسول ﷺ پر موجود چادر اور غلافِ کعبہ کے تبرک بھی بیچے جاتے ہیں بلکہ غلافِ کعبہ کے دو دو دھاگے بیچے جاتے ہیں۔ یاد رکھیں اگر آپ کے اعمال و أفعال اور عقائد صالح و سلامت نہیں تو آپ زم زم کے کنویں میں بھی ڈبکیاں لگا لیں، اور کعبے کے اندر ہی داخل ہو کر رہنا شروع کر دیں، کچھ حاصل نہیں۔ اسلام میں بخشش اور حصول جنت کے کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے۔
ہند و پاک کے لوگ مذہبی عقیدت میں اندھے ہو جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ مولوی اور پیر کی داڑھی اور پگڑی دیکھ کر دھوکے میں آ جاتے ہیں اور فورا عقیدت میں اندھے ہو جاتے ہیں۔ ہر وہ چیز جس کی نسبت رسول اللہ ﷺ سے کی جائے، اس کی مکمل تفتیش کریں، جب تک اس کی اصل سند اور صحت ثابت نہ ہو جائے ، ہرگز یقین نہ کریں۔ یہ خود ساختہ میڈ ان انڈیا اینڈ پاکستان تبرکات ہمیں نہ جنت میں لے جا سکتے ہیں، نہ ہمیں جہنم سے بچا سکتے ہیں، اپنے اعمال اچھے کریں اور قرآن و سنت کی اتباع کرتے ہوئے اللہ تعالٰی اور رسول اللہ ﷺ کا قرب حاصل کریں۔ اپنی عقیدت کسی کے ہاتھ مت بیچیں، ورنہ اسی اندھی عقیدت ہی کی وجہ سے ہند و پاک میں کئی مزارات میں گدھے اور کتے مدفون ہیں، اور بعض مزارات میں ہند و اور بھنگی چرسی مدفون ہیں۔
کتبہ: افتخار الحسن رضوی
۲ دسمبر ۲۰۲۰