گولی!

گولی کا سن اور دیکھ کر مجھے کوئی دکھ نہیں ہوا،

نہ ہی کوئی بھاشن ذہن میں امنڈا حتی کہ مذمتی جوں بھی کان پر نہیں رینگی…

گولی اگر آر پار بھی ہو جاتی تو مجھے گھنٹا فرق نہیں پڑنا تھا….

کیونکہ یہ وہ ملک ہے جہاں روزانہ ظلما قتل ہوتے، گولیاں چلتی ہیں، بچے محفوظ ہیں نہ بوڑھے، نہ مرد اور نہ ہی عورتیں..

ظالمانہ نظام شریف لوگوں کی زندگیوں کو جہنم بنائے ہوئے ہے لیکن مجال ہے کہ اس ملک کے حکمرانوں کو کبھی غیرت چھو کر گزری ہو. یا قوم و ملت کی اجتماعی غیرت نے انگڑائی لی ہو…

ہاں انہی احمقوں میں سے کسی کے ساتھ کوئی واقعہ ہو جائے تو جناب پورے ملک کی ہمدردیاں جاگ جاتی ہیں.
او جی

جو بھی ہے جی لیکن ایسا نہیں ہونا چاہیے!

وغیرہ وغیرہ.

ارے بڑے میاں! ایسا تو کسی کے ساتھ نہیں ہونا چاہیے…. آخر ان فرعونوں کے لیے اجتماعی درد کیوں؟

انسانیت کے اتنے ہمدرد ہیں تو ظالموں کی بجائے مظلموں کے لیے ہمدرد بنیے!

اسی ہنگامے میں ایک باپ کو گولی لگی اور وہ مر گیا!

اس کو انصاف ملے گا؟

قصور وار کو سزا ملے گی؟

یتیم بچوں کی کفالت کوئی کرے گا؟

آئندہ ایسی لاپرواہیوں کی روک تھام ہو گی؟

اجتماعی درد میں ان مسکینوں کو شامل کیا جائے گا؟

اگر نہیں تو غیرت اور ہمدردی کا قبلہ درست کیجیے

شکریہ

فرحان رفیق قادری عفی عنہ