تدبر قرآن: سورة طہ آیات 53 – 55

(خورشید احمد سعیدی، اسلام آباد، 11۔12 نومبر 2022,)

آج رات بستر پر دراز ہوتے وقت میرا ذہن سورۃ طہ کی آیت 55 کی طرف متوجہ ہوا۔ اپنے موبائل میں انسٹال کردہ قرآن مجید کی ایپ کھولی اور اس آیت کے دربار گُہر بار میں حاضر ہو گیا۔ اُس کے الفاظ کو پڑھنا اور اُن پر غور شروع کیا تو خیال اس سے پہلی دو آیتوں یعنی 53 اور 54 کی طرف چلا گیا۔ جب تینوں کو ملا کر پڑھا تو فہم کے بادلوں میں بجلیاں چمکنے لگیں۔

میری نگاہیں اِن کے اَسماء، اَفعال، حُروف اور ضمائر کے انتخابِ ربانی، ان میں واحد جمع اور مذکر و مؤنث کے استعمال، اَسمائے موصولہ، اَسمائے اِشارات، اَفعال کا ثلاثی مجرد اور مزید فیہ ہونا، اَفعال کے مفعولوں کی تعداد، اَفعال کے زمانہ ماضی، حال اور مستقبل ہونا، اَفعال کا ماضی، مضارع، اَمر ہونا، ان اَفعال کے صیغوں کا غائب، حاضر اور متکلم ہونا، مخلوقات میں سے انسان کے علاوہ حیوانات، نباتات اور جمادات کا ذکر، اَرض و سماء اور فوق الارض کے ساتھ ساتھ ما فی الارض حیات و ممات و حرکات و سکنات کا تذکرہ، اِن کے الفاظ میں رُباعیات یا خُماسیات کی تراکیب لانے، ترتیب اور جملوں کی ساخت اور ترکیب پر ٹکنے لگیں۔

میری محدود عقل اور کمزور شعور اِن آیات میں رفعتِ فکر، بیان کے اُتار چڑھاؤ، انسان کی زندگی کے لیے ان میں پیغام ربانی وغیرہ کے نور سے خیرات کے گدا گر بننے لگے۔ مزید برآں مجھ جیسے ایک معمولی استاد کو اپنے طلبہ کے لیے تدریس کا بہترین منہج اور دلکش اُسلوب بھی ان تین آیات میں نظر آنے لگے کہ تدریسی خطاب کو چھوٹی بات سے شروع کر کے اسے پھیلاتے کیسے ہیں؟ لیکچر کے نکات کی فکری اور مشاہداتی ترتیب کیسے بنائی جائے۔

میرے قلب و وِجدان کی بصیرت کو ان کے پیغام میں پنہاں رب رحیم کی بے پایاں رحمت؛ انسان کی اِقامت و سفر کی سہولتیں؛ انسان کے لیے حیوانات، نباتات اور جمادات کی تخلیق؛ اَفراد اور جوڑوں کے جسمانی، رُوحانی، علمی، اور فکری رزق کی فراہمی کا نظام؛ مخلوقات کی تخلیق کے بعد اُن کا اجتماع، اِفتراق، موت اور بعث بعد الموت؛ دُنیا، بزرخ اور آخرت کے امور کی ترتیب؛ صانع کی صنّاعی، خالق کی قدرتِ تخلیق، رازق کی رزّاقیت، رب کی ربوبیت، قادر کی قدرت، پروردگار کی رعایت، معید کا اِعادہ، مُخرِج کا طریقۂ اِخراج، مالک کی عظمت، اور معرفت ربانی کی نشانیوں کے نجوم و کواکب نظر آنے لگے۔ کیا ہی صفات و افعال الہی کا حسین سنگم ہیں یہ آیات۔
سبحان اللہ و بحمدہ سبحان اللہ العظیم.

آپ بھی ان آیات پر غور و فکر اور تدبّر و تفقّہ کیجیے تاکہ ترنّمِ اصوات، تحرّکِ عقل و تبحّر علم، تزکیہ نفس و تصفیۂ قلب، تیَقّن اِدراک اور تمکّن کردار کی نعمتیں حاصل کر سکیں۔

ارشاد ربّانی ہے:
﴿الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ مَهْدًا وَسَلَكَ لَكُمْ فِيهَا سُبُلًا وَأَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِنْ نَبَاتٍ شَتَّى (53) كُلُوا وَارْعَوْا أَنْعَامَكُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِأُولِي النُّهَى (54) مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى﴾ (سورة طه)
ترجمہ: وہی ہے جس نے زمین کو تمہارے رہنے کی جگہ بنایا اور اس میں تمہارے (سفر کرنے کے) لئے راستے بنائے اور آسمان کی جانب سے پانی اتارا، پھر ہم نے اس (پانی) کے ذریعے (زمین سے) انواع و اقسام کی نباتات کے جوڑے نکال دیئے۔ تم کھاؤ اور اپنے مویشیوں کو چراؤ، بیشک اس میں دانش مندوں کے لئے نشانیاں ہیں۔ (زمین کی) اسی (مٹی) سے ہم نے تمہیں پیدا کیا اور اسی میں ہم تمہیں لوٹائیں گے اور اسی سے ہم تمہیں دوسری مرتبہ (پھر) نکالیں گے۔

آیات کا تاریخی سیاق اور دعوتی اُسلوب:

ان تین آیات سے ما قبل اور ما بعد کی آیات کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے پہلے اور ابتدائی مخاطَبین فرعون، اس کے درباری اور اس کی قوم تھے۔ یہ چونکہ وجود ِاِلہ العالمین کے منکر تھے اس لیے اَن کے سامنے وہ دلائل پیش کیے گئے جو اُن کی علمی کیفیات، معاشی اَحوال، فکری خیالات، اَرضی و سَماوی مُشاہدات اور منطقی ترتیبات کو جھنجوڑتے ہیں۔ ان آیات کے مُخاطَبین ما بعد کے زمانوں میں پیدا ہونے والے منکرین اور مُلحدین بھی ہیں۔ اِس لیے اس کلام کو سید الانبیاء و الرسل پر نازل کیے گئے قرآن مجید کا بھی حصہ بنا دیا گیا۔

تینوں آیات کی بناوٹ، بنیادی موضوعات، معانی کے جہان اور ہدایت کے مناہج:

آیت نمبر 53: الذی اسم موصول مبہمات میں سے ہے۔ اس ذات کو جاننا، پہچاننا اور اس کا عرفان حاصل کرنا ہے تو اس کے افعال اور انسان کے فائدے کے لیے پیدا کردہ اس کی نعمتیں موضوعِ غور و فکر ہیں۔ اس غرض کے لیے ذیل کے اُمور بیان کیے۔

1. جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ مَهْدًا، چار کلمات ہیں، ثلاثی مجرد کے فعل ماضی جعل کو جار مجرور کے بعد دو مفعول دیے۔ دوسرا مفعول مہد واحد ہے۔ اس میں انسان کے آرام و سکون کا بیان ہے۔

2. وَسَلَكَ لَكُمْ فِيهَا سُبُلًا، حرف عطف واؤ کے بعد چار کلمات ہیں، ثلاثی مجرد کے فعل ماضی سَلَكَ کو جار مجرور کے بعد ایک مفعول سُبُلًا منصوب دیا لیکن وہ جمع ہے سبیل کی۔ اس میں انسان کی حرکات، اسفار اور ایک جگہ سے دوسرے جگہ منتقل ہونے کی سہولتوں کا بیان ہے۔

ان دو رُباعیات (چار چار الفاظ کی ترکیب) میں لکم سے انسان کو حاصل ہونے والے براہِ راست عام فائدے بیان کیے ہیں۔

3. وَأَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً، حرف عطف واؤ کے بعد چار کلمات ہیں۔ ثلاثی مزید فیہ کے فعل ماضی أَنْزَلَ کو جار مجرور کے بعد ایک مفعول منصوب دیا۔ یہ مفعول واحد ہے۔

4. فَأَخْرَجْنَا بِهِ أَزْوَاجًا (مِنْ نَبَاتٍ شَتَّى)، یہاں واؤ کی بجائے فاء کلمہ ہے کیونکہ آیت کا اختتام اور نکتہ خاص ہے۔ یہاں اگر چہ ثلاثی مزید فیہ کا فعل ماضی أَخْرَجْنَا ہے لیکن یہ جمع متکلم کا صیغہ ہے، اس کا مفعول ایک ہے لیکن وہ أَزْوَاجًا جمع ہے۔ ازواج کو انسان سے نہیں بلکہ انواع و اقسام کے پودوں کے جوڑوں سے تعلق ہے۔

اس آیت کے پہلے دو اجزاء میں براہ راست انسان پر کی گئی نعمتوں کا ذکر ہے۔ دوسرے دو اجزاء میں انسان پر بالواسطہ کی گئی نعمتوں یعنی پانی اور متنوع نباتات کے جوڑوں کا ذکر ہے۔

آیت نمبر 54:

5. كُلُوا وَارْعَوْا أَنْعَامَكُمْ، دو فعل امر سے انسان کو اپنی غذا کا اہتمام کرنے اور مویشی پالنے گلہ بانی کا حکم دیا۔

6. إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِأُولِي النُّهَى، آیت کے اس دوسرے حصے میں جانوروں کے ساتھ جڑے نظام غذا اور خوراک کے متعلق فرمایا کہ اپنی زندگی کو کھانے پینے اور گلہ بانی تک محدود نہیں رکھنا بلکہ اس سب مذکور میں رب کے عرفان کی نشانیوں پر دھیان دینا ہے، اپنی آنکھوں کی بصارت اور قلب کی بصیرت سے تعقّل اور تفقّہ کو ایسے پروان چڑھانا کہ رب کو جان پہچان کر اس کی صحیح صحیح اطاعت و فرمابرداری کر سکو۔ اس میں معاشرے کے دانش مندوں کی فکر و عرفان کے لیے سامانِ رُشد و ہدایت ہے۔

آیت نمبر 55:

7. مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ، ماضی کے واقعات اور تاریخ کے ارتقاء کو جاننے کی طرف اشارہ کرکے انسان کو مٹی سے پیدا ہونا یاد دلایا۔

8. وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ، ان کلمات میں مذکور فعل مضارع سے متنبہ کر دیا کہ تم نے اس زمین پر ہمیشہ نہیں رہنا، حیاتِ مستعار کی مدت گزار کر واپس زمین میں بعد از موت لوٹائے جاؤ گے، زمین کے اوپر اجتماعی زندگی کے بعد تاریک یا منور قبر میں اکیلے رہنا ہے۔

9. وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ (تَارَةً أُخْرَى)، جس طرح تم پہلے زمین کے اوپر ہمیشہ نہیں رہے اسی طرح قبر میں بھی ہمیشہ کے لیے مدفون نہیں رہنا۔ اس برزخی زندگی کے بعد جب اس دُنیا کی مدتِ مقررہ پوری ہو جائے گی تو ایک بار پھر انسان کا خالق و مالک اسے قبر سے، مٹی سے باہر نکالے گا۔

اس آیت میں بھی افعال ماضی اور مضارع از ثلاثی مجرد اور مزید فیہ کا استعمال ماضی، حال اور مستقبل کے واقعات بیان کرتا ہے اور نظام کائنات میں جمود نہیں بلکہ تحرُّک، تجدُّد، تمدُّد، تصرُّف اور تقدّم کے راز منکشف کرتا ہے۔

میرے ذہن میں یہ چند نکات آئے ہیں۔ کیا آپ ان آیات کے متعلق کوئی مفید بات کا اضافہ کرنا پسند کریں گے؟