قرآنیات
ابراہیمی مذاہب کا فتنہ

✍️ پٹیل عبد الرحمٰن مصباحی، گجرات (انڈیا)

مَا كَانَ اِبْرٰهِیْمُ یَهُوْدِیًّا وَّ لَا نَصْرَانِیًّا وَّ لٰـكِنْ كَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًاؕ-وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ() اِنَّ اَوْلَى النَّاسِ بِاِبْرٰهِیْمَ لَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ وَ هٰذَا النَّبِیُّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاؕ-وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ.
ترجمہ : ابراہیم نہ یہودی تھے نہ نصرانی بلکہ ہر باطل سے جدا مسلمان تھے اور مشرکوں سے نہ تھے۔ بے شک سب لوگوں سے ابراہیم کے زیادہ حق دار وہ تھے جو ان کے پیرو ہوئے اور یہ نبی اور ایمان والے اور ایمان والوں کا والی اللہ ہے۔ (آل عمران، 67-68)

تحقیق کے جدید تاریخی رویّے کے تحت اب صرف ہر مذہب کی تاریخ اور اس کی خصوصیات پر بات نہیں ہو رہی ہے بلکہ اب مختلف مذاہب کی امتزاجی حیثیت کو بھی زیر بحث لایا جا رہا ہے. آپ اسے مذاہب کے شمار کی نئی اور مختصر فہرست بھی کہہ سکتے ہیں. اس کا سادہ سا طریقہ یہ اپنایا جا رہا ہے کہ مختلف مذاہب کے مابین یکسانیت کے مراحل کا تجزیہ کیا جائے اور خاص قسم کی یکسانیت کا لحاظ کرتے ہوئے ایک عنوان دے کر انہیں اجتماعی طور پر ایک مذہبی اکائی کے طور پر متعارف کرا دیا جائے.
اس ضمن میں ایک تقسیم تو یہ بتائی جاتی ہے کہ مغرب کے ابراہیمی مذاہب اور مشرق کے دھارمِک مذاہب. اِسی کی دوسری تعبیر یہ بھی لائی جاتی ہے کہ ایک خدا کی عبادت میں یقین رکھنے والے ابراہیمی مذاہب اور متعدد خداؤں میں ماننے والے شرکیہ مذاہب. اول کے تحت اسلام، یہودیت اور عیسائیت کا شمار ہوتا ہے. دوم کے تحت ہندو، سِکھ، بودھ، جین وغیرہ شامل ہیں.
“ابراہیمی مذاہب” کی تعبیر یہودیت، مسیحیت اور اسلام کے مثلّث کو واضح کرنے کے لیے لائی جاتی ہے، جس کا منشا یہ ہے کہ یہ تینوں مذاہب ابراہیمی افکار و اعمال کے داعی ہیں اور کسی نہ کسی شکل میں ابراہیم کے خدا اور ان کے طریقہ حیات کو فروغ دیتے ہیں. مزید وضاحت کے ساتھ اِسے یوں سمجھیے کہ اسلام، عیسائیت اور یہودیت حقیقت میں تو جدا جدا مستقل مذاہب ہیں اور یہی تاریخی حقیقت بھی ہے. مگر چونکہ تینوں کے یہاں وحی کا تصور ہے، تینوں اپنے لیے کسی مقدس سرزمین کا تعین کرتے ہیں اور اس کی زیارت کو شرف مانتے ہیں، تینوں کے یہاں نبی ماننے کا کونسپٹ ہے، تینوں کا تعلق نظریاتی، علاقائی اور نسلی اعتبار سے حضرت ابراہیم سے ہے… لہٰذا تینوں کو ایک اکائی بنا کر “ابراہیمی مذاہب” کا نام دے دیا گیا.

حاصل یہ کہ موجودہ دنیا میں مذہب اور الحاد کے تصادم کے تحت ایک بہت بڑا طبقاتی تصور “ابراہیمی مذاہب” (Abrahamic Religions) کا ہے. یہ گویا مذاہب کی آپسی تقسیم کا ایک اجتماعی طبقہ یا ایک مرکّب اکائی ہے. مثلاً الحاد کے مقابلے میں مذہبی اجتماعیت؛ چاہے آسمانی کتاب مان کر ہو چاہے بت پرستی کے ذریعہ. پھر اس میں ایک اور اجتماعیت اہل کتاب کی؛ جس کا ایک بڑا نمائندہ گروہ توریت، انجیل اور قرآن ماننے والوں کا. اس اعتبار سے اسلام بھی گویا اسی کتابی اجتماعیت کی ایک اکائی ہے جسے ملا کر “ابراہیمی مذاہب” کہا جا رہا ہے.

عرب دنیا میں دبئی سے لے کر سعودی تک اس اصطلاح کا اچھا خاصا اثر دیکھا جا سکتا ہے، بلکہ عرب ممالک کے درمیان اسرائیل کو تسلیم کرنے کی ہوڑ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے. دبئی نے باقاعدہ چرچ، مسجد اور یہودی مندر کو ایک ساتھ تعمیر کرانے کا پلان 2019 میں لانچ کیا جس پر مسلسل کام جاری ہے. رابطہ عالم اسلامی(سعودی) کے سیکرٹری جنرل محمد بن کریم العیسیٰ سے لے کر بر صغیر کے ڈاکٹر طاہر القادری تک اپنے بیانات کے ذریعے ابراہیمی مذاہب کی اصطلاح کو کسی نہ کسی شکل میں تعاون فراہم کر رہے ہیں. جدید تعلیمی اداروں میں بیٹھا سیکولر پروفیسروں کا اچھا خاصا طبقہ اس تثلیثی چہل پہل کی افادیت پر زور دیتا ہوا نظر آتا ہے. یہ در اصل اسی جدید تحقیقی رویے کا نتیجہ ہے جس کا ہم ذکر کر رہے ہیں. اس جدید اندازِ تطبیق کو اگر “اکبر شاہی دین الٰہی” کا نیا ورژن کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا.

فی زمانہ دنیا بھر میں “ابراہیمی مذاہب” کے عنوان سے قائم ہوتی ایک عجیب و غریب رائے یا ایک مخلوط اصطلاح کا علمی، فکری اور معاشرتی سطح پر انکار کرنا اہل اسلام کی اہم ذمہ داریوں میں سے ایک ہے. قرآن نے ابتداءً ہی بہت واضح انداز میں اس قسم کی بے بنیاد اجتماعیت کی مکمل نفی فرما دی ہے. اگر اس قسم کا اشتراک؛ ممکن یا کم از کم وقتی طور پر درست ہوتا؛ تو ہجرت کے بعد مدینہ کے یہود و نصاریٰ سے کر لیا جاتا، بالخصوص تب جب کہ وہ خود بھی اپنے آپ کو “ابراہیمی” قرار دے رہے تھے اور اہل اسلام کو بھی قدس کے رخ پر عبادت کرنے کی وجہ سے تحسین کی نظر سے دیکھتے تھے…. مگر ہجرت کے بعد نئی سرزمین پر ہر قسم کی تعاونی ضرورت در پیش ہونے باوجود تحویلِ قبلہ کے ذریعے نہ صرف یہ کہ عبادت میں اہل اسلام کو ممتاز کر دیا گیا بلکہ کسی نبی کی نسل سے ہونے یا کسی آسمانی کتاب پر ایمان رکھنے یا انبیاء میں سے کسی بڑے نبی کو ماننے جیسے تمام ما بہ الاشتراک امور کو اتحاد کی بنیاد بنانے کی تا ابد نفی کر دی گئی.

سورہ آل عمران کا یہ رکوع کلی طور پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نظریاتی بنیادوں کی وضاحت کرتا ہے. اس لحاظ سے اسے رکوعِ ابراہیمی بھی کہہ سکتے ہیں. یہی ایک رکوع؛ تاقیامت پیدا ہونے والی ابراہیمی مذاہب جیسی مخلوط و غیر شرعی اصطلاحات کی بنیادیں علمی و عملی طور پر ہلانے کے لیے کافی و وافی ہے.

(قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَآءٍۭ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰهَ وَ لَا نُشْرِكَ بِهٖ…..الخ) اصل کلام یہاں سے شروع ہوتا ہے کہ اہل کتاب کو مشترکہ کلمہ کی طرف دعوت دی جاتی ہے. آؤ! اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو اور اللہ کے سوا آپس میں ایک دوسرے کو ربّ نہ بناؤ. یعنی جنہوں نے خواہشات کی پیروی میں آسمانی کتابوں میں تحریف کر دی ان کی محبت میں اپنی عاقبت خراب نہ کرو. یعنی رکوع کی پہلی ہی آیت میں نقطہ اتحاد و افتراق دونوں کو واضح کر دیا گیا کہ اگر تم اللہ کو ماننے کے دعوے دار ہو تو آؤ ایسا مان کر ہم سے اتحاد کر لو جیسا آخری پیغمبر فرما رہے ہیں. اور اگر یہ قبول نہیں تو تمام تر ظاہری یکسانیت کے باوجود اہل اسلام اور اہل کتاب کے درمیان اتنا ہی فاصلہ رہے گا جتنا کہ اہل اسلام اور اہل شرک کے درمیان ہے.

(یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ….الخ) پھر ان کے ایک دعویٰ پر تفصیلی کلام کا آغاز ہوتا ہے. اہل کتاب اِس بات کے دعوے دار ہیں کہ ہم ابراہیم کے وارث ہیں اس لیے کہ جناب ابراہیم یہودی و عیسائی تھے. یہ گویا آج کل والے “ابراہیمی مذاہب” کے دعوے کا نقطہ آغاز ہے. اس پر جواب کی شروعات یوں ہوتی ہے کہ تم ابراہیم کے وارث کیسے ہو سکتے ہو؟ یا ابراہیم تمہارے مذہب پر کیسے ہو سکتے ہیں جب کہ توریت اور انجیل ابراہیم کے بعد نازل ہوئی ہیں. نہ تو توریت میں انہیں یہودی کہا گیا نہ ہی انجیل میں ان کے عیسائی ہونے کا قول موجود. پھر کیسے تم انہیں اپنی مسخ شدہ یہودیت و عیسائیت کا نمائندہ قرار دیتے ہو؟! یعنی جواب میں ان ہی کی کتاب ان کے سامنے رکھ دی گئی اور وہ اس پر ششدر رہ گئے. آج بھی قرآن کا یہ چیلنج جوں توں باقی ہے.

(هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ حَاجَجْتُمْ فِیْمَا لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ… الخ) پھر اہل کتاب کو ان کی عادتِ بد یاد دلا کر ان سے کہا جا رہا ہے کہ تمہاری اپنی حالت تو اس قدر تجاہل کی ہے کہ جس آخری نبی کی آمد کا تمہیں علم تھا اور ان کی صفات کو تم اپنے بیٹوں کی طرح جانتے تھے ان کے بارے میں بھی تم نے بے جا بحث کا دروازہ کھولا اور بالآخر منکروں میں سے ہوئے، تو پھر ابراہیم جن کے بارے میں توریت و انجیل میں وہ تفصیلی بیان بھی نہیں، نہ ہی تم ان کے اوصاف سے باخبر ہو، ان کے حوالے سے کیسے درست ہو سکتے ہو؟ جب تمہاری حالت؛ علم والی جگہ پر وہ ہے تو لا علمی کے باوجود تم ابراہیم کی یہودیت و نصرانیت کے کیسے دعوے دار بن بیٹھے؟ ذرا غور تو کرو!

(مَا كَانَ اِبْرٰهِیْمُ یَهُوْدِیًّا وَّ لَا نَصْرَانِیًّا وَّ لٰـكِنْ كَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًاؕ… الخ) اگلی آیت میں اصل دعوے کی واضح تردید فرما دی گئی اور اعلان ہوا کہ ابراہیم نہ تو یہودی تھے نہ نصرانی، بلکہ وہ تو ہر باطل سے جدا اور صرف اللہ کے حضور سر جھکانے والے (مسلم) تھے، شرک سے ان کا دور کا بھی کوئی واسطہ نہ تھا. تو پھر اے اہل کتاب! تم تحریفِ کتاب کے باطل عمل اور ابنیت کے شرک زدہ کام میں مبتلا ہو کر باطل اور شرک سے پاک ابراہیم کے وارث کیسے ہو سکتے ہو؟! یہی رد ہے آج کل کے ملاؤں، پروفیسروں اور نام نہاد لبرل مسلمانوں کا جو دانستہ طور پر ابراہیم علیہ السلام کا نام لے کر شرکیہ عقائد و اعمال میں مبتلا جماعتوں کو اسلام کی مقدس حدود میں گھسیڑنا چاہتے ہیں یا نادانستہ طور پر اسلام کے شفاف نظریہ توحید کی تلویث پر آمادہ ہیں. یہ در اصل ابراہیمی مذاہب جیسے ہر باطل مرغوبہ کی واضح تردید ہے.

(اِنّ اَوْلَى النَّاسِ بِاِبْرٰهِیْمَ…… الخ) اس کے بعد کی آیت ابراہیم کے سچے وارثوں کے تعارف پر مشتمل ہے. ابراہیم کے سچے وارث تو وہ تھے جنہوں نے ان کا کلمہ پڑھ کر صرف اللہ کی عبادت کی، کسی کو اس کا بیٹا یا شریک نہ بنایا. ان کا زمانہ گزر جانے کے بعد آج کے دور میں ابراہیم کے سچے وارث یہ نبی (محمد ﷺ) ہیں جو صرف ایک اللہ کی عبادت کی طرف بلاتے ہیں اور اِن کے ساتھ وہ لوگ وارث ہیں جو اِن کی دعوت پر ایمان لاتے ہیں. اللہ؛ ایسے مومنوں کا مددگار ہے، بیٹا مان کر شرک کرنے والوں یا کتاب بدل کر کفر کرنے والوں کا نہیں. لہٰذا جو آخری پیغمبر حضرت محمد ﷺ کا کلمہ پڑھ کر جناب ابراهيم کے سچے وارث ہوئے ہیں انہیں چاہیے کہ فکرِ ابراہیمی پاسداری کرتے ہوئے ہر شرکیہ نظریہ سے منہ موڑ لیں، اگر چہ وہ ابراہیم علیہ السلام کے نام ہی سے پیش کیا جا رہا ہو.

(وَدَّتْ طَّآىٕفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ یُضِلُّوْنَكُمْؕ… الخ) یہ آیت بتا رہی ہے کہ اہل کتاب کا ایک گروہ وہ ہے جو اہل اسلام کو عیسائی یا یہودی بنا کر انہیں گمراہ کرنا چاہتا ہے، حالاں کہ وہ گروہ یہ شعور نہیں رکھتا کہ خود گمراہ ہے تو جسے وہ اپنی طرف بلائے گا وہ بھی گمراہی میں مبتلا ہو کر بربادی مول لے گا. یہی گمراہی کی طرف بلانے والا پرانا کام اب “ابراہیمی مذاہب” کے عنوان کے تحت کیا جا رہا ہے. جب وہ گمراہی تھی تو یہ بدرجہ اولی گمراہی ہے.

(یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ….. الخ) گذشتہ آیت میں جاہل اہل کتاب کی نادانی کا ذکر تھا، یہاں باشعور اہل کتاب کی ناعاقبت اندیشی کا بیان ہو رہا ہے کہ آخری پیغمبر اور ان کے ماننے والے ہی ابراہیم کے سچے وارث ہیں یہ جاننے کے باوجود تم انکاری ہو کر کفر میں مبتلا ہو. یہ اللہ کی آیتوں سے کھلا ہوا انحراف نہیں تو اور کیا ہے.!!!

(یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَلْبِسُوْنَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ…. الخ) رکوع کی آخری آیت میں حضور ابراہیم علیہ السلام کے نظریہ توحید کا بیان پھر آب و تاب کے ساتھ کیا جا رہا ہے. اے اہل کتاب! یہود و نصاریٰ! کیوں سب کچھ جاننے کے باوجود اپنے متبعین کے شرک پر مشتمل باطل نظریات کو ابراہیم کے توحید سے لبریز بر حق نظریہ میں ملا کر التباس کا ماحول پیدا کر ہے ہو؟ حالانکہ تم بخوبی جانتے ہو کہ ابراہیم کے سچے وارث اہل اسلام ہیں اور جن شرکیہ نظریات کے تم پیروکار ہو وہ ابراہیمی فکر سے بالکل بھی میل نہیں کھاتے.

رکوع مکمل ہوا اور ابراہیمی فکر کے توحیدی خد و خال روز روشن کی طرح عیاں ہو گئے. نہ کسی نام نہاد مُلا کے لیے گنجائش بچی نہ کسی مزعومہ پروفیسر کو مجال کلام. ابراہیمی مذاہب کے فتنے کا بھرم کھل گیا اور اسلام کا امتیاز و اختصاص مزید تقویت کے ساتھ آشکار ہو گیا. و للہ الحمد
19.04.1444
15.11.2022